✍ جلیل القاسمی
نائب قاضی و استاذ مدرسہ بدرالاسلام، بیگوسرائے، بہار
اردو: تہذیب کی زبان، ورثے کی امین
اردو ہمارے ملک ہندوستان کی وہ شیریں، شستہ اور دل نواز زبان ہے جو اسی سرزمین میں پیدا ہوئی، یہیں پلی بڑھی، یہیں پروان چڑھی اور دیکھتے ہی دیکھتے مشترکہ تہذیب کی علامت بن گئی۔ اردو محض ایک زبان اور ابلاغ کا ذریعہ نہیں، بلکہ تہذیبی شعور، فکری روایت اور سماجی رشتوں کی مضبوط زنجیر ہے۔
یہ زبان دلوں کو جوڑتی ہے، ذہنوں کو وسعت عطا کرتی ہے، محبت و اخوت کے نغمے چھیڑتی اور سُر بکھیرتی ہے اور ضرورت پڑنے پر حمیتِ قومی کا پرچم بھی بلند کرتی ہے اور جذبات کو بھی مہمیز دیتی ہے۔
اردو کی سب سے بڑی خوبی اس کا وسعتِ ظرف ہے۔ یہ دوسری زبانوں کے خوبصورت لفظ کو سینے سے لگانے میں تامل نہیں کرتی۔ یہی وجہ ہے کہ اردو تعصب سے پاک اور انسانیت سے زیادہ قریب نظر آتی ہے۔ افسوس کا مقام یہ ہے کہ یہی زبان آج اپنے ہی گھر آنگن میں اجنبی بنتی جا رہی ہے، مگر اس کے باوجود اس کی شیرینی، اس کی دلکشی اور اس کی شعری پرواز سے کوئی انکار نہیں کرسکتا۔
ہماری زبان، ہماری شناخت
دنیا میں کون ایسا شخص ہوگا جو اپنی مادری زبان اور اپنے وطن سے محبت نہ کرتا ہو؟ اسی لیے ہم بجا طور پر فخر سے کہتے ہیں کہ اردو ہماری شان، ہماری پہچان اور ہماری جان ہے۔
ہندوستان کی آئینی حیثیت رکھنے والی بائیس زبانوں میں اردو بھی شامل ہے، بلکہ یہ دنیا کی بڑی زبانوں میں شمار ہوتی ہے اور آج سرحدوں سے نکل کر ایک عالمی زبان کی صورت اختیار کر چکی ہے۔
اردو ہے جس کا نام ہمیں جانتے ہیں داغؔ
سارے جہاں میں دھوم ہماری زبان کی ہے
زبان کسی کی جاگیر نہیں
یہ بات ذہن نشیں رہنی چاہئے کہ زبان نہ کسی کی جاگیر ہوتی ہے اور نہ ہی کسی ایک طبقے یا مذہب کی میراث۔ ایک سے زائد زبانیں سیکھنا انسان کا حق بھی ہے اور اس کی ذہنی وسعت کی علامت بھی، زبان علم کا دروازہ بھی ہے اور روزگار کا وسیلہ بھی۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر کی یونیورسٹیوں میں زبانوں کے مستقل شعبے قائم ہیں، جہاں زبانیں سیکھ کر روزگار کے مواقع پیدا کیے جاتے ہیں۔
یہ سچ ہے کہ روزگار کے میدان میں انگریزی کو فوقیت حاصل ہے، مگر اس کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ ہم ہندی اور اردو کو جدید معاشی تقاضوں سے جوڑنے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔ نتیجتاً اردو کے سامنے امکانات کا دائرہ تنگ ہوتا چلا گیا؛ مگر اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ اردو کو بے کار یا بے مصرف سمجھ لیا جائے۔
یہ بھی سچ ہے کہ زبان کا مقصد صرف روزگار نہیں ہے، زبان انسان کو مہذب بناتی ہے اور اس کی شخصیت کو نکھارتی ہے۔
زبان کا کوئی مذہب نہیں
زبان سیکھنے سے کسی کا مذہب تبدیل نہیں ہو جاتا، کیونکہ زبان کا اپنا کوئی مذہب نہیں ہوتا۔ جیسے فرانسیسی یا جرمن زبان سیکھنے سے کوئی فرانسیسی یا جرمن نہیں بن جاتا، ویسے ہی اردو پڑھنے سے کوئی مسلمان اور ہندی پڑھنے سے کوئی ہندو نہیں ہو جاتا۔
ہندوستان کی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ مختلف مذاہب کے افراد نے اردو سیکھی، برتی اور سنواری۔ زبان کو زنجیروں میں قید نہیں کیا جا سکتا؛ نہ ہندی ہندوؤں کی زبان ہے اور نہ اردو مسلمانوں کی۔ یہی وہ شعور ہے جو سماج میں احترام اور ہم آہنگی پیدا کرتا ہے۔
اردو کٹھ ملا نہیں، تہذیب کی زبان ہے
گزشتہ دنوں یوپی میں اردو کے بارے میں جو غیر شائستہ اور غیر ذمہ دارانہ بیانات سامنے آئے، ان پر ردِعمل کے بجائے تاریخ اور تہذیب کی روشنی میں جواب دینا زیادہ مناسب ہے۔ اردو کو کسی مخصوص طبقے سے جوڑنا دراصل اس گنگا جمنی تہذیب سے ناواقفیت کا ثبوت ہے جس پر ہندوستان کی شناخت قائم ہے۔
اردو کے عظیم شاعر و ادیب جسٹس آنند نارائن ملاؔ جیسے اہلِ علم نے اردو کو اپنی مادری زبان قرار دیا اور اس پر فخر کرتے ہوئے کہا میں اپنا مذہب چھوڑ سکتا ہوں، مگر مادری زبان نہیں چھوڑ سکتا۔ منشی نول کشور، جنھوں نے اپنی پوری زندگی اردو اور فارسی زبان کو فروغ دینے میں گذاری، انھوں نے اردو اخبار ہی شائع نہیں کیا بلکہ اردو اور فارسی کی سیکڑوں کتابیں اپنے مطبع سے شائع کیں، اتنا ہی نہیں انھوں نے قرآن پاک بھی شائع کیا، رگھوپتی سہائے فراق گورکھپوری، برج نارائن چکبست، کتھا سمراٹ منشی پریم چند، راجندر سنگھ بیدی، گلزار دہلوی، پنڈت دیاشنکر نسیم، پروفیسر گوپی چند نارنگ، لتا حیا اور بے شمار دیگر اہلِ قلم اردو کے وہ روشن چراغ ہیں جن کی روشنی میں تعصب کے تمام اندھیرے مٹ جاتے ہیں۔حیرت ہے کہ معترضین بھی اردو کا سہارا لئے بغیر اردو دشمنی کا اظہار نہیں کرپاتے اور مدعی ہیں کہ اردو کو مٹادیں گے۔
اردو کو مٹا دیں گے ایک روز جہاں سے
یہ بات بھی کمبخت نے اردو میں کہی ہے
مادری زبان کی اہمیت
مادری زبان بچے کی پہلی درسگاہ ہوتی ہے۔ اسی زبان کے ذریعے وہ دنیا کو سمجھتا، اپنے جذبات کا اظہار کرتا اور سوچنے کا سلیقہ سیکھتا ہے۔ ماہرینِ تعلیم اس پر متفق ہیں کہ ابتدائی تعلیم مادری زبان میں دی جائے تو بچے کی تعلیمی اور ذہنی نشوونما زیادہ مؤثر ہوتی ہے۔
اردو زبان کے زوال کے اسباب
آج اردو کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ وہ ہمارے گھروں سے رخصت ہوتی جا رہی ہے۔ بول چال، تعلیم اور مطالعہ—تینوں سطحوں پر اس کا دائرہ سکڑتا جا رہا ہے۔ ہم نعروں میں اردو سے محبت کا اظہار تو کرتے ہیں، مگر عملی سطح پر ہماری کوتاہیاں اس کے زوال کا سبب بن رہی ہیں۔
اردو کی زبوں حالی کے ذمہ دار صرف حکومتیں نہیں، بلکہ ہم خود بھی ہیں۔ نئی نسل اردو سے ناواقف ہے تو اس کی ذمہ داری بھی ہم پر ہی عائد ہوتی ہے، کیونکہ زبان وراثت میں خود بخود منتقل نہیں ہوتی، اسے سیکھنا اور سکھانا پڑتا ہے۔
ہمارے عہد کے بچوں کو انگلش سے محبت ہے
ہمیں یہ ڈر ہے کہ مستقبل میں اردو کون بولے گا
ہماری ذمہ داریاں اور عملی حل
- 1.گھروں میں اردو بولنے اور پڑھنے کا ماحول بنایا جائے۔
- 2.ابتدائی تعلیم میں اردو کو مضبوط بنیاد فراہم کی جائے۔
- 3.اردو کو روزگار، میڈیا، ترجمہ اور ٹیکنالوجی سے جوڑا جائے۔
- 4.اردو اساتذہ کی تقرری اور تربیت پر خصوصی توجہ دی جائے۔
- 5.اردو کتابوں، رسائل اور اخبارات کی سرپرستی کی جائے۔
کاغذ کی یہ مہک، یہ نشہ روٹھنے کو ہے
یہ آخری صدی ہے کتابوں سے عشق کی
احیائے اردو کی صدا
اردو کی بقا اور احیا کسی ایک فرد یا ادارے کی ذمہ داری نہیں، بلکہ ہم سب کا مشترکہ فریضہ ہے۔ اگر اردو واقعی ہمیں عزیز ہے تو دوسروں پر بھروسہ چھوڑ کر یہ دیکھئے کہ آپ خود اردو کے لیے کیا کر سکتے ہیں۔اگر آپ کو اردو کی خدمت کرنے کا کچھ بھی موقع نہیں ہے تو کم از کم ایک دو اخبار اور چند اردو کتابیں ہی خرید کر اردو طباعت کی ہمت افزائی کیجئے۔اگر ہم نے آج اس زبان کو سہارا نہ دیا، اپنی ذمہ داری نہیں نبھائی، تو آنے والی نسلیں ہم سے یہ شکوہ بلکہ سوال کریں گی کہ
میں اپنے گھر میں آیا ہوں مگر انداز تو دیکھو
کہ اپنے آپ کو مانندِ مہماں لے کے آیا ہوں
آئیے! اردو سے محض جذباتی محبت کے بجائے عملی وابستگی اختیار کریں، تاکہ اردو کمزور نہ پڑے، صرف ماضی کی یاد نہ بنے بلکہ مستقبل کی مضبوط آواز بنے۔
سلیقے سے ہواؤں میں جو خوشبو گھول سکتے ہیں
ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جو اردو بول سکتے ہیں