از:- محمد قمر الزماں ندوی
مدرسہ نور الاسلام موئی کلاں کنڈہ پرتاپگڑھ
زکوٰۃ کا تیسرا اہم مصرف ،،والعاملین علیھا،، ہے ، یعنی جو لوگ اسلامی حکومت کے رجسٹرڈ اور موظف ہیں کہ وہ عوام الناس میں جو صاحب نصاب ہیں ،ان سے جاکر زکوٰۃ کی وصولی کریں ،ان لوگوں کو بھی زکوٰۃ کی رقم میں سے حق الخدمت ملے گا اور یہ لوگ بھی مصارف زکوٰۃ میں سے ایک ہیں ، ان کے لئے زکوٰۃ کی رقم لینا جائز ہے ، اگر چہ اس میں علماء کا اختلاف ہے کہ ان کو زکوٰۃ کی رقم میں سے کتنی رقم دی جائے گی، یا پھر بیت المال کے دوسرے مد میں سے ان کو حق الخدمت دیا جائے گا۔
زکوٰۃ کا یہ وہ واحد مصرف ہے جہاں صاحب نصاب زکوٰۃ کی وصولی کرنے والے کے لئے بھی زکوٰۃ کی رقم سے لینا اور فائدہ اٹھانا جائز ہے ۔ اور شریعت کی نظر میں اس میں کوئی قباحت نہیں ہے ۔
اسلامی ملک میں جہاں حکومت و انتظام مسلمانوں کے پاس ہے ،وہاں تو کوئی مسئلہ نہیں ہے کہ حکومت ایسے لوگوں کو منتخب کرے گی، جو لوگ زکوٰۃ کی وصولی کا کام کریں اور ان لوگوں کو اس مد میں سے یا دیگر مد میں سے دیا جائے۔
لیکن ہندوستان جیسے ملکوں میں جہاں اب اسلامی حکومت نہیں ہے ،یہاں مدارس اسلامیہ کے لیے زکوٰۃ کی وصولی کا کام جو لوگ کرتے ہیں ،ان محصلین و سفراء کے لیے اس میں سے لینا اور وہ بھی کس قدر لینا جائز ہوگا؟ یہ مسئلہ بہت اہم ہے ۔ ذیل کی تحریر میں ہم ٫٫و العاملین علیھا ,,کی تفسیر قدیم و جدید مفسرین کی تفسیروں سے کرائیں گے اور اس مسئلہ کا حل بھی ضمنا اس میں آجائے گا ۔ امید کہ قارئین اس تحریر کو پڑھ کر دعاؤں سے نوازیں گے اور مضمون کے مالہ و ما علیہ کو بھی سمجھنے کی کوشش کریں گے اور اپنی آراء کا بھی اظہارِ فرمائیں گے ۔ بعض لوگ سفراء اور محصلین کو بہت غلط نظر سے دیکھتے ہیں اور ان کے بارے میں نازیبا تبصرے کرتے ہیں ، حالانکہ قرآن نے خود تیسرے نمبر پر محصلین زکوٰۃ کا تذکرہ کیا ہے ۔
ہاں اگر اس راہ میں بے اعتدالی آئی ہے، تو اس کے بھی ذمہ دار ہم خود ہیں کہ ہم نے اپنا نظام چوکس نہیں بنایا اور ہر ایک کو تصدیق نامہ دینا شروع کردیا جو جہاں جب چاہے ادارہ قائم کرلے ، اور کبھی رطب و یابس میں، جس احساس ذمہ داری کے ساتھ فرق و امتیاز کرنا چاہیے نہیں کیا ، جس کا نتیجہ ہے کہ اس شعبہ میں ایماندار لوگ کو بھی مشکوک نظروں سے دیکھے جانے لگے ہیں۔
حالانکہ ابھی ایسے لوگ کم ہیں ، الحمد للّٰہ سفراء اور محصلین کی کوششوں سے ادارے چل رہے ہیں اور مالی تعاون حاصل کررہے ہیں اور انہیں بھی شریعت کے مطابق اکرامیہ اور حق الخدمت مل رہا ہے ۔ بہر حال اس تمہید کے بعد اصل مضمون پر آئیں۔
ڈاکٹر وهبة الزحيلي رح اس مصرف کے بارے میں لکھتے ہیں:
"العاملون عليها” : وهم السعاة والجباة الذين يبعثهم الإمام او السلطان لتحصيل الزكاة بالتوكيل على ذلك. روى البخاري عن أبي تحميد الساعدي قال : استعمل رسول الله رجلاً من الأسد على صدقات بنى سليم يُدعى ابن اللبية، فلما جاء حاسبه. واختلف العلماء في المقدار الذي يأخذونه على ثلاثة أقوال :
- الأول – قال مجاهد والشافعي: هو الثمن، فإن زادت أجرتهم على سهمهم، تم لهم من بيت المال، وقيل : من سائر السهمان. وهذا رأي موافق الثاني
- الثاني – قال الحنفية والمالكية: يُعطون قدر عملهم من الأجرة؛ لأنهم عقلوا أنفسهم المصلحة الفقراء، فكانت كفايتهم وكفاية أعوانهم في مال الفقراء. وإذا استغرقت كفايتهم الزكاة، فلا يزيدهم الحنفية على النصف ، ويعطون الوسط أخبر بسهمهم في الزكاة، فكيف لا يعطونه؟
- الثالث – يعطون من بيت المال، وهو قول ضعيف الدليل ؛ فإن الله سبحانه أخبر بسهمهم في الزكاة فكيف لا يعطونه؟
والذي يعطى للعامل هو بمنزلة الأجرة على العمل، فيعطاها ولو كان غنياً، لذا فإنه يعطاها ولو كان هاشمياً في رأي مالك والشافعي؛ لأن النبي بعث علي بن أبي طالب مصدقاً، وبعثه عاملاً إلى اليمن على الزكاة، وولى جماعة من بني هاشم، وولى الخلفاء بعده كذلك، ولأن العامل أجير على عمل مباح، فوجب أن يستوي فيه الهاشمي وغيره كسائر الصناعات. وقال أبو حنيفة : لا يعطى العامل الهاشمي؛ لأن سهمه جزء من الصدقة وقد قال عليه الصلاة والسلام فيما رواه مسلم عن المطلب بن ربيعة : إن الصدقة لا تحل لآل محمد، إنما هي أوساخ الناس.
ودل قوله تعالى : وَالْعَمِلِينَ عَلَيها على أن كل ما كان من فروض الكفايات كالساعي والكاتب والقسام والعاشر والعريف والحاسب وحافظ المال، يجوز للقائم به أخذ الأجرة عليه. ومن ذلك الإمامة، فإن الصلاة وإن كانت فرضاً عينياً على كل واحد، فإن التفرغ للإمامة من فروض الكفايات كما ذكر القرطي.
ودل هذا القول أيضاً على أنه يجب على الإمام أن يبعث السعاة لأخذ الصدقة و الزكاة؛ لأن بعض من يملك المال لا يعرف ما يجب عليه، وبعضهم قد يبخل، وفي الصحيحين عن أبي هريرة أن رسول الله بعث عمر بن الخطاب رضي الله عنه على الصدقات. وروى أبو داود عن أبي رافع مولى رسول اللہ ﷺ قال : ولی رسول الله ﷺ رجلاً من بنى مخزوم على الصدقة. والنص على العامل في الآية يدل على أن أخذ الزكاة إلى الإمام، ويجب دفعها له ، ولا يجزي رب المال أن يعطيها إلى المستحقين، ويؤكده قوله تعالى : خُذُ مِنْ أَمْوَلِهِمْ صَدَقَةُ التوبة : ١٠٣/٩] . لكن يعارض ذلك قوله تعالى : وَالَّذِينَ فِي أَماوَلِهِمْ حَق معَلُومٌ لِلسَّائلِ وَالْمَحْرُومِ [المعارج : ٢٤/٧٠-٢٥] والحق يجوز لمن يجب عليه دفعه للسائل والمحروم مباشرة. لذا فصل العلماء فقالوا : يفرقه بنفسه أو أن يدفعه إلى الإمام.
-إن كان مال الزكاة خفياً باطناً كالنقود فيجوز بالإجماع للمالك أن يفرقه بنفسه أو أن يدفعه إلى الإمام.
– وإن كان مال الزكاة ظاهراً كالماشية والزرع والثمر فيجب دفعه إلى الإمام في رأي الجمهور ؛ لأن حق المطالبة فيه للإمام، فيدفع إليه كالخراج والجزية. وقال الشافعي في الجديد : يجوز للمالك توزيعه بنفسه؛ لأنه زكاة كزكاة المال الخفى. –
ترجمه _______
"العاملون عليها” (زکوٰۃ کے عاملین)
"العاملون عليها” سے مراد وہ افراد ہیں جنہیں امام یا سلطان زکوٰۃ جمع کرنے کے لیے مقرر کرتا ہے، یعنی زکوٰۃ وصول کرنے والے اور حساب کتاب کرنے والے۔
صحیح بخاری میں ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ نبی اکرمﷺ نے قبیلہ اسد کے ایک شخص کو بنی سلیم کی زکوٰۃ وصول کرنے پر مقرر کیا، جس کا نام ابن اللُّتیبہ تھا۔ جب وہ واپس آیا تو نبی اکرمﷺ نے اس سے حساب لیا۔
زکوٰۃ کے عاملین کی اجرت پر اختلاف
علماء کے اس بارے میں تین اقوال ہیں کہ زکوٰۃ کے عاملین کو کتنا دیا جائے:
مجاہد اور امام شافعی رحمہما اللہ کا قول: ان کے نزدیک عاملین کو زکوٰۃ کا آٹھواں حصہ دیا جائے گا۔
اگر ان کی اجرت اس سے زیادہ ہو جائے، تو انہیں بیت المال سے مکمل کیا جائے گا، یا زکوٰۃ کے دیگر حصوں سے پورا کیا جائے گا۔
احناف اور مالکیہ کا قول:
عاملین کو ان کے کام کے مطابق اجرت دی جائے گی، کیونکہ انہوں نے اپنی خدمات غرباء کی فلاح کے لیے وقف کر دی ہیں۔
اگر ان کی ضروریات پوری کرنے کے بعد زکوٰۃ ختم ہو جائے تو احناف کے نزدیک انہیں زکوٰۃ کا نصف حصہ دیا جا سکتا ہے۔
عاملین کی اجرت بیت المال سے دی جائے گی، لیکن یہ قول کمزور ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے خود انہیں زکوٰۃ کے مستحقین میں شمار کیا ہے۔
کیا زکوٰۃ کا عامل غنی یا ہاشمی ہو سکتا ہے؟
زکوٰۃ کے عامل کو اس کی اجرت دی جائے گی، چاہے وہ مالدار ہو، کیونکہ یہ تنخواہ کے زمرے میں آتی ہے۔
امام مالک اور امام شافعی رحمہما اللہ کے نزدیک بنی ہاشم کے افراد بھی زکوٰۃ کے عامل بن سکتے ہیں، کیونکہ نبی اکرمﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو یمن میں زکوٰۃ وصول کرنے کے لیے بھیجا تھا اور خلفاء راشدین نے بھی بنی ہاشم کے افراد کو زکوٰۃ کی ذمہ داریاں دی تھیں۔
امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک بنی ہاشم کو زکوٰۃ سے کچھ نہیں دیا جائے گا، کیونکہ نبی اکرمﷺ کا فرمان ہے: "زکوٰۃ آلِ محمد کے لیے حلال نہیں، کیونکہ یہ لوگوں کی گندگی ہے” (مسلم)۔
زکوٰۃ کی وصولی کا شرعی نظام
• وَالْعَامِلِينَ عَلَيْهَا سے ثابت ہوتا ہے کہ جو بھی فرضِ کفایہ کے طور پر زکوٰۃ وصولی کا کام کرے (مثلاً زکوٰۃ وصول کرنے والا، لکھنے والا، حساب کتاب کرنے والا، تقسیم کرنے والا، وغیرہ)، وہ اس کا معاوضہ لے سکتا ہے۔
اسی اصول پر امامت بھی فرضِ کفایہ ہے، اور امام کو تنخواہ دینا جائز ہے۔
کیا زکوٰۃ امام (حکومت) كو دینا واجب ہے یا خود تقسیم کی جا سکتی ہے؟
امام (حکومت) پر لازم ہے کہ وہ زکوٰۃ وصول کرنے کے لیے عاملین بھیجے، کیونکہ کچھ لوگ واجب زکوٰۃ سے بے خبر ہوتے ہیں، اور کچھ بخل کرتے ہیں۔
- • نبی اکرمﷺ نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو زکوٰۃ وصول کرنے کے لیے بھیجا تھا، اور ایک روایت میں آیا ہے کہ رسول اللہﷺ نے بنی مخزوم کے ایک شخص کو زکوٰۃ جمع کرنے پر مقرر کیا تھا۔
- • قرآن کا حکم: "خُذْ مِنْ أَمْوَالِهِمْ صَدَقَةً” (التوبہ: 103) اس بات کی دلیل ہے کہ زکوٰۃ امام کو دینا ضروری ہے، اور فردِ واحد کو براہِ راست مستحقین میں تقسیم نہیں کرنی چاہیے۔
مخالفت میں دوسری دلیل:
• بعض علماء نے "وَالَّذِينَ فِي أَمْوَالِهِمْ حَقٌّ مَعْلُومٌ لِلسَّائِلِ وَالْمَحْرُومِ” (المعارج: 24-25) کو دلیل بنایا کہ زکوٰۃ براہ راست بھی دی جا سکتی ہے۔
اس بنا پر علماء نے تفصیل کی:
اگر زکوٰۃ پوشیدہ مال (مثلاً نقدی) ہو، تو مالک کو اختیار ہے کہ وہ خود مستحقین میں تقسیم کرے یا امام کو دے۔
اگر زکوٰۃ ظاہری مال (مثلاً مویشی، زراعت، پیداوار) ہو، تو جمہور کے نزدیک امام کو دینا واجب ہے، کیونکہ اس کی وصولی حکومت کے تحت ہوتی ہے، جیسے خراج اور جزیہ۔
امام شافعی رحمہ اللہ کے جدید قول کے مطابق، مالک خود بھی زکوٰۃ کی تقسیم کر سکتا ہے، چاہے وہ ظاہری مال ہو یا پوشیدہ۔
______________________
مولانا سید ابو الأعلى مودودی رح لکھتے ہیں:
یعنی وہ لوگ جو صدقات وصول کرنے اور وصول شدہ مال کی حفاظت کرنے اور ان کا حساب کتاب لکھنے اور انہیں تقسیم کرنے میں حکومت کی طرف سے استعمال کیے جائیں۔ ایسے لوگ خواہ فقیر و مسکین نہ ہوں، ان کی تنخواہیں بہر حال صدقات ہی کی مدد سے دی جائیں گی۔ یہ الفاظ اور اسی سورة کی آیت 103 کے الفاظ خُذْ مِنْ اَمْوَالِہِمْ صَدَقَۃً اس امر پر دلالت کرتے ہیں کہ زکوٰۃ کی تحصیل و تقسیم اسلامی حکوت کے فرائض میں سے ہے۔
اس سلسلہ میں یہ بات قابل ذکر ہے کہ نبی ﷺ نے اپنی ذات اور اپنے خاندان (یعنی بنی ہاشم) پر زکوٰۃ کا مال حرام قرار دیا تھا، چناچہ آپ نے خود بھی صدقات کی تحصیل کا کام ہمیشہ بلامعاوضہ کیا اور دوسرے بنی ہاشم کے لیے بھی یہ قاعدہ مقرر کردیا کہ اگر وہ اس خدمت کو بلا معاوضہ انجام دیں تو جائز ہے، لیکن معاوضہ لے کر اس شعبے کی کوئی خدمت کرنا ان کے لیے جائز نہیں ہے۔ آپ کے خاندان کے لوگ اگر صاحب نصاب ہوں تو زکوٰۃ دینا ان پر فرض ہے، لیکن اگر وہ غریب و محتاج یا قرض دار یا مسافر ہوں تو زکوٰۃ لینا ان کے لیے حرام ہے۔ البتہ اس امر میں اختلاف ہے کہ خود بنی ہاشم کی زکوٰۃ بھی بنی ہاشم لے سکتے ہیں یا نہیں۔ امام ابو یوسف کی رائے یہ ہے کہ لے سکتے ہیں۔ لیکن اکثر فقہاء اس کو بھی جائز نہیں رکھتے۔
______________________
مولانا امین احسن اصلاحی رح لکھتے ہیں:
وَالْعٰمِلِيْنَ عَلَيْهَا سے مراد وہ لوگ ہیں جو صدقات کی وصولی اور ان کے حساب کتاب پر حکومت کی طرف سے مامور ہوں۔ ان کی تنخواہیں اور ان کے دفاتر کے مصارف بھی اس مد سے ادا ہوں گے۔
______________________
علامہ ابن کثیر رح لکھتے ہیں
صدقہ وصول کرنے والے یہ تحصیل دار ہیں۔ انہیں اجرت اسی مال سے ملے گی۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قرابت دار جن پر صدقہ حرام ہے؟ اس عہدے پر نہیں ا سکتے۔ عبد المطلب بن ربیعہ بن حارث اور فضل بن عباس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس یہ درخواست لے کر گئے کہ ہمیں صدقہ وصولی کا عامل بنا دیجئے۔ آپ نے جواب دیا کہ محمد اور آل محمد پر صدقہ حرام ہے۔ یہ تو لوگوں کا میل کچیل ہے۔ جن کے دل بہلائے جاتے ہیں؟ ان کی کئی :: قسمیں ہیں۔ بعض کو تو اس لئے دیا جاتا ہے کہ وہ اسلام قبول کر لیں جیسے کہ حضور نے صفوان بن امیہ کو غنیمت حسین کا مال دیا تھا حالانکہ وہ اس وقت کفر کی حالت میں حضور کے ساتھ نکلا تھا۔ اس کا اپنا بیان ہے کہ آپ کی اس داد و دہش نے میرے دل میں آپ کی سب سے زیادہ محبت پیدا کر دی حالانکہ پہلے سب سے بڑا دشمن آپ کا میں ہی تھا۔ بعض کو اس لئے دیا جاتا ہے کہ ان کا اسلام مضبوط ہو جائے اور ان کا دل اسلام پر لگ جائے۔ جیسے کہ حضور نے حسین والے دن مکہ کے آزاد کردہ لوگوں کے سرداروں کو سو سو اونٹ عطا فرمائے اور ارشاد فرمایا کہ میں ایک کو دیتا ہوں۔ دوسرے کو زیادہ میرا محبوب ہے، نہیں دیتا اس جو اس سے لئے کہ ایسا نہ ہو کہ یہ اوندھے منہ جہنم میں گر پڑے۔ ایک مرتبہ حضرت علیؓ نے یمن سے کچا سونا مٹی سمیت آپ کی خدمت میں بھیجا تو آپ نے صرف چار شخصوں میں ہی تقسیم فرمایا۔ اقرع بن حابس عینیہ بن بدر، عقلمہ بن علاچہ اور زید خیر اور فرمایا میں ان کی دلجوئی کے لئے انہیں دے رہا ہوں۔ بعض کو اس لئے بھی دیا جاتا ہے کہ وہ اپنے آس پاس والوں سے صدقہ پہنچائے یا اس پاس کے دشمنوں کی نگہداشت رکھے۔
______________________
مولانا خالد سیف اللہ رحمانی صاحب لکھتے ہیں:
زکوۃ کا تیسرا مصرف عاملین ہیں ، یعنی وہ لوگ جن کو اسلامی حکومت نے مقرر کیا ہو ، اسے زکوۃ میں سے اس کے کام کی اجرت دی جائے گی ، زکوۃ کے حساب و کتاب کے عملہ کو بھی اس مد سے کام کی اجرت ادا کی جاسکتی ہے، موجودہ دور میں دینی مدارس اور دینی تنظیمیں جن لوگوں کو زکوۃ کی وصولی کے لئے مقرر کرتی ہیں، وہ اگر چہ اصطلاحی طور پر عاملین میں نہیں ہیں ، لیکن چوں کہ کام اور مقصد ایک ہی ہے ؛ اس لئے جہاں اسلامی حکومت اور بیت المال نہ ہو، وہاں ان کو بھی عاملین کے درجہ میں رکھتے ہوئے زکوۃ کی رقم سے ان کی تنخواہ ادا کی جاسکتی ہے، مفتی کفایت اللہ صاحب دہلوی کی بھی یہی رائے ہے۔ ( کفایت المفتی : ۲۶۹٫۴، جواب نمبر : ۳۴)
______________________
مفتی محمد تقی عثمانی صاحب لکھتے ہیں:
اسلامی حکومت کا ایک اہم کام یہ ہے کہ وہ مسلمانوں کے اموال ظاہرہ کی زکوۃ جمع کر کے مستحقین میں تقسیم کرے۔ اس غرض کے لئے جو اہل کار مقرر کئے جائیں، ان کی تنخواہ یا وظیفہ بھی زکوۃ سے دیا جا سکتا ہے۔
______________________
مفتی محمد شفیع عثمانی رح لکھتے ہیں:
تیسرا مصرف العملينَ عَلَيْهَا، یہاں عام 1 عاملین سے مراد وہ لوگ ہیں جو اسلامی حکومت کی طرف سے صدقات زکوة و عشر وغیرہ لوگوں سے وصول کر کے بیت المال میں جمع کرنے کی خدمت پر مامور ہوتے ہیں، یہ لوگ چونکہ اپنے تمام اوقات اس خدمت میں خرچ کرتے ہیں، اس لئے ان کی ضروریات کی ذمہ داری اسلامی حکومت پر عائد ہے، قرآن کریم کی اس آیت نے مصارف زکوۃ میں ان کا حصہ رکھ کر یہ متعین کر دیا کہ انکا حق الخدمت اسی مد زکوۃ سے دیا جائے گا اس میں اصل یہ ہے کہ حق تعالی نے مسلمانوں سے زكوة و صدقات وصول کرنے کا فرئضہ براہ راست رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سپرد فرمایا ہے، جس کا ذکر اسی سورت میں آگے آنے والی اس آیت میں ہے (آیت) خُذ من أموالهم صدقة ، یعنی وصول کریں آپ مسلمانوں کے اموال میں سے صدقہ، اس آیت کا مفصل
بیان تو آئندہ آئے گا، یہاں یہ بتلانا منظور ہے کہ اس آیت کی رو سے مسلمانوں کے امیر پر یہ فرئضہ عائد ہوتا ہے کہ وہ زکوۃ صدقات وصول کرے، اور یہ ظاہر ہے کہ امیر خود اس کام کو پورے ملک میں بغیر اعوان اور مددگاروں کے نہیں کر سکتا، انہی اعوان اور مددگاروں کا ذکر مذکور الصدر آیت میں والعملين عَلَيْهَا کے الفاظ سے کیا گیا ہے۔
انہی آیات کی تعمیل میں رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بہت سے صحابہ کرام کو صدقات وصول کرنے کے لئے عامل بنا کر مختلف خطوں میں بھیجا ہے، اور آیت مذکورہ کی ہدایت کے موافق زکوۃ ہی کی حاصل شدہ رقم میں سے ان کو حق الخدمت دیا ہے ان میں وہ حضرات صحابہ بھی شامل ہیں جو اغنیاء تھے، حدیث میں ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ صدقہ کسی غنی یعنی مال دار کے لئے حلال نہیں، بجر پانچ شخصوں کے، ایک وہ شخص جو جہاد کے لئے نکلا ہے اور وہاں اس کے پاس بقدر ضرورت مال نہیں، اگرچہ وہ شخص کہ اگرچہ اس کے پاس مال ہے مگر وہ موجودہ مال سے زیادہ کا مقروض ہے، چوتھے وہ شخص جو صدقہ کا مال کسی غریب مسکین سے پیسے دے کر خرید لے، پانچویں وہ شخص جسکو کسی غریب فقیر نے صدقہ کا حاصل شدہ مال بطور ہدیہ تحفہ پیش کر دیا ہو۔رہا یہ مسئلہ کہ عاملین صدقہ کو اس میں سے کتنی رقم دی جائے سو اس کا حکم یہ ہے کہ ان کی محنت و عمل کی حیثیت کے مطابق دی جائے گی ( احکام القرآن جصاص، قرطبی)
البتہ یہ ضروری ہوگا کہ عاملین کی تنخواہیں نصف زکوۃ سے بڑھنے نہ پائیں، اگر زکوۃ کی اصول یابی اتنی کم ہو کہ عاملین کی تنخواہیں دے کر نصف بھی باقی نہیں رہتی تو پھر تنخواہوں میں کمی کی جائے گی، نصف سے زائد صرف نہیں کیا جائے گا ( تفسیر مظہری ظہیر یہ ) بیان مذکور سے معلوم ہوا کہ عاملین صدقہ کو جو رقم مد زکوۃ سے دی جاتی ہے وہ بحثیت صدقہ نہیں بلکہ ان کی خدمت کا معاوضہ ہے، اسی لئے باوجود غنی اور مال دار ہونے کے بھی وہ اس رقم کے مستحق ہیں، اور زکوۃ سے ان کو دینا جائز ہے، اور مصارف زکوۃ کی آٹھ مدات میں سے صرف ایک یہی مد ایسی ہے جس میں رقم زکوۃ بطور معاوضہ خدمت دی جاتی ہے، اور نہ زکوۃ نام ہی اس عطیہ کا ہے جو غریبوں کو بغیر کسی معاوضہ خدمت کے دیا جائے، اور اگر کسی غریب فقیر کو کوئی خدمت لے کر مال زکوٰۃ دیا گیا تو زکوۃ ادا نہیں ہوئی۔