مایوسی کے خلاف اعلانِ بغاوت

از:- سید جمشید احمد ندوی

استاذ جامعہ امام شاہ ولی اللہ اسلامیہ،پھلت

اگرآپ کسی بھی مقصد میں ناکام ہو جائیں تومایوس نہ ہوں،کیوں کہ کسی بھی کتاب میں یہ نہیں لکھاہے کہ اگر پیروں میں قیمتی جوتے نہ ہوں توآپ چل نہیں سکتے،ناکامی کامطلب رک جانا نہیں ہوتا،ناکامی کامطلب ہوتاہےکہ راستہ بدلنا ہے،منزل نہیں،اگر آج آپکے پاس بہت کچھ نہیں ہےتو بھی آپکےپاس چلنےکےلیے ہمت ضرور ہونی چاہیے،یاد رکھیے جوتے نہ ہوں تو چلتے ہوئے پاؤں دُکھتے ہیں،لیکن ہمت نہ ہوتو خواب مرجاتے ہیں۔

انسانی تاریخ دراصل حوصلے، جستجو اور مسلسل جدوجہد کی داستان ہے۔ یہ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ کامیابی کسی ایک لمحہ کا نام نہیں،بلکہ ناکامیوں کے طویل سلسلے کے بعد نمودار ہونے والی وہ روشنی ہےجو صرف اسی کونظر آتی ہےجواندھیروں میں چلنےکی ہمت رکھتاہو۔اگرانسان کسی مقصد میں ناکام ہو جائے تو یہ ناکامی اس کے سفر کااختتام نہیں، بلکہ ایک خاموش پیغام ہوتی ہے کہ راستہ بدلاجائے،سمت نہیں۔دنیا کی کوئی بھی معتبرکتاب،کوئی بھی مستند نظریہ اورکوئی بھی عظیم تجربہ یہ اعلان نہیں کرتا کہ اگرپاؤں میں قیمتی جوتےنہ ہوں توانسان چل نہیں سکتا۔
*اصل سوال جوتوں کا نہیں، چلنے کے عزم کاہے۔اصل مسئلہ وسائل کی کمی نہیں،ارادوں کی کمزوری ہے۔*

ناکامی کوہم نےاپنی سماجی نفسیات میں ایک خوفناک دیو بنادیاہے، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ ناکامی انسان کی فکری تربیت کا سب سے مؤثرمرحلہ ہوتی ہے۔جوقومیں ناکامی سے گھبرا جاتی ہیں وہ تاریخ کے کنارےبیٹھ کر صرف دوسروں کی فتوحات کاتماشادیکھا کرتی ہیں، اورجو ناکامی کو سیکھنے کا موقع سمجھتی ہیں وہی اقوام وقت کے دھارے کا رخ موڑ تی ہیں۔ تحقیق بتاتی ہے کہ انسانی دماغ سب سے زیادہ اسی وقت متحرک ہوتا ہے جب وہ مسائل، رکاوٹ اورشکست کاسامنا کررہاہو۔یہی وہ لمحہ ہوتاہےجب سوچ کے نئے در وا ہوتے ہیں،امکانات کے نئے زاویے سامنے آتے ہیں اورانسان اپنی چھپی ہوئی صلاحیتوں سے آشنا ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: عدالتی انصاف اور اظہار خیال کی آزادی پر پابندی

یہ بات بھی پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ وسائل کی کمی کبھی بھی عظیم کاموں کی راہ میں مستقل رکاوٹ نہیں بنی۔ تاریخ کے بڑے انقلابات نہ آسائشوں کے بسترپر جنم لیتے ہیں اور نہ ہی سہولتوں کے سائے میں پروان چڑھتے ہیں۔وہ تو اکثر ننگےپاؤں چلنے والوں کی ہمت،خالی ہاتھوں کے عزم اور تھکے ہوئے جسموں کے خوابوں سے جنم لیتے ہیں۔ جوتے نہ ہوں تو پاؤں دکھتے ہیں، لیکن یہی درد انسان کو یہ احساس دلاتا ہے کہ وہ زندہ ہے، چل رہا ہےاورسفر میں ہے۔اسکے برعکس اگرہمت نہ ہو تو خواب مر جاتے ہیں، اورمردہ خوابوں کے ساتھ زندہ جسم بھی محض بوجھ بن جاتے ہیں۔

علمی نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو انسانی ترقی کا دارومدار صرف مادی وسائل پر نہیں بلکہ داخلی محرکات پر ہے۔ماہرینِ نفسیات اس بات پرمتفق ہیں کہ اندرونی حوصلہ،خوداعتمادی اورمقصدسےوابستگی وہ عناصرہیں جوانسان کوغیر معمولی کار کردگی پر آمادہ کرتے ہیں۔ جب انسان یہ طے کر لیتا ہے کہ حالات جیسے بھی ہوں، وہ رکنے والا نہیں، تو پھر حالات آہستہ آہستہ اس کے لیے راستہ بنانے لگتے ہیں۔یہ کوئی شاعرانہ مبالغہ نہیں، بلکہ سماجی اور نفسیاتی تحقیق سے ثابت شدہ حقیقت ہےکہ مستقل مزاجی خودایک طاقت ہے جو وسائل کو اپنی طرف کھینچتی ہے۔

ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم ناکامی کو اپنی ذات پر حملہ سمجھ لیتے ہیں، حالانکہ ناکامی کسی فرد کی قدر کا پیمانہ نہیں بلکہ اس کے تجربے کی وسعت کا ثبوت ہوتی ہے۔ جو شخص کبھی ناکام نہیں ہوا، دراصل اس نے کبھی سنجیدگی سے کوشش ہی نہیں کی۔بڑی سوچ رکھنے والے لوگ وقتی ٹھوکر کو دائمی شکست میں تبدیل نہیں ہونے دیتے۔ وہ جانتے ہیں کہ ہر ناکامی انہیں یہ سکھانے آتی ہے کہ کون سا راستہ اختیار نہیں کرنا، اور یہی علم بالآخر انہیں درست راستے تک پہنچا دیتا ہے۔

اگر آج تمہارے پاس بہت کچھ نہیں ہے تو اس کا مطلب یہ ہرگزنہیں کہ تمہارے پاس کچھ بھی نہیں۔تمہارے پاس تمہاری سانس ہے،تمہاری سوچ ہے،تمہاراضمیرہے اور سب سے بڑھ کر تمہارے پاس ہمت ہے۔ ہمت وہ سرمایہ ہے جوخرچ کرنےسےبڑھتا ہے،بانٹنے سے مضبوط ہوتا ہے اور آزمائش میں کندن بن جاتا ہے۔ دنیا کی کوئی طاقت اس انسان کو شکست نہیں دے سکتی جو یہ فیصلہ کر لے کہ وہ حالات کا رونا رونے کے بجائے انہیں بدلنے کی کوشش کرے گا۔

انقلاب ہمیشہ نعروں سے نہیں آتا، وہ سوچ کی تبدیلی سے جنم لیتا ہے۔ جب ایک فرد یہ طے کر لیتا ہے کہ وہ مایوسی کے بجائے عمل کا راستہ اختیار کرے گا تو وہ فرد آہستہ آہستہ ایک تحریک میں ڈھل جاتا ہے۔ کام کرنے کا جوش، مقصد کے لیے بے قراری اور بہتر کل کا خواب ہی وہ ایندھن ہے جو معاشروں کوجمود سے نکال کر حرکت میں لاتا ہے۔ یہ بات ذہن نشین رہنی چاہیے کہ انقلاب کا آغاز باہر نہیں، اندر ہوتا ہے۔ اندر کی دنیا بدل جائے تو باہر کی دنیا خود بخود بدلنے لگتی ہے۔

آج کا انسان اگر اپنے حالات سے نالاں ہے، وسائل کی کمی کاشکوہ کرتاہے اور راستوں کی دشواری سے خائف ہے تو اسے تاریخ کے آئینے میں جھانک کر دیکھنا چاہیے۔ وہاں اسے ایسے بے شمار چہرے ملیں گے جن کے پاس جوتے تو نہیں تھے، لیکن حوصلہ تھا؛ جن کے پاس سہولتیں تو نہیں تھیں، لیکن یقین تھا؛ جن کے پاس طاقت تو نہیں تھی، لیکن خواب تھے۔ انہی خوابوں نے دنیا کا نقشہ بدلا،انہی قدموں نے نئی راہیں بنائیں اور انہی حوصلوں نے ناممکن کو ممکن کیا۔

پس ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم ناکامی کواپنی راہ کا کانٹا نہیں بلکہ اپنا استاد سمجھیں۔ رکنا سیکھنے کے لیے نہیں بلکہ سنبھلنے کےلیے ہو،اوربدلناراستہ ہو، مقصد نہیں۔ اگر ہم نے اپنی ہمت کو زندہ رکھا تو پاؤں کے زخم بھی ہمیں آگےبڑھنے سے نہیں روک سکیں گے۔ لیکن اگر ہمت ہاردی تو نرم قالینوں پر چلتے ہوئے بھی ہم کہیں نہیں پہنچ پائیں گے۔ زندگی کا اصل امتحان یہی ہے کہ انسان حالات کے سامنے ہتھیار ڈالتا ہے یا اپنے اندر کے خوابوں کو بچا کر آگے بڑھتا ہے۔ اور جو اپنے خوابوں کو زندہ رکھتا ہے، وہی دراصل تاریخ کو نئی سمت دیتا ہے۔

***

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔