از:- محمد رافع ندوی
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فقر سے پناہ مانگی ہے، آپ دعا فرمایا کرتے تھے: اللهم إني أعوذ بك من الكفر والفقر، اے اللہ میں کفر اور فقر سے تیری پناہ مانگتا ہوں، گویا فقر کو کفر تک پہنچانے والا سمجھا گیا اور بتایا گیا۔ ایک حدیث شریف کا مفہوم ہے کہ فقر کبھی کفر کا سبب بن جاتا ہے "كاد الفقر أن يكون كفرا”۔ ظاہر ہے معاشی استحکام زندگی کی بنیادی ضرورت ہے جسے نظر انداز کرنا اور ان دیکھا کرنا زندگی کی بہت بڑی اور تلخ سچائی اور حقیقت سے انحراف و اعراض کے مترادف ہے، بلکہ یوں کہیے کہ خود کو ہلاکت میں ڈالنے اور خود کی تذلیل و اہانت کے ہم معنی ہے، لیکن ہم اگر فضلاء مدارس کی بات کریں تو یہ صاف نظر آتا ہے کہ وہ تعلیم و تعلم کا ایک بڑا مرحلہ طے کر لینے بلکہ تکمیل عالمیت اور فضیلت کے بعد بھی معاش کی کسی بھی صورت کی تحصیل سے عاجز ہوتے ہیں، اگر انہیں کسی مدرسے میں استاذی، کسی مسجد میں امامت و خطابت یا کسی مکتب کی مدرسی نہ ملے _ اور ظاہر ہے یہ تمام کام بنیت معاش اختیار کیے جائیں تو ان کا نقص پوشیدہ نہیں اور یقیناً یہ خدمت دین کے کام ہیں نہ کہ ذریعۂ معاش_ تو ان کے کھانے کے لالے پڑ جائیں اور فاقے کی نوبت آجائے۔
غور کرنے کی بات یہ ہے کہ ان کے اس معاشی عدم استحکام کا ذمہ دار کون ہے؟ یہ ایک بڑا سوال ہے، کیا وہ خود اپنے اس معاشی استحکام اور اپنے اس فقر اضطراری کے ذمہ دار ہیں یا سماج کے دوسرے لوگ؟ ظاہر ہے جو طالب علمی کا زمانہ ان کا مدرسے کے کیمپس میں گزرا؛ اس میں انہیں مدرسے سے باہر زیادہ گھومنے پھرنے کی آزادی بالکل نہیں ہوتی، ان کے پاس بالکل یہ موقع نہیں ہوتا کہ وہ کوئی ہنر یا کوئی ذریعۂ معاش اپنے طور پر سیکھ لیں اور کسی متداول فن میں مہارت پیدا کر لیں، نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ جب وہ فارغ التحصیل ہو کر عملی میدان میں قدم رکھتے ہیں تو وہ اپنے آپ کو حد درجہ بے بس اور لاچار اور سخت معاشی بحران کا شکار پاتے ہیں، یہ ایک بڑی وجہ بھی ہے کہ آج ایک بھاری تعداد مدرسوں سے نالاں ہے اور مدرسے کا رخ کرنے سے پہلے ہزار بار سوچتی ہے یا اگر اس نے مدرسے کا رخ کر لیا تو وہ تذبذب اور داخلی کشمکش کی کیفیت کا شکار رہتے ہوئے یکسوئی اور تندہی کے ساتھ اپنی تعلیم کو جاری رکھنے سے قاصر ہوتی ہے، اور اگر تعلیم مکمل کرنے کے بعد عملی میدان میں قدم رکھے اور ٹھوکروں کا سامنا کرے جو لازماً اسے کرنا ہی ہے تو وہ پھر مدرسے کو اور اس کے ایجوکیشن سسٹم کو اور اس کے نظام اور نصاب کو زندگی بھر کوستی اور صلواتیں سناتی رہتی ہے۔
اگر معاشی استحکام واقعتاً نہایت اہم مسئلہ ہے، معاشی بحران پیدا نہ ہونے دینا اور خود کفیل ہونا واقعتاً نہایت عظیم الشان امر ہے تو اہل مدارس اور ارباب حل و عقد اس بابت کیوں نہیں سوچتے؟ کیا ان کی یہ ذمہ داری نہیں بنتی کہ وہ اس پہلو پر غور و فکر کریں؟ یقیناً یہ پہلو اجڑتے اور برباد ہوتے بہت سے مدرسوں کی آبادی اور شادابی کا بھی بڑا ذریعہ ثابت ہوگا۔
تمام ضروری علوم اور فنون کی تدریس و تعلیم اور مکمل تربیتی نظام کے ساتھ ساتھ کیا ہم اس بات کو یقینی نہیں بنا سکتے کہ جب ہمارا بچہ طبقۂ سفلی سے اپنی تعلیم کا سلسلہ کسی وجہ سے منقطع کرے تو وہ اس لائق ہو کہ دو پیسہ کما سکے اور اپنے خاندان کی کچھ کفالت کر سکے؟ کیا ہم یہ نظام تشکیل نہیں دے سکتے کہ جب مدرسے کا ہمارا بچہ عالیہ اور علیا کے معیار سے فارغ ہو تو وہ کسی صنعت اور حرفت میں بھی ماہر ہو؟ کیا اس چیز کے اضافے سے اور مختلف پیشوں کی تعلیم و تدریس سے علوم شریعت اور ضروری علوم وفنون کی تدریس میں اتنا بڑا خلل پیدا ہوگا کہ اس جانب غور کرنے کے بھی ہم روادار نہیں؟؟
یقیناً وقت بہت تیزی کے ساتھ بدل چکا ہے، کیا ہم اب بھی اس جانب سوچنے کے لیے تیار نہیں، ذرا سوچیے مدرسے کا طالب علم جب وہ فارغ التحصیل ہو اور جہاں اس نے قرآن و حدیث، عربی اردو، فقہ و تفسیر کی تعلیم حاصل کی ہو اور اس میں وہ لوگوں کی رہنمائی کرنے کے قابل ہو؛ وہیں وہ زمانے کے تقاضوں سے ہم آہنگ کسی ہنر اور پیشے اور کسی اسکل سے بھی آراستہ ہو تو ذرا تصور کیجئے کہ وہ معاشرے کے لیے کس قدر مفید ثابت ہوگا اور معاشرے کی نظر میں اس کا مقام کتنا بلند ہوگا اور تصور کیجئے کہ وہ اس افرا تفری اور بے روزگاری کے زمانے میں بھی کتنی آسانی سے اپنی اور اپنے خاندان کی زندگی کی گاڑی کھینچنے پر قادر ہوگا۔
اس بات سے کون انکار کر سکتا ہے کہ یہ زمانہ انگلش زبان کا ہے، انگریزی کی بہترین تعلیم جو ہمارے طلبہ کو انگریزی بولنے، انگریزی لکھنے، انگریزی میں مختلف کام انجام دینے پر قادر بنا سکے، یقیناً مدرسوں میں اس کا نظام بنایا جا سکتا ہے اور یقیناً ہمارے طلبہ اس میں دلچسپی لیں گے اور اس سے ان کو دین اور دنیا دونوں سطح پر جو فوائد حاصل ہوں گے اس کا اندازہ لگانا بھی کچھ مشکل نہیں۔
یہ زمانہ کمپیوٹر اور انٹرنیٹ اور اے آئی کا زمانہ ہے، ہم اپنے طلبہ کو کمپیوٹر کی کتنی تعلیم دیتے ہیں، کیا یہ ضروری نہیں کہ آج تمام ضروری علوم کے ساتھ ساتھ ہم اپنے بچوں کو کمپیوٹر کی اعلی تعلیم تک لے کے جائیں ، سات آٹھ سال کے عرصے میں ہم انہیں کمپوزنگ، مختلف سافٹ ویئر پروگرامز اور ہارڈویئر میں ایک گونہ ماہر بنادیں جو یقیناً ان کے معاشی استحکام کا اور دین و دنیا کی کامیابیوں کا بڑا ذریعہ ثابت ہوگا۔
ہم خوب جانتے ہیں کہ آج چھوٹی چھوٹی صنعتوں کی افادیت کس قدر بڑھ چکی ہے، کوئی بھی فن اور کوئی بھی ہنر،کوئی بھی اسکل اور کوئی بھی پیشہ جہاں معاشی استحکام عطا کرتا ہے؛ وہیں عزت سے جینے کا ہنر بھی دیتا ہے، ہم بچوں کے لیے ماہر پیشہ وروں کی خدمات حاصل کر کے اور ان سے پریکٹیکلی مدرسے کے کیمپس میں کام لے کر انہیں چند سالوں میں ان چھوٹے چھوٹے پیشوں میں بآسانی ماہر بنا سکتے ہیں اور ان کی آئندہ زندگی کو آسان بنانے کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔
میرے ناقص خیال میں اس جانب اہل مدارس کو سوچنا ہی ہوگا، ورنہ بہت دیر ہوچکی ہوگی۔ یہ چیز جہاں مادیت کے اس دور میں روحانیت کے تنہا مراکز یعنی مدرسوں کی آبادی کا ذریعہ بنے گی، وہیں علماء کرام اور فضلاء مدارس کے معاشی استحکام اور ان کے سماجی مقام واحترام کا باعث بھی ہوگی اور اہل مدارس کی جس پہچان نے انہیں سب سے زیادہ نقصان پہنچایا ہے، ان کی زبان اور ان کے قد کے معیار کو گھٹایا ہے؛ وہ پہچان بھی بدلے گی اور بے شمار فوائد خود ان کو اور مسلم معاشرے کو حاصل ہوں گے۔