از:- مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی
نائب ناظم امارت شرعیہ بہار اڈیشہ و جھارکھنڈ
مفتی شمائل ندوی اور جاوید اختر کے مناظرہ اور اس کے اثرات پر ان دنوں زوروں کی بحث چل رہی ہے، مفتی شمائل ندوی کے وجود باری تعالیٰ پر جدید کلامی اسلوب کے دلائل نے جاوید اختر پر کپکپی طاری کی اور ان سے جواب نہیں بن پڑا ، سامعین نے واضح طور پر ان کی گفتگو کے لکچر ، غیر علمی اور بلا دلیل ہونے کو محسوس کیا اور فتح مفتی شمائل ندوی کے نہیں ، حق کے حصہ میں آئی ، اس مناظرہ کو دیکھ کر مجھے حضرت ابراہیم اور نمرود کے مکالمہ اور مناظرہ کی یاد آئی جو قرآن کریم میں مذکور ہے اور جس میں ہے کہ جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے نمرود کو بتایا کہ اللہ وہ ہے جو زندگی اور موت دیتا ہے، تو نمرود نے کہا کہ یہ کام تو میں بھی کرتا ہوں، حضرت ابراہیم نے محسوس کیا کہ یہ ایسے نہیں مانے گا، چنانچہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ایک دوسری دلیل دی کہ میرا رب سورج کو مشرق سے نکالتا ہے تو مغرب سے نکال کر دیکھا! تو کافر ہکا بکا رہ گیا، یہی حال جاوید اختر کا ہوا، مفتی شمائل ندوی کے استدلال سے وہ ہکا بکا رہ گیا اور اسے منہ کی کھانی پڑی۔
سوشل میڈیا پر مبارکبادی کی باڑھ سی آگئی، استقبالیہ اجلاس منعقد کیے گیے اور اس کی گونج آج تک محسوس کی جارہی ہے، ایک بڑا استقبالیہ پروگرام دیوبند میں بھی ہوا ، جس میں مفتی شمائل ندوی نے اور باتوں کے علاوہ اداراتی تعصب کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ ندوہ ، دیوبند الگ الگ نہیں ہے، دونوں ایک ہیں، دونوں کا مکتب فکر ایک ہے، یہ کہہ کر انہوں نے ان لوگوں کی زبان کو لگام دینے کا کام کیا ، جو اس جیت کے بعد ندوہ کے قصائد اس طرح پڑھنے لگے تھے جیسے دونوں کی سوچ اور کار کردگی الگ الگ ہو اور ان کی خدمات کو اداراتی گروہ بندی میں بانٹ کر دیکھا جائے، مفتی شمائل نے یہ کہہ کر اکابر ندوہ کی دیرینہ روایت اور تعلقات کو تقویت پہونچائی ہے جو دونوں کو تعصب کی نظر سے دیکھنے کے عادی ہو گیے تھے، جو سوشل میڈیا پر ان کے ندوہ کی سند کو وائرل کر کے اس مہم کو تقویت پہونچانا چاہتے تھے۔
یہ مناظرہ ٹی وی اور سوشل میڈیا پرلائیونشر ہورہا تھا، وہ آپ کے مختلف گروپ پر بھی آرہا تھا، ان میں سے بعض گروپ وہ تھے جو اپنی گائیڈ لائن کی مخالفت کسی حالت میں برداشت نہیں کرتے ، جیسے نور اردو لائبریری حسن پور گنگھٹی ، ویشالی صرف کتابوں کی پی ڈی ایف کی فراہمی کا کام آن لائن کرتا ہے، اس نے اپنے ضابطہ کو توڑ کر پورے مناظرے کو اپنے گروپ پر نشر کیا تا کہ منسلک لوگوں تک مناظرہ من و عن پہونچے اور کائنات کی اس بڑی حقیقت کے دلائل سے لوگ واقف ہوسکیں ۔
یہ بھی پڑھیں: مفتی شمائل جیسے فارغین مدارس سے کس کو خطرہ ؟
یہاں پر یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ مفتی شمائل ندوی اس مناظرہ میں اس لیے کامیاب ہو سکے کہ انہوں نے قدیم علم کلام کے ساتھ جدید کلامی اور منطقی اصول، دلائل کا مطالعہ جدید اسلوب میں کر رکھا تھا، انگریزی زبان، سائنسی طریقہ کار اور مناظرہ میں اپنی باتوں کو سلیقہ سے رکھنے کا ہنر جدید اسلوب کی رعایت کے ساتھ فنی اعتبار سے مضبوط بنیادوں پر پیش کرنے پر قادر تھے، اگر ان میں سے کسی ایک میں بھی کمی ہوتی تو ان کی پیش کش اس قدر شاندار نہیں ہو پاتی۔ یہیں سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ ہماری درسگاہوں میں علم کلام کو جدید اسلوب میں پڑھانے کی کس قدر ضرورت ہے، جو لوگ درس نظامی سے منطق کو خارج کرنا چاہتے ہیں، ان کے لیے بھی اس میں بڑا پیغام پنہاں ہے کہ آج بھی منطقی اصولوں پر استدلال ہی منکرین اسلام اور ملحدین مذاہب کو سمجھانے کے لیے کام آتا ہے، قضایا کو جوڑ کر اور حد اوسط حذف کر کے نتائج تک پہونچنے کا ہنر اسی فن سے پیدا ہوتا ہے۔
مفتی شمائل ندوی کے اس پورے مناظرہ میں دلائل کی مضبوطی کے ساتھ ان کا عالمانہ وقار اور داعیانہ کردار بھی خوب کام آیا ، ان کی حاضر جوابی ، اشتعال سے پر ہیز ، ہتک آمیز جملوں سے اجتناب نے بھی سامعین کو خاصا متأثر کیا،جاوید اختر بھی اس سے متأثر نظر آئے۔
مدارس اسلامیہ سے جو فارغین ان دنوں نکل رہے ہیں، مناظرہ کی انجمنوں میں جو لوگ شریک ہوتے ہیں ان کی تربیت بھی کرنے کی ضرورت ہے، مولانا یاسر ندیم الواجدی، مفتی شمائل ندوی اور مفتی توقیر بدر القاسمی جیسے افراد انگلیوں پر گنے جاسکتے ہیں، جب کہ علم جدید نے جو نئے چیلنج کھڑے کیے ہیں اور جو نئے فرقے وجود میں آرہے ہیں، مغربی مفکرین اور مستشرقین کے ذریعہ اسلام پر جو اعتراضات کیے جا رہے ہیں، ان کے دفاع لیے رجال کار کی تیاری اس وقت کا بڑا دینی فریضہ ہے، اب تک ہمارے یہاں جو مناظرہ کی روایت رہی ہے، وہ داعیانہ کم ، مخالفانہ زیادہ رہی ہے، جب کہ مناظرہ کو اگر دعوتی بنیادوں پر کیا جائے تو ان میں مخالفانہ انداز کے بجائے ایک داعی کے دل کی تڑپ ، کسک اور کڑھن بھی شامل ہوگی ، یہ مخالفین کے دلوں پر دستک دیں گے تو حق کی قبولیت کے لیے ان کے دل کے دروازے کھلیں گے۔