از:- محمد شہباز عالم مصباحی
ایڈیٹر ان چیف النور ٹائمز
عید الفطر صرف ایک تہوار نہیں بلکہ پیغام ہے خوشی، اخوت اور وحدت کا۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہم ایک ملت ہیں اور ہمیں ایک دوسرے کے ساتھ محبت، اخوت اور اتحاد کے ساتھ جینا ہے۔ مگر آج، جب ہندوستانی مسلمان اپنی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں، ہمارے لیے یہ عید ایک نئی سوچ، نیا شعور اور ایک نئی حکمت عملی اپنانے کا پیغام لے کر آئی ہے۔
ہندوستان میں مسلمانوں کے لیے حالات روز بروز مشکل ہوتے جا رہے ہیں۔ بی جے پی اور آر ایس ایس کی حکومتوں کے زیر سایہ، مسلمانوں کے وجود کو چیلنج کیا جا رہا ہے۔ نماز اور آذان پر جگہ جگہ پابندی لگائی جا رہی ہے، اوقاف کی زمینوں پر قبضہ کیے جانے کی سرکاری منصوبہ بندی چل رہی ہے، جا بجا ہجومی درندے گھوم رہے ہیں جو بے قصور مسلمانوں کو ظلم و ستم کا نشانہ بنا رہے ہیں، دھرم سنسدوں سے با ضابطہ مسلمانوں پر حملے کرنے کے لیے بر انگیختہ کیا جا رہا ہے، ہر بڑی مسجد کے نیچے مندر تلاش کیے جا رہے ہیں اور ہمیں کہا جا رہا ہے کہ ہم باہر سے آئے ہیں، لہٰذا ہمیں اب یہ بتائیں گے کہ ہمیں کس طرح جینا ہے۔ اس ظالمانہ سوچ کی پشت پر عدلیہ، انتظامیہ، مقننہ اور میڈیا سبھی ہیں۔
یہ حالات تقاضا کرتے ہیں کہ ہم اپنی بقا کے لیے خود آگے آئیں۔ محض جذباتی نعروں سے کچھ نہیں ہوگا بلکہ ہمیں ایک پائیدار حکمت عملی اپنانی ہوگی۔ اس عید پر ہمیں اپنے ملی اتحاد اور قومی یکجہتی کا عزم کرنا ہوگا تاکہ ہم بحیثیت قوم، منظم ہو کر اپنی شناخت، اپنے حقوق اور اپنے مستقبل کا تحفظ کر سکیں۔
اتحاد کے بغیر کامیابی ممکن نہیں:
ہم دیکھ رہے ہیں کہ قوم مسلم مختلف گروہوں میں بٹی ہوئی ہے، ہر طرف انتشار اور افتراق کا عالم ہے۔ یہ تفرقہ ہماری سب سے بڑی کمزوری ہے، جس کا فائدہ ہمارے مخالفین اٹھا رہے ہیں۔ ہمیں سوچنا ہوگا کہ جب دشمن ہمارے خلاف متحد ہو کر سازشیں کر سکتا ہے تو ہم اپنے حقوق کے لیے متحد کیوں نہیں ہو سکتے؟ ہمیں اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کرنے کے لیے:
مذہبی اور مسلکی اختلافات کو اپنے اپنے دائرے میں رکھنا ہوگا۔
باہمی اعتماد اور یکجہتی کو فروغ دینا ہوگا۔
اپنے مسائل کو حل کرنے کے لیے خود کوشش کرنی ہوگی، نہ کہ دوسروں پر انحصار کرنا ہوگا۔
مساجد اور مدارس کو اختلافات کا اکھاڑا بنانے کے بجائے اصلاح اور بیداری کا مرکز بنانا ہوگا۔
ملی یکجہتی اور باشعور زندگی کی ضرورت:
ہمارے لیے یہ وقت ہے کہ ہم اپنی صفوں کو درست کریں، چھوٹے اختلافات کو بھلا کر بڑے مقصد کے لیے ایک ہو جائیں۔ ہمیں اپنی نئی نسل کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنا ہوگا، انہیں سماجی و سیاسی شعور دینا ہوگا تاکہ وہ صرف احتجاج نہ کریں بلکہ اپنے حق کے لیے عملی میدان میں بھی قدم رکھیں۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ:
مسلمان تعلیمی میدان میں مضبوط ہوں تاکہ وہ اپنی شناخت کو برقرار رکھ سکیں۔
جدید ٹیکنالوجی اور سوشل میڈیا کا مثبت استعمال سیکھیں تاکہ اپنے خلاف ہونے والے پروپیگنڈے کا مؤثر جواب دے سکیں۔
کمیونٹی کے اندر فلاحی منصوبے شروع کیے جائیں تاکہ معاشی طور پر مستحکم بنا جا سکے۔
ملی تنظیموں کو مضبوط کیا جائے اور ان کے کردار کو مزید فعال بنایا جائے۔
سیاسی بصیرت کی ضرورت:
ہندوستانی مسلمانوں کی سب سے بڑی کمزوری یہ ہے کہ ہم سیاسی طور پر بیدار نہیں ہیں۔ ہمیں سمجھنا ہوگا کہ سیاست ہی وہ میدان ہے جہاں ہمارے مستقبل کے فیصلے ہوتے ہیں۔ اگر ہم اپنے ووٹ کی طاقت کو پہچانیں، اپنی قیادت کو مضبوط کریں اور درست حکمت عملی اپنائیں تو ہم اپنی حالت بدل سکتے ہیں۔ اس کے لیے:
مسلمانوں کو اپنے ووٹ کی اہمیت کو سمجھنا ہوگا اور صحیح امیدوار کو منتخب کرنا ہوگا۔
خود اپنی سیاسی لابیز بنانی ہوں گی تاکہ ہماری آواز دبائی نہ جا سکے۔
مسلمانوں کو عوامی مسائل پر بات کرنی ہوگی، نہ کہ صرف اپنی کمیونٹی کے مسائل پر۔
ایسے سیاستدانوں کا ساتھ دینا ہوگا جو انصاف پسند ہوں اور مسلمانوں کے ساتھ مساوی سلوک کریں۔
عملی اقدامات:
1. مساجد اور مدارس کو صرف عبادت گاہ نہیں بلکہ تربیت گاہ بنایا جائے جہاں دین کے ساتھ ساتھ سماجی، تعلیمی اور سیاسی شعور دیا جائے۔
2. سوشل میڈیا کا درست استعمال کیا جائے تاکہ جھوٹے پروپیگنڈے کا مؤثر جواب دیا جا سکے۔
3. تعلیمی اداروں پر خصوصی توجہ دی جائے تاکہ ہمارے نوجوان باشعور بن سکیں اور ہمارے حقوق کے تحفظ کے لیے کھڑے ہو سکیں۔
4. اپنے حق کے لیے قانونی جدوجہد کی جائے، صرف احتجاج اور مظاہروں پر انحصار نہ کیا جائے۔
5. مسلم قیادت کو مضبوط کیا جائے اور ایسی قیادت کو آگے لایا جائے جو قوم کے حقیقی مسائل کو سمجھتی ہو۔
6. میڈیا کے خلاف متحرک رہا جائے تاکہ یکطرفہ بیانیے کا مقابلہ کیا جا سکے اور مسلمانوں کی اصل تصویر دنیا کے سامنے لائی جا سکے۔
7. معاشی استحکام پر توجہ دی جائے تاکہ مسلمان خود کفیل بنیں اور کسی پر انحصار نہ کریں۔
نتیجہ
یہ عید ہمیں موقع دیتی ہے کہ ہم ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھیں اور مسلکی اختلافات کو اپنے اپنے دائرے میں رکھ کر ایک متحد قوم کی صورت میں ابھریں۔ اگر ہم آج بھی متحد نہ ہوئے تو آنے والی نسلیں ہمیں معاف نہیں کریں گی۔
اس عید پر ہم یہ عہد کریں کہ ہم ایک امت بن کر مکمل اتحاد کے ساتھ، اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے عملی قدم اٹھائیں گے۔ یہی اس بار کی عید کا پیغام ہے اور یہی وقت کا سب سے بڑا تقاضا۔