از:- محمد قمر الزماں ندوی
مدرسہ نور الاسلام موئی کلاں کنڈہ پرتاپگڑھ
معاشرتی اور اجتماعی زندگی کی تعمیر محض الفاظ اور دعوؤں سے نہیں ہوتی، بلکہ اصولوں، احتیاطوں اور ذمہ داری کے احساس سے ہوتی ہے۔ انسانی سماج میں اطلاعات اور خبروں کا تبادلہ ایک فطری عمل ہے، مگر ان خبروں کو کس انداز میں قبول کیا جائے، یہ وہ بنیادی سوال ہے، جس پر کسی بھی معاشرے کی صحت اور بقا کا انحصار ہے۔ اگر خبر سننے والا بغیر تحقیق کے ہر بات کو سچ مان لے تو نہ صرف انفرادی سطح پر غلط فہمیاں جنم لیتی ہیں بلکہ اجتماعی سطح پر فساد، بداعتمادی اور نقصان کا دروازہ بھی کھل جاتا ہے۔
اسی حساس اور اہم پہلو کی طرف قرآن مجید نے نہایت واضح انداز میں رہنمائی فرمائی ہے۔
اے ایمان والو ، اگر کوئی فاسق شخص تمہارے پاس کوئی خبر لائے تو تم اچھی طرح تحقیق کر لیا کرو ، کہیں مبادا ایسا نہ ہو کہ تم کسی گروہ کو نادانی سے کوئی نقصان پہنچا دو ، پھر تم کو اپنے کیے پر پچھتانا پڑے ۔(سورہ الحجرات)
سورہ الحجرات میں بیان کردہ اصولِ تحقیق دراصل ایک مکمل سماجی ضابطۂ اخلاق کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس آیت میں اہلِ ایمان کو ہدایت دی گئی ہے کہ اگر کوئی غیر معتبر شخص خبر لے کر آئے تو اس کی اچھی طرح تحقیق کر لی جائے، کہیں ایسا نہ ہو کہ لاعلمی میں کسی کو نقصان پہنچا دیا جائے اور بعد میں ندامت کا سامنا کرنا پڑے۔
یہ ہدایت محض ایک مذہبی حکم نہیں، بلکہ ایک آفاقی سماجی اصول ہے۔ روزمرہ زندگی کے تجربات اس حقیقت کی گواہی دیتے ہیں کہ اکثر خبریں ایک سے دوسرے تک پہنچتے ہوئے اپنی اصل شکل کھو دیتی ہیں۔ پیغام رسانی کے اس عمل میں نہ صرف الفاظ بدل جاتے ہیں، بلکہ سیاق و سباق بھی گم ہو جاتا ہے۔ نتیجتاً ایک معمولی بات ایک سنگین مسئلہ بن جاتی ہے اور سننے والا حقیقت جانے بغیر ردعمل ظاہر کر دیتا ہے۔
مزید برآں، ہر خبر کا ایک پس منظر، ایک خاص موقع اور ایک مخصوص تناظر ہوتا ہے۔ جب کوئی شخص اس پس منظر کو نظر انداز کر کے محض الفاظ نقل کرتا ہے تو بات اپنی اصل معنویت کھو دیتی ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں غلط فہمیاں جنم لیتی ہیں اور تعلقات میں دراڑیں پڑتی ہیں۔ بعض اوقات یہی غلط فہمیاں بڑے تنازعات اور ناقابلِ تلافی نقصانات کا سبب بن جاتی ہیں۔
صحافتی دنیا میں بھی یہی اصول بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ ایک ذمہ دار صحافی کبھی بھی کسی خبر کو بغیر تصدیق کے شائع نہیں کرتا، کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اس کی ایک سطر سینکڑوں بلکہ ہزاروں افراد کے خیالات اور رویوں کو متاثر کر سکتی ہے۔ اگر تحقیق کا یہ اصول نظر انداز کر دیا جائے تو خبر نہیں بلکہ افواہ جنم لیتی ہے، اور افواہ ہمیشہ تباہی کا پیش خیمہ ہوتی ہے۔
بدقسمتی سے آج کے دور میں، جہاں سوشل میڈیا نے اطلاعات کی ترسیل کو بے حد تیز کر دیا ہے، وہیں تحقیق کا عنصر کمزور پڑتا جا رہا ہے۔ لوگ بغیر تصدیق کے خبریں آگے بڑھا دیتے ہیں، محض سنی سنائی باتوں پر رائے قائم کر لیتے ہیں اور بعض اوقات شدید ردعمل بھی ظاہر کر دیتے ہیں۔ یہ طرزِ عمل نہ صرف غیر ذمہ دارانہ ہے بلکہ معاشرتی ہم آہنگی کے لیے خطرناک بھی ہے۔
ایک مہذب اور باشعور معاشرے کا تقاضا ہے کہ ہر فرد اپنے اندر تحقیق اور احتیاط کا مزاج پیدا کرے۔ کسی بھی خبر کو سننے کے بعد فوری ردعمل دینے کے بجائے توقف اختیار کیا جائے، خبر کے ماخذ کو جانچا جائے اور ممکن ہو تو مختلف ذرائع سے اس کی تصدیق کی جائے۔ اگر تحقیق ممکن نہ ہو تو بہتر یہی ہے کہ اس خبر کو نظر انداز کر دیا جائے اور اس کی بنیاد پر کوئی رائے یا فیصلہ قائم نہ کیا جائے۔
یہ اصول نہ صرف دوسروں کے حقوق کے تحفظ کے لیے ضروری ہے بلکہ خود انسان کی عزتِ نفس کے لیے بھی اہم ہے۔ کیونکہ بغیر تحقیق کے کیے گئے فیصلے اکثر انسان کو شرمندگی اور ندامت کے سوا کچھ نہیں دیتے۔ ایک باشعور فرد وہی ہے جو سننے اور ماننے کے درمیان تحقیق کی ایک مضبوط دیوار قائم رکھے۔
آخرکار، یہ کہا جا سکتا ہے کہ تحقیق کے بغیر خبر کو قبول کرنا اندھیرے میں تیر چلانے کے مترادف ہے۔ ایک ذمہ دار فرد اور ایک مہذب معاشرہ اسی وقت تشکیل پاتا ہے جب اس کے افراد سچائی تک پہنچنے کے لیے سنجیدگی، دیانت اور تحقیق کو اپنا شعار بنا لیں۔ یہی وہ راستہ ہے جو نہ صرف غلطیوں سے بچاتا ہے بلکہ اعتماد، انصاف اور ہم آہنگی پر مبنی ایک مضبوط سماج کی بنیاد بھی فراہم کرتا ہے۔