سعودی عرب، پاکستان اور ترکی کے درمیان ممکنہ دفاعی اتحاد، ” اسلامک ناٹو” کی شکل اختیار کرنے کے امکانات، بھارت کی گہری نظر
ـــــــــــــــــــــــــــــ
عالمی سطح پر اس وقت مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کی طرف خاص توجہ مرکوز ہے، جہاں سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان طے پانے والا دفاعی معاہدہ اب ترکی کی شمولیت کے قریب پہنچتا دکھائی دے رہا ہے۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ دفاعی معاہدہ نیٹو کی طرز پر کام کرے گا، جس میں کسی ایک رکن ملک پر حملہ پورے اتحاد پر حملہ تصور کیا جائے گا۔
بلومبرگ کی ایک رپورٹ کے مطابق اس سلسلے میں بات چیت خاصی آگے بڑھ چکی ہے اور جلد کسی حتمی فیصلے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ مبصرین اس مجوزہ اتحاد کو ’’اسلامک ناٹو‘‘ یا ’’مسلم ناٹو‘‘ کا نام دے رہے ہیں۔
یہ پیش رفت اس لیے بھی غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے کہ اس اتحاد میں سعودی عرب کی مالی طاقت، پاکستان کی ایٹمی صلاحیت اور ترکی کی جدید و مضبوط فوجی قوت یکجا ہوتی نظر آ رہی ہے۔ دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق بھارت اس پورے عمل پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔
واضح رہے کہ سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان یہ دفاعی معاہدہ ستمبر 2025 میں طے پایا تھا، جس میں یہ شق شامل ہے کہ کسی ایک ملک پر حملہ دوسرے ملک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ یہ شق نیٹو کے آرٹیکل 5 سے مماثلت رکھتی ہے، جس پر ترکی پہلے ہی نیٹو رکن ہونے کی حیثیت سے عمل کرتا ہے۔ اب ترکی کی اس معاہدے میں شمولیت کی کوشش سے تین ملکی دفاعی بلاک کے قیام کے امکانات پیدا ہو گئے ہیں۔
دفاعی ماہرین کے مطابق مجوزہ اتحاد میں ہر ملک کا کردار تقریباً واضح ہے۔ سعودی عرب مالی معاونت فراہم کرے گا، پاکستان اپنی ایٹمی صلاحیت، بیلسٹک میزائل نظام اور بڑی فوجی افرادی قوت پیش کرے گا، جبکہ ترکی اپنی عسکری مہارت، مقامی دفاعی صنعت اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے اتحاد کو مضبوط بنائے گا۔
ترکی پہلے ہی پاکستان کے لیے جدید کارویٹ جنگی جہاز تیار کر رہا ہے، جبکہ پاکستانی ایف-16 جنگی طیاروں کی اپ گریڈیشن اور ڈرون ٹیکنالوجی میں بھی تعاون جاری ہے۔ مزید برآں ترکی نے پاکستان اور سعودی عرب کو اپنے ففتھ جنریشن فائٹر جیٹ پروگرام ’’کان‘‘ میں شمولیت کی دعوت بھی دی ہے۔
مبصرین کے مطابق اگر ترکی اس دفاعی معاہدے میں باضابطہ طور پر شامل ہو جاتا ہے تو یہ اتحاد علاقائی اور عالمی سطح پر تزویراتی توازن پر گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے۔