سیل رواں ڈیسک
بنگلہ دیش میں مجوزہ عام انتخابات اور آئینی ریفرنڈم کو لے کر سیاسی فضا مسلسل کشیدہ ہوتی جا رہی ہے۔ مختلف سیاسی جماعتوں کے امیدواروں اور ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ موجودہ حالات میں ووٹنگ کا انعقاد ملک میں پہلے سے موجود بے یقینی اور عدم استحکام کو مزید بڑھا سکتا ہے، کیونکہ بڑی سیاسی قوتوں کے درمیان اتفاقِ رائے کا فقدان اور عوامی اعتماد میں نمایاں کمی پائی جاتی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ سیاسی تقسیم، انتخابی شفافیت پر سوالات اور باہمی محاذ آرائی جیسے عوامل پورے جمہوری عمل کو متنازع بنا سکتے ہیں۔
الیکشن کمیشن کے شیڈول کے مطابق قومی پارلیمان کے لیے عام انتخابات 12 فروری 2026 کو پورے ملک میں ایک ہی دن منعقد کیے جائیں گے، جس میں ووٹر اپنے نمائندوں کا انتخاب کریں گے، جبکہ اسی روز ایک آئینی ریفرنڈم بھی کرایا جائے گا۔ اس ریفرنڈم کے ذریعے عوام سے اہم آئینی اور انتظامی اصلاحات، بالخصوص حکومتی ڈھانچے اور اختیارات کی تقسیم سے متعلق مجوزہ تبدیلیوں پر رائے لی جائے گی، تاہم ماہرین کا خیال ہے کہ انتخابات اور ریفرنڈم کا بیک وقت انعقاد سیاسی تناؤ اور غیر یقینی صورتِ حال میں مزید اضافہ کر سکتا ہے۔
انتخابات کی تیاریاں ایک بہت ہی متنازعہ اور تقسیم شدہ سیاسی ماحول میں ہو رہی ہیں، کیونکہ اس بار بڑی سیاسی جماعت عوامی لیگ (Awami League) کو انتخابات سے باہر رکھا گیا ہے، جبکہ بنگلہ دیش نیشنل پارٹی (BNP) اور دوسری جماعتیں حصہ لے رہی ہیں۔ اس نے سیاسی کشیدگی کو بڑھا دیا ہے۔
ماہرین، امیدواروں اور سیاسی مبصرین متعدد خطرات کی نشاندہی کر رہے ہیں:
-
سیاسی شرکت میں عدم مساوات اور تقسیم:
سابق وزیرِ اعظم شیخ حسینہ نے تنبیہ کی ہے کہ اگر اہم سیاسی قوتوں کو حصہ لینے سے روکا جاتا ہے تو ملک میں تلخی، اداروں کی ساکھ میں کمی اور مستقبل میں سیاسی عدم استحکام پیدا ہو سکتا ہے۔ ان کا خیال ہے کہ ایک جماعت کی غیر شمولیت سے انتخابات کی قانونی اور اخلاقی حیثیت پر سوالات اٹھتے ہیں۔
-
انتخابی ماحول میں پرانی خرابیاں:
شفافیت، پیسوں کا بے جا استعمال، طاقت اور مذہبی اثر جیسے مسائل اب بھی انتخابی مہم اور امیدواروں کے درمیان موجود ہیں، جس سے تشدد اور عدم اعتماد کے امکانات بڑھ رہے ہیں۔
-
ریفرنڈم کے حوالے سے تنازع:
ریفرنڈم، جو آئینی اصلاحات، مثلاً حکومتی شفافیت اور ریاستی اداروں کے بیچ طاقتوں کی تقسیم جیسے موضوعات پر مبنی ہے، نے بھی تنازع اور اختلافات کو ہوا دی ہے۔ کچھ حلقے اسے جمہوری عمل میں اہم قدم سمجھتے ہیں، جبکہ دوسرے اس پر سیاسی اور قانونی تحفظات ظاہر کرتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر انتخابات اور ریفرنڈم ایک ساتھ ایک متنازع اور عدم اتفاق شدہ فضا میں منعقد ہوئے تو یہ بنگلہ دیش کی سیاسی حالت کو مزید غیر مستحکم کر سکتے ہیں، خاص طور پر جب عوامی اعتماد کمزور ہو اور سیاسی جماعتیں اپنے مؤقف پر سختی سے ڈٹی ہوں۔