تفریح یا تباہی؟ ایک سماجی سوال

از:- عارف حسین ایڈیٹر سیل رواں

میری یہ تحریر کسی فرد، کسی خاندان یا کسی مخصوص طبقے پر الزام عائد کرنے کے لیے نہیں ہے بلکہ ایک اجتماعی درد اور فکری تشویش کے اظہار کے لیے ہے۔ اس لیے کہ جن مناظر کا ذکر کیا جا رہا ہے، ان میں شامل سب ہمارے ہی بچے ہیں، ہماری ہی نسل ہے، اور ان کی اصلاح ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

آج ہمارے علاقوں کا منظرنامہ نہایت افسوسناک اور سوچنے پر مجبور کرنے والا بن چکا ہے۔ مسجدوں سے نوجوانوں کی وابستگی کمزور پڑتی جا رہی ہے، جبکہ کھیل کے میدانوں میں غیر معمولی ہجوم، شور و غوغا اور جذباتی جوش دیکھنے کو ملتا ہے۔ فجر کی اذان فضا میں گونجتی ہے، مگر صفیں خالی رہتی ہیں۔ اس کے برعکس کرکٹ کے میچوں میں رات گئے تک سرگرمیاں جاری رہتی ہیں، جہاں شرطیں لگتی ہیں اور ہزاروں، بلکہ لاکھوں روپے لمحوں میں ضائع ہو جاتے ہیں۔

مسئلہ صرف کھیل تک محدود نہیں، بلکہ اس کے ساتھ جڑا ہوا وہ ماحول ہے جو ہمارے سماج کی جڑوں کو کھوکھلا کر رہا ہے۔ میچ جیتنے کے بعد خوشی کے نام پر ڈی جے پر فحش اور بازاری گانے بجائے جاتے ہیں، ناچ گانا ہوتا ہے اور اخلاقی حدود کو پامال کیا جاتا ہے۔ نوجوان سرعام ایسے مناظر کا حصہ بنتے ہیں جو حیا اور شرافت کے منافی ہیں۔ زیادہ تکلیف دہ بات یہ ہے کہ بعض مقامات پر خواتین بھی براہِ راست یا بالواسطہ طور پر اس ماحول کا حصہ بنتی نظر آتی ہیں۔ کہیں تماشائی بن کر، کہیں ویڈیو بنا کر، اور پھر ان مناظر کو عام کر کے بے حیائی کو معمول بنا دیا جاتا ہے۔

یہ سب کسی دور دراز علاقے کا حال نہیں، نہ ہی کسی پرانی داستان کا حصہ ہے۔ یہ سب کچھ ہمارے ہی محلوں، گلیوں اور گھروں کے سامنے ہو رہا ہے۔ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ ہم میں سے بیشتر لوگ خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔ نہ گھروں میں سنجیدہ گفتگو، نہ سماجی سطح پر مؤثر روک ٹوک، اور نہ ہی اجتماعی اصلاح کی کوئی مضبوط کوشش۔

یہ بھی پڑھیں: فتنہ شکیلیت کے خلاف ضلعی سطح کی اہم میٹنگ

سوچنے کی بات یہ بھی ہے کہ ایک طرف وہ طاقتیں ہیں جو مسلمانوں کو ہر میدان میں کمزور دیکھنا چاہتی ہیں، اور دوسری طرف ہم خود اپنی دولت، اپنی توانائی اور اپنی اقدار کو غیر ضروری مشاغل میں ضائع کر رہے ہیں۔ ایک شخص میچ اور شرط پر پچاس ہزار روپے خرچ کر دیتا ہے، مگر جب مسجد، مدرسہ یا تعلیم کی بات آتی ہے تو چند سو روپے نکالنا بھی مشکل محسوس ہوتا ہے۔

اس اجتماعی غفلت میں وہ لوگ بھی شامل نظر آتے ہیں جنہیں سماج رہبر اور بااثر مانتا ہے۔ جب قیادت خود خاموش رہے یا ایسے مناظر سے چشم پوشی کرے، تو نئی نسل کو صحیح راستہ کون دکھائے گا؟ رہنمائی صرف گفتار سے نہیں، بلکہ کردار اور عمل سے بھی ہوتی ہے۔

یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ کھیل بذاتِ خود کوئی برائی نہیں۔ کھیل صحت، نظم و ضبط اور مثبت سرگرمی کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔ لیکن جب یہی کھیل نماز سے غافل کر دیں، حیا کو ختم کر دیں، اور سماج کو اخلاقی زوال کی طرف دھکیل دیں، تو پھر وہ تفریح نہیں رہتے بلکہ تباہی کا پیش خیمہ بن جاتے ہیں۔

ابھی وقت ہے کہ ہم خود احتسابی کریں۔ گھروں میں نماز اور دینی ماحول کو زندہ کیا جائے، بچوں کو مسجد سے جوڑا جائے، اور خوشی و تفریح کے نام پر ہونے والی بے راہ روی کو روکا جائے۔ اپنی دولت اور صلاحیتوں کو دین، تعلیم اور سماج کی تعمیر پر خرچ کیا جائے۔

اگر ہم نے آج بھی آنکھیں بند رکھیں تو تاریخ ہمیں معاف نہیں کرے گی۔ ہماری آنے والی نسلیں ہم سے سوال کریں گی کہ جب سب کچھ ہماری آنکھوں کے سامنے ہو رہا تھا تو ہم نے خاموشی کیوں اختیار کی؟

سوال آج بھی وہی ہے: کیا ہم جاگیں گے؟

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔