جمہوریت کا دن اور فراموش کی گئی قربانیاں

✍🏻 محمد عادل ارریاوی

_______________________

محترم قارئین! 26 جنوری وہ دن ہے جب ہمارے شہیدوں کے لہو نے ہندوستان کو جمہوریت کا تحفہ دیا جب جب ہماری زندگی میں یہ دن آئے گا ہمیں یاد دلاتا رہے گا کہ آزادی اور آئین کی قیمت قربانی اور جانوں کی بازی سے ادا ہوئی۔

آزاد ہندوستان کی تاریخ میں دو دن انتہائی اہمیت کے حامل ہیں ایک 15 اگست جس میں ملک انگریزوں کے چنگل سے آزاد ہوا دوسرا یوم جمہوریہ 26 جنوری جس میں ہندوستان جمہوری ملک قرار دیا گیا بھارت میں عوامی تعطیلات کی دو اہم اور لازمی تعطیلات میں سے ایک یوم جمہوریہ ہے اور دوسرا 15 اگست یوم آزادی۔ اہم اور خاص یوم جمہور یہ تقریبات نئی دہلی میں منعقد کی جاتی ہیں اس دن بھارتی صدر جمہوریہ کی زیر صدارت اجلاس بڑے ہی دھوم دھام سے منائے جاتے ہیں اس کا اہم مقصد بھارت کو خراج پیش کرنا ہوتا ہے ۔
ملک بھر میں ہر ریاست مضلع یہاں تک کہ اسکول اور مدارس میں بھی یہ تقریبات منائی جاتی ہیں ملک کے باہر بھی وہ ممالک اور مقامات جہاں بھارتی عوام رہتی ہے یہ تقریبات منائی جاتی ہیں۔

یوم جمہوریہ میں ملک کو خراج عقیدت پیش کیا جاتا ہے اور خراج عقیدت کا حقدار کون ہے؟ جاننے کی کوشش بھی نہیں کی جاتی ہے جب سے ملک آزاد ہوا ہے تب سے آج تک مسلم قوم ہندوستان میں اپنے وجود کی لڑائی لڑ رہی ہے جبکہ ہندوستان کی جنگ آزادی میں مسلمان اور علماء نے اتنا خون بہایا کہ کوئی دوسری قوم اس میں ان کی ہمسری کرتی دکھائی نہیں دیتی ہے ۷۹۹ء میں سلطان ٹیپو کی شہادت سے لے کر ۱۸۵۷ء تک اکیلے اور تن تنہا اس جنگ کو لڑتے رہے اور یہ ان کی ذمہ داری بھی تھی کیونکہ ملک مسلمانوں کے ہاتھ سے چھینا گیا تھا اور ظاہر ہے کہ ظلم جس کے ساتھ ہوا ہو درد بھی اسی کو ہوتا ہے اس لئے تقریباً ساٹھ سال تک آزادی کی جنگ صرف اور صرف مسلمانوں نے لڑی۔ ۱۸۵۷ء میں ناکامی کے بعد علماء کا جینا حرام کر دیا گیا دہلی کی سڑکوں پر ہزاروں علماء کو درختوں پر لٹکایا گیا ہزاروں کو جلتے ہوئے تیل میں ڈال کر بھون دیا گیا ہزاروں کو کالے پانی کی سزائیں ہوئیں اور گیا کو پانی کی اور لاکھوں مسلمان تہہ تیغ کر دیئے گئے جس کے نتیجے میں مخلصین کی ایک جماعت نے مجاہدین تیار کرنے کے لئے دارالعلوم دیوبند کو ۱۸۶۶ء میں قائم کیا اور جس کے فرزندوں میں ( مولانا قاسم نانوتوی مولانا رشید احمد گنگوہی شیخ الہند مولانا محمود الحسن اور شیخ العرب والعجم مولانا سید حسین احمد مدنی مولانا اشرف علی تھانوی مفتی کفایت اللہ دہلوی عبید اللہ سندھی حفظ الرحمن سیو ہاروی وغیرہ اور دیگر علماء مولانا محمد علی جوہر شوکت علی مولانا فضل حق خیر آبادی اور مولانا ابو الکلام آزاد وغیرہ ) نے ملک کی آزادی کے لئے بے مثال قربانیاں دیں سوال یہ ہے کہ کیا یوم جمہوریہ کے موقع پر دیگر شہداء کے ساتھ ان جواں مرد مجاہدین آزادی کو بھی خراج عقیدت پیش کرنا ضروری نہیں ؟۔

یہ بھی پڑھیں: قومی تقریبات میں رقص و سرود

26 جنوری در حقیقت خوابوں کی تعبیر کا دن ہے اور خوابوں کی تعبیر کے حوالے سے یہ یوم احتساب بھی ہے یعنی ہم غور کریں اور سوچیں کہ ہندوستان کن خوابوں کی تعبیر تھا اور وہ خواب کسی حد تک پورے ہوئے ؟ تا کہ وہ مقاصد اور اہداف ہماری نگاہوں اور ذہنوں کے قریب رہیں کبھی اوجھل نہ ہونے پائیں ؟ جن کے پیش نظر ہمارے اکابر نے بے شمار قربانیاں دیں جانوں کا نذرانہ پیش کیا اور خون جگر کے ذریعہ چمنستان ہند کی آبیاری کی ؟ کیوں کہ احساس منزل جہاں بے حسی کا جمود توڑتا ہے وہیں جد و جہد اور حرکت کا جذ بہ بھی پیدا کرتا ہے یوم جمہور یہ ایک قومی دن ہے جسے ملک بھر میں بڑے پیمانے پر منایا جاتا ہے اس دن کی اہمیت یہ ہے کہ حکومت ہندا ایکٹ جو 1935 ء سے نافذ تھا منسوخ ہو کر با ضابطہ دستور ہند کا نفاذ عمل میں آیا اور دستور ہند پر عمل آوری شروع ہوئی دستور ساز اسمبلی میں دستور ہند 26 نومبر 1949ء کو پیش ہوا اور 26 جنوری 1950ء کو اسکے نفاذ کی اجازت دے دی اس طرح دستور ہند کے نفاذ سے ہندوستان میں جمہوری طرز حکومت کا آغاز ہوا آبادی کے لحاظ سے ہندوستان دنیا کی سب سے بڑی پارلیمانی غیر مذہبی جمہوریت ہے اس کے دستور و آئین کے کچھ اہم امتیازات ہیں یہاں کے شہریوں کو خود اپنی حکومت منتخب کرنے کا بھر پور حق حاصل ہے اور یہاں عوام ہی کو سر چشمہ اقتدار واختیار مانا جاتا ہے اس طرح تمام باشندے بلا تفریق مذہب وملت ایک مشتر کہ جمہوریت کی لڑی میں پرو دیے گئے ہیں اس میں مذہب کی اہمیت کا بھی اعتراف کیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ یہ ملک مذہب کی بنیاد پر حکومت نہیں کرے گا اس لیے دستور کی 42 ویں ترمیم کی رو سے اسے سیکولر اسٹیٹ کہا گیا جہاں ہر مذہب کا احترام ضروری ہوگا اور مذہب کی بنیاد پر کسی قسم کا کوئی امتیازی سلوک روا نہیں رکھا جائے گا مذہب یا ذات پات کی بنیاد پر کسی شہری کو شہریت کے حقوق سے محروم نہیں کیا جائے گا اور ہر شہری کو ملکی خدمات سے فائدہ اٹھانے کا بھر پور موقع ملے گا آئین کی رو سے ہر ہندوستانی شہری قانون کی نگاہ میں برابر ہے ہر شہری کو آزادی رائے آزادی خیال اور آزادی مذہب کا اختیار حاصل ہے اقلیتوں کو بھی دستور میں ان کا حق دیا گیا ہے کہ وہ اپنے علیحدہ تعلیمی ادارے قائم کریں اپنی تہذیب تمدن زبان کو قائم رکھیں اور اپنے مذہب کی تبلیغ و اشاعت کریں نیز اس غرض کے لئے اپنی منقولہ اور غیر منقولہ جائیداد کا انتظام کریں ساتھ ہی یہ صراحت بھی کی گئی کہ کسی ایسی آمدنی پر ٹیکس دینے کے لیے مجبور نہیں کیا جا سکتا جو کسی مذہب کی تبلیغ و اشاعت پر خرچ کی جائے۔ یہ ایک تاریخی حقیقت اور نا قابل فراموش سچائی ہے کہ مسلمانوں نے ہی سب سے پہلے اور سب سے زیادہ اس ملک کو آزاد کرانے کی کوشش کی ہے اور اپنی آنکھوں میں اپنے پیارے وطن کی آزادی کے خواب لئے جان و تن نچھاور کیا۔ سخت ترین اذیتوں کو جھیلا خطرناک سزاؤں کو برادشت کیا طرح طرح کی مصیبتوں سے دوچار ہوئے حالات و آزمائشوں میں گرفتار ہوئے لیکن برابر آزادی کا نعرہ لگاتے رہے اور ہر ہندوستانی کو بیدار کرتے رہے کبھی میدان سے راہ فرار اختیار نہیں کی اور نہ ہی کسی موقع پر ملک و وطن کی محبت میں کمی آنے دی۔ عظیم مؤرخ مولانا اسیر ادروی صاحب رقم طراز ہیں کہ ہمارے آباء واجداد نے ہندوستان کی عظمت اور آزادی کو پامال کرنے والی اس سفید فام قوم کو اپنے رگوں کے خون کے آخری قطرے تک برادشت نہیں کیا ہندوستان میں بسنے والی ہندوستانی قوم جو مختلف مذاہب اور مکتبہ فکر کی تہذیب اور تمدن کے مختلف و متضاد عناصر کو لے کر وجود میں آئی تھی اس کی عزت و حرمت کو بچانے کے لئے پہلے پہل ہم نے خود اپنی ذات کو قربانی کے لئے پیش کیا 1857ء کے بعد نصف صدی تک انگریزی سامراج کو شکست دینے کے لئے ہم تن تنہا جنگ آزادی میں زور آزمائی کرتے رہے اور ہم نے اس راہ میں اپنا خون اتنا بہایا کہ پوری جنگ آزادی کے میدان میں دوسروں نے اتنا پسینہ بھی نہیں بہایا ہوگا (تحریک آزادی اور مسلمان 23)

یہ بھی پڑھیں: میری پہچان: ہندوستان

ڈاکٹر مظفر الدین فاروقی لکھتے ہیں کہ 1857ء کی جنگ آزادی میں مسلمانوں نے بہ حیثیت مجموعی جس شدت سے انگریزوں کو مخالفت کا ثبوت دیا تھا اس سے انگریزوں کی آنکھیں کھل گئی انگریز اچھی طرح جانتے تھے کہ ہندوستان میں مسلمان سب سے بہتر قوم ہیں چناں چہ ڈاکٹر ہنٹر لکھتے ہیں حقیقت یہ ہے کہ جب یہ ملک ہمارے قبضے میں آیا تو مسلمان ہی سب سے اعلی قوم تھی وہ دل کی مضبوطی اور بازوؤں کی توانائی میں برتر نہ تھے بلکہ سیاسیات اور حکمت عملی کے علم میں بھی سب سے افضل تھے (ہندوستان کی آزادی میں مسلمانوں کا حصہ 123)

اے ربِ کریم! ہمارے وطن کو امن خوشحالی اور عدل و انصاف عطا فرما اور ہمیں قربانیوں کی قدر کرنے والا بنا آمین یارب العالمین ۔

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔