از:- عارف حسین، ایڈیٹر سیل رواں
قرآنِ کریم اللہ تعالیٰ کا وہ زندہ اور ابدی کلام ہے جو صرف انفرادی عبادت ہی نہیں بلکہ انسانی فکر، کردار اور معاشرت کی تعمیر کے لیے نازل کیا گیا ہے۔ اسی لیے نبی کریم ﷺ نے قرآن سیکھنے اور سکھانے والوں کو امت کا بہترین طبقہ قرار دیا۔ آج کے اس دور میں، جب مادّی ترجیحات اور فکری انتشار نے تعلیم کے مقصد کو محدود کر دیا ہے، کم عمری میں قرآن سے وابستگی کی خبریں محض خوشی نہیں بلکہ سماجی امید کی علامت بن جاتی ہیں۔
ایسی ہی ایک خوشخبری مجھے سوشل میڈیا کے ذریعے ملی کہ میرے محترم دوست مولانا سید عالم ندوی استاذ پروجیکٹ ہائ اسکول بائسی کی صاحبزادی جویریہ ناز سلمہا نے محض دس برس کی عمر میں حفظِ قرآن کریم مکمل کر لیا ہے۔ یہ خبر محض ایک فرد کی کامیابی نہیں بلکہ اس تعلیمی فکر کی نمائندگی کرتی ہے جس میں دین اور تعلیم کو ایک دوسرے کا متبادل نہیں بلکہ معاون سمجھا جاتا ہے۔
کم عمری میں حفظِ قرآن اللہ تعالیٰ کی خاص توفیق ہے۔ خود قرآن اعلان کرتا ہے: [ وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْآنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِنْ مُدَّكِر ]
یہ سعادت صرف آخرت کے درجات کا ذریعہ نہیں بلکہ دنیا میں بھی ذہنی یکسوئی، اخلاقی استحکام اور فکری توازن عطا کرتی ہے۔ بچپن میں قرآن سے رشتہ قائم ہو جائے تو زندگی بھر وہی کتاب انسان کی سمت متعین کرتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: قرآن پاک کا تاریخی اعجاز
اس کامیابی میں سب سے پہلے اس ننھی حافظہ کے والدین، بالخصوص "مولانا سید عالم ندوی"مبارکباد کے مستحق ہیں۔ انہوں نے یہ ثابت کیا کہ اگر گھر میں دینی سنجیدگی، تسلسل اور ترجیح واضح ہو تو ادارے کی محنت بارآور ثابت ہوتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ بچوں کی اصل تربیت گھر ہی میں ہوتی ہے؛ ادارہ اس کی تکمیل کرتا ہے، مگر بنیاد والدین ہی رکھتے ہیں۔
یہ کامیابی "مریم گرلس انٹرنیشنل اسکول، روٹا” اور اس کے ڈائریکٹر "مولانا شمیم اختر ندوی” کی فکری بصیرت کے بغیر ممکن نہ تھی۔ اگرچہ یہ ادارہ عصری تعلیم فراہم کرتا ہے، مگر یہاں دین کو رسمی یا ثانوی حیثیت نہیں دی گئی۔ قرآن کی تعلیم، اسلامی اقدار، اخلاقی تربیت اور کردار سازی کو تعلیمی نظام کا حصہ بنایا گیا ہے۔ دینی اور عصری تعلیم کا یہ امتزاج نہ صرف قابلِ عمل ہے بلکہ موجودہ حالات میں ناگزیر بھی ہے، اور دیگر تعلیمی اداروں کے لیے قابلِ تقلید نمونہ بن سکتا ہے۔
اساتذۂ کرام کی خاموش مگر مسلسل محنت بھی اس کامیابی کا ایک اہم پہلو ہے۔ وہ محض نصاب مکمل نہیں کرتے بلکہ بچوں کے اندر قرآن کی محبت، ذمہ داری کا احساس اور دینی شعور پیدا کرتے ہیں۔ ایسے نتائج اسی وقت سامنے آتے ہیں جب تدریس محض پیشہ نہیں بلکہ امانت سمجھی جائے۔
یہ بھی پڑھیں: مایوسی کے خلاف اعلان بغاوت
یہ بات بھی خوش آئند ہے کہ ہمارا علاقہ، جو ماضی میں تعلیمی پسماندگی اور کم خواندگی کا شکار رہا، اب بتدریج بیداری کی طرف بڑھ رہا ہے۔ والدین میں تعلیم کے تئیں سنجیدگی آئی ہے، بچیوں کی تعلیم کو اہمیت مل رہی ہے اور دین و دنیا کے امتزاج کی ضرورت کو محسوس کیا جا رہا ہے۔ ایسے میں مریم گرلس انٹرنیشنل اسکول جیسے ادارے امید اور سمت دونوں فراہم کرتے ہیں۔
اسی موقع پر ایک اصلاحی گذارش بھی ضروری ہے۔ حفظِ قرآن کی تکمیل پر منعقد ہونے والی مجالس میں "عورتوں، بالخصوص ماؤں کی بامقصد شمولیت” کو یقینی بنایا جانا چاہیے۔ عملی تجربہ یہ بتاتا ہے کہ مرد حضرات اگرچہ ان کامیابیوں سے متاثر ہوتے ہیں، مگر بچوں کی روزمرہ تربیت میں اصل فیصلہ کن کردار ماں کا ہوتا ہے۔ جب مائیں ایسی مثالوں کو قریب سے دیکھتی ہیں تو وہ فطری طور پر اپنے بچوں کے لیے بھی وہی راستہ اختیار کرنا چاہتی ہیں۔ اس طرح دینی بیداری محض اسٹیج تک محدود نہیں رہتی بلکہ گھروں تک منتقل ہوتی ہے۔
آخر میں ہم اس ننھی حافظۂ قرآن، اس کے والدین، اساتذۂ کرام اور بالخصوص مولانا شمیم اختر ندوی کی جدوجہد کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کوشش کو قبول فرمائے اور ہمارے معاشرے میں ایسے تعلیمی نمونے عام فرمائے جو قرآن کی روشنی میں مستقبل کی تعمیر کریں۔