از:۔ مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی
نائب ناظم امارت شرعیہ بہار، اڈیشہ وجھارکھنڈ پھلواری شریف، پٹنہ
نئی نسل کے اخلاقی انحطاط کا شور ہر طرف ہے، وہ اپنے بڑوں کی بات نہیں سنتے، چھوٹی چھوٹی باتوں پر برافروختہ ہوجاتے ہیں، بڑوں کے ادب واحترام سے عموماً وہ دور ہوتے جارہے ہیں، جھوٹ، فریب، تکبر، ظلم، بددیانتی، نشہ اور حسد ان کی عادت بن گئی ہے، خاندان کے بزرگ ان کی ان عادتوں سے پریشان اور نالاں رہتے ہیں، ان کی ان حرکات کی وجہ سے خاندانی عزت ووقار داؤ پر لگ جاتا ہے اور ہم کچھ نہیں کرپاتے، سوشل میڈیا کے غلط استعمال کی وجہ سے ان کے عادات واطوار میں ایسی تبدیلیاں پیدا ہوتی ہیں، جو انہیں گناہوں کے دلدل تک پہونچا دیتی ہیں۔
یہ حقائق ہیں، جن کا سماج اور خاندان کو سامنا کرنا پڑتا ہے، لیکن غور کریں تو اس میں بڑوں کی حصہ داری بھی کم نہیں ہے، شبینہ ادیب سے مصرعہ مستعار لے کر کہوں تو یہ کہ ’’اس ساری بے شرمی کے ہم بھی ذمہ دار ہیں‘‘ ہم نے اپنے بچوں کی تربیت پر خصوصی توجہ نہیں دی، ہماری بیرون خانہ مشغولیت بڑھتی چلی گئی اور ہم اندرون خانہ، اپنے بچوں کی تربیت کے لیے وقت نہیں نکال سکے، وہ خود رو پودوں کی طرح بڑھتے رہے، ان کی اخلاقی تراش خراش کا جو کام ہمیں کرنا چاہیے، وہ ہم نہیں کرسکے، ہمارے پاس ان کو دینے کے لیے وقت نہیں تھا، تو انہوں نے اپنی الگ دوستوں کی ایک منڈلی اور ٹولی بنالی، ان میں بہت سارے اوباش بھی تھے، ان کی صحبت نے ہمارے بچوں پر اثر ڈالا اور وہ خود بھی اس رنگ میں رنگتے چلے گیے اور جب ہماری آنکھ کھلی تو بہت دیر ہوچکی تھی اور ہمارا بچہ ہمارے ہاتھ سے نکل چکا تھا۔
ہمارے یہاں اسکولوں، کالجوں اور کنونٹوں میں جو تعلیمی نظام ہے، وہ ہمارے بچوں کو مقابلاتی عہد (کمپٹیشن ایج) کے مطابق تیار کرتا ہے، وہاں اسباق رٹائے جاتے ہیں، انہیں فن سے زیادہ امتحان کے لیے تیار کرایا جاتا ہے، ٹکسٹ بک کے بجائے گیس اور سوالات حل کرائے جاتے ہیں، اس سے علم میں گہرائی اور گیرائی نہیں پیدا ہوتی، سوالات کے پرچے ضرور حل ہوجاتے ہیں اور ہمارے بچے نمبرات گریڈ، رینک میں آگے بڑھ جاتے ہیں، لیکن ان اداروں میں مورل دیلوز، اخلاقی اقدار، تحمل وبرداشت، امانت ودیانت اور سماجی شعور کے فروغ پر توجہ کسی درجہ میں بھی مبذول نہیں کرائی جاتی، اس کی وجہ سے نئی نسل میں خود غرضی، چالاکی، موقع پرستی کو فروغ ملتا ہے اور اس کے مظاہر کثرت سے سماج میں دیکھنے کو ملتے ہیں، بعض نصابی کتابوں میں کچھ اسباق اخلاقی اقدار پر شامل ضرور ہیں؛ لیکن ان کی طرف نہ طلبہ کی توجہ ہوتی ہے اور نہ ہی اساتذہ کی، اس لیے ان کی اہمیت ہی باقی نہیں رہتی۔
اسلام نے جو تعلیم کا تصور دیا، اس میں کتابی علم وحکمت کے ساتھ ساتھ تزکیہ نفس کا ذکر کیا، یعنی ہمارے یہاں تعلیم کا کوئی تصور تربیت کے بغیر نہیں پایا جاتا، شریعت نے تربیت کے اصول بتائے، بچوں کی ذہنی تربیت کے لیے اعمال کا ذکر کیا، ان پر نگاہ رکھنے کی ضرورت بتائی اور تنبیہ کا ایک معیار اور دائرہ مقرر کیا، لیکن اسلام کے ماننے والے بھی بچوں کی تربیت کے معاملے میں کمزور ہوگیے، اب بچوں کی ساری زندگی دوسروں کے حوالہ ہوا کرتی ہے، والدین ملازمت پیشہ ہیں، تھکے ہارے ڈیوٹی کرکے لوٹتے ہیں تو ان کے پاس بچوں کو دینے کے لیے وقت ہی نہیں بچتا، ہمارے بچپن میں مائیں لوریاں اور دادیاں انبیاء ورسل کے قصے سناکر بچوں کی ذہنی تطہیر اور اخلاقی تربیت کا انتظام کرتی تھیں، اب نہ ماؤں کو لوریاں یاد ہیں اور نہ دادیوں کو انبیاء ورسل کے قصے، بچوں کی اپنی الگ سرگرمی سوشل میڈیا پر ہے، کسی کے پاس وقت ہی نہیں ہے، کون سنے، کب سنائے، کیا سنائے اور کس کو سنائے، کا خانہ ہمارے یہاں خالی ہوگیا ہے۔
علماء کا طبقہ بھی اپنے بچوں سے اس قدر غافل ہے کہ مت پوچھیے، اسی لیے چند مشہور خانوادوں کو چھوڑ کر ان کے بچے بھی اسلامی اقدار سے دور ہورہے ہیں، بڑا اچھا موقع اپنے ساتھ بچوں کے رکھنے اور ان سے خدمت لینے کا ہوتا ہے، جس سے خدمت کا جذبہ بھی پیدا ہوگا اور بچہ بہت کچھ سیکھ لے گا، لیکن سفر وحضر میں ہمارے خدام دوسرے لڑکے اور شاگرد ہوتے ہیں، وہ سیکھ لیتے ہیں اور ہمارا بچہ ویسے ہی رہ جاتا ہے، یہاں بالکل نہ سوچیں کہ اپنے بچوں سے خدمت لیں تو ان کا تعلیمی حرج ہوگا، دوسرے بچوں کا حرج نہیں ہوتا تو آپ کے بچوں کا کیوں حرج ہوگا؟ مختصر سی بات یہ ہے کہ سارا قصور نئی نسل کا ہی نہیں، اپنا بھی ہے، بچے نااہل نہیں ہیں، ان میں تربیت کا فقدان ہے اور جو کچھ آج دیکھنے میں آرہا ہے، وہ ہماری غفلت کا نتیجہ ہے۔