فضیل کے حساب کا نیا صفحہ

✍🏻 ازقلم: عارف حسین۔ ایڈیٹر سیل رواں

1985 کا سفر 2015 سے گزرتا ہوا 2026 میں داخل ہو چکا ہے۔ سوال یہ نہیں کہ وقت کتنا گزر گیا، اصل سوال یہ ہے کہ "ہم نے اس وقت میں کیا کیا؟” اگر ذرا سی بھی ایمانداری کے ساتھ جائزہ لیا جائے تو ماننا پڑے گا کہ زندگی کے بے شمار سال نیند کی نذر ہو گئے، اور جو لمحے بیداری میں نصیب ہوئے وہ بھی غفلت، کوتاہی اور خود فریبی کی بھینٹ چڑھ گئے۔ ہم جیتے کم رہے، بہتے زیادہ رہے۔

آج اگر کوئی پوچھ لے کہ خوشی کس بات کی ہے تو کسی فلسفیانہ حیلے کے بغیر اعتراف کرنا پڑے گا کہ زندگی کے تماشوں نے خوشی نہیں، "غموں ہی میں اضافہ کیا ہے”۔ شاید اسی داخلی خلا کو بھرنے کے لیے ہم خوشیوں کے مصنوعی بہانے تراشتے ہیں، اور اسی لیے چند مخصوص دن طے کر لیے گئے ہیں تاکہ کم از کم چند ساعتوں کے لیے حقیقت سے فرار ممکن ہو سکے۔

ہپی نیو ایئر بھی اسی فرار کا ایک نام ہے: ایک سال کے گزرنے کا ملال، اور دوسرے سال کے آنے کی خوش فہمی۔
حالانکہ سچ یہ ہے کہ "سال بدلتے ہیں، زندگی نہیں بدلتی” کیونکہ زندگی بدلنے کے لیے محض تاریخ نہیں، ارادہ درکار ہوتا ہے۔

آج رات کھانے کے دسترخوان پر 2026 کی آمد کا ذکر چھیڑا تو بچوں کی آنکھوں میں ایک الگ سی چمک آ گئی۔ بڑے بیٹے کی نگاہیں بار بار چھوٹے کی طرف اٹھ رہی تھیں، اور اشاروں ہی اشاروں میں کوئی منصوبہ ترتیب پا رہا تھا۔ مجھے دیر نہ لگی سمجھنے میں کہ یہ سب اسی شور و ہنگامے کی تیاری ہے جو ایسے موقعوں پر روایت کا درجہ اختیار کر چکا ہے۔ میں نے بات کا رخ بدلتے ہوئے کہا:
“کل نیا سال ضرور آئے گا، مگر تمہیں کیسے معلوم ہوگا کہ نیا سال آ گیا ہے؟ صبح ہوگی، تم چائے مانگو گے، امی سے پانچ روپے لینے کی ضد کرو گے، عمیر اسکول نہ جانے پر روئے گا—جیسا کہ وہ روز کرتا ہے—اور تم اسکول سے بچنے کی تدبیریں سوچو گے۔ یعنی جو کچھ ہر دن ہوتا ہے، وہی کل بھی ہوگا۔ اگر سب کچھ ویسا ہی رہے تو نیا سال آخر ہے کیا؟”

اسی لمحے چھوٹے بیٹے فضیل نے خوشی سے ہاتھ لہراتے ہوئے کہا: "اب تو میں سات سال کا ہو گیا ہوں!”

اس کی آنکھوں میں عمر بڑھنے کی معصوم چمک تھی۔
میں مسکرایا اور کہا: ‘پاپا! تم سات کے ہو گئے، اور میں ایک سال اور کم ہو گیا۔”

یہی زندگی کا سب سے تلخ اور ناقابلِ انکار حساب ہے۔ بچوں کے لیے عمر کا بڑھنا خوشی اور فخر کی علامت ہوتا ہے، جبکہ بڑوں کے لیے وہی اضافہ "مہلت کے گھٹنے کا اعلان” بن جاتا ہے۔ فضیل کے لیے سات سال مکمل ہونا ایک کامیابی ہے، اور میرے لیے ایک اور سال کا خاموشی سے نکل جانا—بغیر کسی نمایاں کامیابی کے۔

اسی لمحے نئے سال کا اصل مفہوم واضح ہوا۔ نیا سال سب کے لیے ایک سا نہیں ہوتا۔ کسی کے لیے امکانات کا اضافہ، کسی کے لیے باقی وقت کی یاد دہانی، کسی کے لیے خوابوں کی ابتدا، اور کسی کے لیے "حسابِ نفس کی تنبیہ”۔

بچے اس لیے پرجوش ہوتے ہیں کہ ان کے سامنے ایک لمبا راستہ پڑا ہوتا ہے۔ اور بڑے اس لیے خاموش ہو جاتے ہیں کہ پیچھے مڑ کر دیکھنے پر سوال زیادہ نظر آتے ہیں، جوابات کم۔ اسی لیے بچے نئے سال پر تالیاں بجاتے ہیں، اور بڑے مسکراتے ہوئے بھی اندر ہی اندر وزن محسوس کرتے ہیں۔

سو نیا سال نہ کوئی پرتکلف جشن ہے، نہ آتش بازی کا تماشا، نہ شور و غل۔ یہ دراصل "عمر کے حساب کتاب کا نیا صفحہ” ہے۔ جہاں بچے گنتی بڑھاتے ہیں، اور بڑے جانتے ہیں کہ ہر بڑھتی ہوئی گنتی اصل میں ایک کمی کا خاموش اعلان ہے۔

اگر کل بھی آج جیسا ہی گزرے، تو نیا سال محض کیلنڈر کی ایک بے معنی تاریخ بن کر رہ جائے گا۔ اور اگر ہم نے خود کو بدلنے کا ارادہ نہ کیا—تو 1985 ہو یا 2026، سب ایک ہی دن کا تسلسل ہیں۔

البتہ اگر ہم نے خود کو بدلنے کا ارادہ کر لیا—چاہے وہ ارادہ کتنا ہی معمولی کیوں نہ ہو—تو بغیر کسی شور، بغیر کسی جشن کے بھی نیا سال واقعی نیا اور بامعنی ہو سکتا ہے۔

فرق صرف یہی ہے:بچے اس حقیقت پر خوش ہوتے ہیں،اور بڑے اسے سمجھ کر بھی خاموش رہتے ہیں۔

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔