ڈیجیٹل تنہائی اور اسلامی تعلیمات: رابطوں کے ہجوم میں گم ہوتی انسانیت

✍️شان محمد ندوی

ــــــــــــــــــــــــــــــ

آج کے جدید دور (2026) میں جہاں ٹیکنالوجی نے ہمیں ایک "عالمی گاؤں” (Global Village) میں بدل دیا ہے، وہیں انسان ایک عجیب قسم کی نفسیاتی اور روحانی تنہائی کا شکار ہو گیا ہے۔ جسے ہم "ڈیجیٹل رابطہ” کہتے ہیں، وہ اکثر اسلامی اصطلاح میں "سراب” ثابت ہو رہا ہے۔ اسلام، جو کہ ایک مکمل ضابطہ حیات ہے، ہمیں انفرادی اور اجتماعی زندگی کے جو اصول عطا کرتا ہے، وہ اس ڈیجیٹل تنہائی کا بہترین حل پیش کرتے ہیں۔

  • 1. حقیقی تعلق اور "صلہ رحمی”

اسلام میں "صلہ رحمی” (رشتہ داروں کے ساتھ حسنِ سلوک) پر بہت زور دیا گیا ہے۔ قرآن و حدیث کی روشنی میں حقیقی تعلق وہ ہے جس میں آمنے سامنے بیٹھنا، مصافحہ کرنا اور ایک دوسرے کے دکھ سکھ میں عملی طور پر شریک ہونا شامل ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "جو اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہے، اسے چاہیے کہ صلہ رحمی کرے” (بخاری)۔ محض ایک ڈیجیٹل میسج بھیج دینا اس صلہ رحمی کا نعم البدل نہیں ہو سکتا جو قدم رنجہ فرما کر کسی کی عیادت کرنے یا حال پوچھنے میں ہے۔

  • 2. دکھاوا اور "ریا کاری” کا فتنہ

سوشل میڈیا پر ڈیجیٹل تنہائی کی ایک بڑی وجہ "نمائش” ہے۔ ہر شخص اپنی زندگی کو مثالی بنا کر پیش کرتا ہے، جسے اسلام میں ‘ریا کاری’ سے تشبیہ دی جا سکتی ہے۔ جب انسان دوسروں کی مصنوعی چمک دمک دیکھتا ہے تو وہ اللہ کی دی ہوئی نعمتوں کی ناشکری کرنے لگتا ہے اور احساسِ کمتری کا شکار ہو کر خود کو تنہا کر لیتا ہے۔ اسلام ہمیں "قناعت” اور "نظر کی حفاظت” کا درس دیتا ہے تاکہ ہمارا دل دوسروں کی زندگی سے متاثر ہونے کے بجائے اللہ کے ذکر سے مطمئن رہے۔

  • 3. حقوق العباد اور ڈیجیٹل غفلت

آج ہم ایک ہی گھر میں، ایک ہی دسترخوان پر بیٹھے ہونے کے باوجود ایک دوسرے سے کوسوں دور ہوتے ہیں کیونکہ سب کی نظریں اپنی اسکرینوں پر ہوتی ہیں۔ یہ حقوق العباد کی ایک شکل ہے جس میں ہم اپنے قریب موجود لوگوں کی حق تلفی کر رہے ہیں۔ اسلام سکھاتا ہے کہ آپ کے پاس بیٹھنے والے کا آپ پر حق ہے۔ جب ہم ڈیجیٹل دنیا میں گم ہو کر اپنے والدین، شریکِ حیات یا بچوں کو نظر انداز کرتے ہیں، تو یہ عمل معاشرے میں اجتماعی تنہائی پیدا کرتا ہے۔

  • 4. ذکرِ الہی: دلوں کا حقیقی اطمینان

قرآن پاک میں ارشاد باری تعالیٰ ہے: "خبردار! اللہ کے ذکر سے ہی دلوں کو اطمینان نصیب ہوتا ہے” (سورہ الرعد: 28)۔ ڈیجیٹل تنہائی کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ ہم نے اپنے دلوں کا سکون "لائیکس” اور "فالوورز” میں ڈھونڈنا شروع کر دیا ہے۔ جب یہ عارضی سہارے ختم ہوتے ہیں، تو انسان شدید مایوسی کا شکار ہو جاتا ہے۔ اگر انسان کا تعلق اپنے خالق سے مضبوط ہو، تو وہ دنیاوی بھیڑ میں بھی خود کو اکیلا محسوس نہیں کرتا۔
5. خیر پسندی اور حقیقی ہمدردی
ڈیجیٹل دنیا نے ہمیں "ہمدردی” (Empathy) کے بجائے "ردِعمل” (Reaction) کا عادی بنا دیا ہے۔ کسی کی تکلیف پر صرف ‘ایموجی’ بنا دینا کافی نہیں، بلکہ اسلام ہمیں "جسدِ واحد” (ایک جسم کی طرح) ہونے کا درس دیتا ہے۔ جب تک ہم عملاً کسی کے کام نہیں آتے، ہماری تنہائی دور نہیں ہو سکتی۔
حاصلِ کلام:
اسلام ہمیں ٹیکنالوجی سے روکتا نہیں، بلکہ اس کے بامقصد استعمال کی تلقین کرتا ہے۔ ڈیجیٹل تنہائی کا اسلامی حل یہ ہے کہ ہم اسکرین سے نظریں ہٹا کر اپنے رب اور اس کی مخلوق سے حقیقی تعلق استوار کریں۔ جب ہم حقوق اللہ اور حقوق العباد کے درمیان توازن پیدا کر لیں گے، تو یہ مصنوعی تنہائی خود بخود ختم ہو جائے گی اور معاشرہ امن و سکون کا گہوارہ بن جائے گا۔

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔