از:- محمد علم اللہ
گزشتہ کئی دنوں سے ذہن میں یہ بات گردش کر رہی تھی کہ ایران کے حالات پر کچھ لکھا جائے، مگر کبھی مصروفیات آڑے آ گئیں اور کبھی حالات نے مہلت نہ دی۔ یوں یہ موضوع دل ہی دل میں سرد خانے کی نذر ہوتا رہا۔ مگر آج جب یہ خبر سامنے آئی کہ ایران کے سرکاری براڈکاسٹنگ چینل کو احتجاجیوں نے آگ لگا دی ہے، تو محسوس ہوا کہ کچھ لکھا جائے۔
ادھر میں پچھلے کئی دنوں سے برطانیہ کے اخبارات کو نہایت غور سے دیکھ رہا ہوں۔ محض سرسری نظر نہیں، بلکہ تراشے جمع کیے، اداریے پڑھے اور لہجوں کو سمجھنے کی کوشش کی۔ ٹیلی گراف، اسٹار، ٹائمز، فنانشل ٹائمز تقریباً تمام بڑے اخبارات میں ایران کو فل کوریج دی جا رہی ہے۔ صرف خبریں نہیں، بلکہ باقاعدہ اور کھلے انداز میں اداریے لکھے جا رہے ہیں۔
یہ کوریج محض اطلاع رسانی تک محدود نہیں ہے۔ یہاں صاف محسوس ہوتا ہے کہ ایک مخصوص نریشن تعمیر کیا جا رہا ہے۔ احتجاج کو آزادی کی علامت بنا کر پیش کیا جا رہا ہے اور سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ آخر کیوں نہ ان احتجاجیوں کو سپورٹ کیا جائے۔ پرسوں کے ٹیلی گراف نے تو اپنے اداریے میں باقاعدہ دلیل کے ساتھ یہ مؤقف اختیار کیا کہ ایران کے موجودہ احتجاج کو عالمی حمایت ملنی چاہیے۔
یہ سب کچھ کسی خلا میں نہیں ہو رہا ہے۔ ایران برسوں سے یورپ، خاص طور پر امریکہ اور اس سے وابستہ طاقتوں کی آنکھوں میں کھٹک رہا ہے۔ کبھی جوہری پروگرام کے نام پر، کبھی انسانی حقوق کے عنوان سے، اور کبھی جمہوریت کے نعروں کے ساتھ ایران پر دباؤ ڈالنے کی کوششیں مسلسل جاری ہیں۔ اب ایک بار پھر ایسا لگتا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کو کمزور کرنے کی ایک نئی بساط بچھائی جا رہی ہے۔
یہاں سب سے اہم سوال یہ ہے کہ اس احتجاج کی فنڈنگ کہاں سے ہو رہی ہے؟ کون ہے جو اس آگ کو ہوا دے رہا ہے؟ بظاہر یہ سوالات ابھی تشنہ ہیں، مگر اتنا واضح ہے کہ یہ محض ایک داخلی معاملہ نہیں رہا۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب کسی ملک میں احتجاج کو بیرونی طاقتوں کی پشت پناہی حاصل ہو جائے، تو اس کے نتائج عموماً عوام کے لیے خوشگوار نہیں ہوتے۔
یہ بھی پڑھیں: مایوسی کے خلاف اعلان بغاوت
ایرانی عوام شاید اس وقت جذباتی کیفیت میں ہوں، شاید وہ یہ سمجھ رہے ہوں کہ یہ سب محض ان کے حقوق کی جنگ ہے، مگر خطرہ یہ ہے کہ اصل کھیل کہیں اور کھیلا جا رہا ہو۔ ایسے تجربات مشرقِ وسطیٰ اور دیگر خطوں میں پہلے بھی دیکھے جا چکے ہیں، جہاں احتجاج نے آزادی کے بجائے بدامنی، انتشار اور طویل عدم استحکام کو جنم دیا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ یہی مغربی اخبارات، جو ایران میں احتجاج کو آزادی کا استعارہ بنا رہے ہیں، اگر اسی نوعیت کا احتجاج خود اپنے ملکوں میں ہو، تو اس کا زاویہ بالکل بدل جاتا ہے۔ وہاں اظہارِ رائے کی آزادی کے بڑے دعوے ضرور کیے جاتے ہیں، مگر قید و بند، پابندیاں اور ریاستی سختی کوئی انوکھی بات نہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ یہاں نریشن بدلا ہوا ہوتا ہے۔
یہی عالمی سیاست کا پرانا اور آزمودہ دوہرا معیار ہے۔ جہاں مفاد ہو، وہاں احتجاج جمہوریت کہلاتا ہے، اور جہاں مفاد نہ ہو، وہاں وہی احتجاج بدامنی اور سازش بن جاتا ہے۔
اصل سوال یہ نہیں کہ ایران میں احتجاج ہو رہا ہے یا نہیں، بلکہ سوال یہ ہے کہ اس احتجاج کو کس سمت میں دھکیلا جا رہا ہے، اور اس کے پیچھے کون سے ہاتھ سرگرم ہیں۔ اگر ایرانی معاشرہ اور وہاں کی قیادت نے بروقت اس نازک صورتِ حال کو نہ سمجھا، تو خدشہ ہے کہ اس کے اثرات وقتی نہیں بلکہ دیرپا اور نقصان دہ ہوں گے۔
تاریخ بار بار یہ سبق دیتی ہے کہ بیرونی نعرے، چاہے کتنے ہی دلکش کیوں نہ ہوں، اکثر اپنے ساتھ ایسی قیمت لے کر آتے ہیں جو قوموں کو دہائیوں تک چکانی پڑتی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ایران اس موڑ پر کیا فیصلہ کرتا ہے اپنی سمت خود طے کرتا ہے یا کسی اور کے بیانیے کا حصہ بن جاتا ہے۔ اللہ ایران کی حفاظت فرمائے ۔