مفتی شمائل جیسے فارغین مدارس سے کس کو خطرہ؟

از:- ڈاکٹر سید فاضل حسین پرویز

مفتی شمائل ندوی اور جاوید اختر کے درمیان مباحثہ دنیا کے گوشہ گوشہ میں دیکھا گیا اور مفتی صاحب راتوں رات ایک طرح سے عالم اسلام کے ہیرو بن گئے۔اگرچہ کہ ان کا مقابلہ کسی دانشور سے نہیں تھا چونکہ فلمی دنیا کی شہرت کی وجہ سے جاوید اختر کو غیر ضروری اہمیت دی جاتی رہی ہے۔ ویسے بھی میڈیا ہر نا اہل کو جو نام سے مسلمان سمجھا جاتا ہے جو مذہب سے بیزار ہوتا ہے اسے اہمیت دیتا رہا ہے۔ جو خدا کے وجود کو نہیں مانتا اسے دانشور کیسے تسلیم کیا جاسکتا ہے؟ پھر بھی دنیا کو انتظار تھااس مباحثے کا۔ جاوید اختر کی بے بسی اور بیشتر معاملات میں لاعلمی موضوع سے بھٹکنے بلکہ فرار ہونے کی کوشش نے ان کی اصلیت اور حقیقت کو واضح کردیا۔ اللہ تعالی جب مذہب بیزار بالخصوص اسلام دشمن عناصر کو ذلیل کرنا چاہتا ہے تو پہلے اسے شہرت کی بلندیوں پر پہنچاتا ہے تاکہ وہ اتنا ہی رسوا اور خوار ہوسکے۔ سلمان رشدی اور تسلیمہ نسرین کی حمایت کرنے والا اور ایئر پورٹ پر ان کا استقبال کرنے والا کیسے دنیا کے نظروں سے گرتا ہے اس کا مظاہرہ دیکھنے میں آیا۔ مباحثہ کا عنوان ہی غلط تھا کہ ’خداکا وجود ہے یا نہیں؟‘ خیر…..دلائل اور منطق سے مفتی صاحب نے جاوید اختر کو چاروں خانے چت کیا۔ اس مباحثے سے ایک ایسے وقت جب دینی مدارس اور اس کے فارغین کے خلاف سازشوں کا جال بنا جارہا ہے۔ نام و نہاد ماڈرن طبقہ انہیں وہ مقام نہیں دیتا جس کے وہ مستحق ہیں۔ ایسے وقت میں مفتی صاحب نے اپنی علمی قابلیت، لب و لہجہ، صبر و تحمل سے دینی مدارس کے وقار کو بلند کیا ہے اور یہ ثابت کیا ہے کہ اصل علم تو دینی مدارس ہی سے حاصل کیا جاسکتا ہے۔ دینی مدارس کے فارغین کو ملا، مولوی، مولانا کہہ کر ان کی اہمیت گھٹانے کی کوشش کرتے ہیں حالانکہ یہ ملا اور مولوی ہی ہیں جنہوں نے مسلمانوں کا بھرم برقرار رکھا ہے۔ یہ نہ ہوں تو پھرہمارے بچوں کو قرآن و حدیث کون پڑھائیں؟اسلامی شعائر اور آداب سے کون واقف کروائیں؟ مساجد میں امامت کون کرے؟وراثت کے قانون سے واقف کون کروائے؟ اور ہمارے جنازے کون پڑھائیں؟یہ دینی مدارس ہی ہیں، جن کے فارغین نے دنیا کے گوشے گوشے میں دین کے چراغ روشن کئے، جن سے کفر و الحاد کے اندھیرے چھٹ رہے ہیں۔ اور اللہ رب العزت کے فضل و کرم سے مخالفین اسلام جوق در جوق دائرہئ اسلام میں داخل ہو رہے ہیں۔ دنیا بھر میں جن لوگوں نے یہ مباحثہ دیکھا، سنا، ان میں اکثریت ان کی تھی جو چاہے کسی بھی مذہب سے تعلق رکھتے ہوں، اللہ کے وجود پر ان کا ایقان ہے۔انہیں اس بات کا بھی اندازہ تھا کہ جاوید اختر میں کوئی دم نہیں۔ وہ اس مباحثہ سے زیادہ ایک دینی مدرسہ سے فارغ نوجوان کے مدلل انداز بیان اردو کے ساتھ ساتھ انگریزی میں مہارت، نرم دھیمے مگر مضبوط لب و لہجہ سے متاثر تھے۔ مفتی شمائل جو دار العلوم ندوۃ العلماء اور اسلامی یونیورسٹی ملیشیاء کے فارغ التحصیل ہیں۔مفتی یاسر ندیم کو اپنا رہنما مانتے ہیں جو شکاگو میں مقیم ہیں، شہرہ آفاق عالم دین ہیں، اس مباحثہ سے ایک رات قبل انہوں نے مکمل تیاری کی اور ان کی محنت رنگ لائی۔مفتی شمائل سوشل میڈیا پر ایک ہی دن میں اتنے مقبول ہوئے کہ 24 گھنٹے سے کم عرصہ میں ایک ملین فالوورس کا اضافہ ہوا۔ مفتی طارق مسعود اور سابق پاکستانی کرکیٹر اورموجودہ مبلغ اسلام ثقلین مشتاق نے بھی ان کی ستائش کرتے ہوئے خراج تحسین پیش کیا۔ اس مباحثہ سے عام مسلمانوں میں یہ احساس پیدا ہوا کہ اپنے بچوں کو اگر صحیح دینی تعلیم دی جائے تو وہ دینی اور عصری دونوں شعبوں میں ماہر ہوسکتے ہیں۔ ایسے بیشمار فارغین دینی مدارس ہمارے درمیان موجود ہیں جو دینی اور عصری تعلیم سے آراستہ ہیں اور خاموشی کے ساتھ خدمات انجام دے رہے ہیں۔

سوشل میڈیا نے دنیا کو ایک گاؤں میں بدل دیا۔ جو اس کا صحیح استعمال کر رہا ہے وہ صحیح خدمت انجام دے رہا ہے۔ ڈاکٹر احمد دیدات اورڈاکٹر ذاکر نائک نے سوشل میڈیا کے وجود میں آنے سے بہت پہلے اپنے آپ کو ساری دنیامیں منوا لیا تھا۔ احمد دیدات تو جنوبی افریقہ میں رہ گئے۔ ڈاکٹر ذاکر نائک ہندوستان کے علاوہ دنیا کے مختلف ممالک میں ادیان کے تقابلی جائزہ اور اسلام کی حقانیت کو ثابت کرتے رہے۔ انہوں نے ہر مذہب کے اسکالرس کو انہی کی مقدس کتابوں کے حوالے سے نہ صرف لا جواب کیا بلکہ اپنے دلائل کا قائل کروایا۔ان کے مباحث سے لاجواب ہوکر کئی نام و نہاد اسکالرس نے مباحث سے راہ فرار اختیار کی۔ ان کے انداز بیان نے جانے کتنوں کو اسلام کی طرف راغب کیا۔وہ ایک ایسے مقام پر پہنچ گئے تھے کہ ان سے مخالف اسلام طاقتوں کو خطرہ محسوس ہونے لگا اور پھر ان کے ساتھ کیا ہوا وہ کسی سے چھپا ہوا نہیں ہے۔ مفتی شمائل کی علمی قابلیت اور غیر معمولی شہرت سے یقینی طور پر بہت سے گروہ خائف ہوں گے۔ انہیں غیروں سے زیادہ اپنوں کی سازشوں سے خطرہ ہے۔ سوشل میڈیا پر ایک طرف ان کی تعریف کی جارہی ہے تو دوسری طرف بعض مسلم گروپ کی جانب سے جن کا تعلق مسلمانوں کے الگ الگ مسلک سے ہے‘ تنقید کی جارہی ہے اور ان کے بحث کو نامکمل ثابت کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ ذاکر نائک کے خلاف بھی سازشوں کا جال بننے والے ہمارے اپنے لوگ تھے۔ کیوں کہ ان کی دکانیں بند ہونے کے قریب تھی۔ مفتی شمائل کے لئے ان گروہوں سے خطرہ ہے جو ہے تو مسلمان‘ اللہ پر یقین رکھتے ہیں مگر انہوں نے اپنی مذہبی دکانیں چلانے کے لئے ہر وہ حربہ اور رسم اختیار کی ہے۔ جو ان میں اور کسی مشرک میں کوئی فرق باقی نہیں رکھتی۔ غلو، شرک کی ایک قسم ہے اور یہ گروہ غلو کی بنیاد پر ہی اپنی عمارت قائم کئے ہوئے ہیں۔ مسلمانوں کا ایک بڑا طبقہ ان کے ساتھ ہے۔ اس طبقہ کو صحیح اسلام سے واقف کروانا‘ انہیں مشرکانہ رسوم سے نجات دلانے کے لئے شعور پیدا کرنا جاوید اختر جیسے ملحدین سے مباحث سے زیادہ اہم ہے۔ ملحدین اور مشرکین سے اسلام کو اتنا خطرہ نہیں ہے جتنا مسلمانوں کے بھیس میں شرک کو بڑھاوا دینے والے عناصر سے در پیش ہے۔ کبھی کبھی ان مشرکانہ رسومات کو دیکھ کر ہم اپنوں اور غیروں میں کوئی فرق محسوس نہیں کرسکتے۔ ہمارے درمیان ایک گروہ ایسا بھی ہے۔ جو بعض ہستیوں سے متعلق اس قدر غلو بیانی سے کام لیتا ہے کہ گویا وہ ثابت کرنا چاہتا ہے کہ اللہ اور اس کے رسولؐ سے زیادہ اس ہستی کی اہمیت ہے (معاذ اللہ)۔ تعجب ہوتا ہے کہ ان کے عقیدتمندوں کے تعداد ہزاروں میں ہوتی ہے۔ انہیں صراط مستقیم پر لانے کے لئے کیسی محنت کرنی چاہئے، اس پر دینی مدارس اور اس کے فارغین کو غور کرتے ہوئے عملی اقدام کی ضرورت ہے۔

مفتی شمائل ہوں یا ان کے رہبر مفتی یاسر ندیم یہ بلاشبہ مثال ہیں دینی مدارس کی بہترین تعلیم اور تربیت کے لئے۔ سوال یہ ہے کہ ہزاروں طلباء ان مدارس سے فارغ ہوتے ہیں تو ان میں سے اکثر کی صلاحیتیں منظر عام پر کیوں نہیں آتیں؟ اس بات کا بھی جائزہ لینے کی ضرورت ہے کی آیا جو بیشمار دینی مدارس ہیں ان میں کس قسم کی تعلیم دی جارہی ہے؟ کیا طلبہ کو ایسی تعلیم سے آراستہ کیا جارہا ہے جو ملک کے موجودہ حالات اور چالنجس کا سامنا کر سکتے ہیں یاصرف انہیں اتنی ہی تعلیم دی جاتی ہے کہ امام و مؤذن یا عربی کے معلم بن کر رہ جائیں۔ یقینا ہر دینی مدرسہ یہ چاہے گا کہ اس کے طلباء جب فارغ ہوں تو ہر شعبہ حیات میں نہ صرف خدمت انجام دے سکیں بلکہ دینی مدارس کے وقار کو بھی قائم رکھے۔ چند مدارس ایسے ضرور ہیں جو جامعہ کے درجے تک پہنچ گئے اور انہوں نے دینی عصری تعلیم کے امتزاج سے اپنے طلبہ کو ہر دو شعبوں کے لئے کامیابی کے ساتھ تیار کرنے کی کامیاب کوشش کی گئی۔ کمپیوٹر لٹریسی سے لے کر آرٹیفیشیل انٹلیجنس کورسس کروائے جارہے ہیں، عربی کے ساتھ انگریزی میں بھی مہارت دلائی جارہی ہے۔ ویسے بھی دینی مدارس کے طلبہ عام طلبہ کے مقابلے ذہین ہوتے ہیں اور وہ ہر شعبہ میں اپنی صلاحیتوں کو منوا سکتے ہیں۔ مفتی شمائل ایسے ہی جامعات کے ترجمانی کرتے ہیں۔ یقینا بہت سے والدین اپنے بچوں کو ایسے مدارس اور جامعات میں داخلہ دلانے پر سنجیدگی سے غور کریں گے۔ اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ بیشتر عصری تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم طلبہ و طالبات موجودہ حالات سے اور سوشیل میڈیا کے ذریعہ مغربی تہذیب کے اثرات سے متاثر ہوکر دین سے دور ہو رہے ہیں۔ والدین کی نافرمانی، ڈرگس کا استعمال، عیش و عشرت کی زندگی کے لئے جرائم کا ارتکاب‘ مسلم سماج کے لئے ایک گمبھیر مسئلہ ہے۔ چونکہ دینی مدارس اسلام کے قلعہ اور ایک مہذب شائستہ جرائم سے پاک ماحول کے ضامن ہیں۔ چنانچہ اسلام دشمن طاقتیں دنیا کے ہر گوشہ میں ان مدارس کو دہشت گردی کے اڈے ثابت کرنے اور ان جامعات کے فارغین کو دہشت گرد ثابت کرنے کی سازش رچاتے ہیں۔ یہ شمائل، یاسر جیسے مفتیان اور علماء کرام کی ذمہ داری ہے کہ وہ اسلامی جامعات پر لگائے جانے والے الزامات کے داغ کو مٹانے کے لئے بھی کوشش کریں۔

جہاں تک جاوید اختر کے ناکامی کا تعلق ہے اس پر ہمیں زیادہ خوش ہونے کے بجائے اللہ کا شکر ادا کرنے کی ضرورت ہے اور کسی کا مذاق اڑانا ہمارے مذہبی اقدار کے خلاف ہے۔ ہمارا کام پیغام پہنچانا ہے، ہدایت تو دینے والا اللہ ہی ہے۔ ہوسکتا ہے کہ آج کا ملحد اور منکر خدا آنے والے دنوں میں مبلغ اسلام بن جائے۔ ایسا ہوتا رہا ہے اور ہوتا رہے گا…(ان شاء اللہ)

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔