از:- محمد رافع ندوی
تضییع وقت آج کے زمانے کا سب سے تشویش ناک اور افسوسناک مسئلہ بلکہ فتنہ ہے، بچے بڑے جوان اور بزرگ سب تضییع وقت کے فتنے کے شکار ہیں، لوگوں کے پاس اتنا وقت نہیں ہے کہ وہ اپنے ضروری کاموں کو صحیح ڈھنگ سے نپٹاسکیں اور یہ اس لیے نہیں کہ چوبیس گھنٹوں کا دورانیہ کم ہو گیا ہے یا رات اور دن کی گردش اور لیل و نہار کا چکر مختصر ہو گیا ہے بلکہ اس لیے کہ ان کا بیشتر اور بے گمان اور بے حساب وقت لایعنی مصروفیات میں، کھیل تماشوں میں، لہوو لعب میں اور فضولیات میں ضائع ہو جاتا ہے، جس کے بعد اہم کاموں اور ضروری امور کے لیے وقت کی تنگی لاحق ہوتی ہے۔
لوگ باگ آرام، سیر و تفریح، گپ شپ، پارٹی شارٹی اور سیر سپاٹے میں اپنے وقت کا بڑا حصہ ضائع کر دیتے ہیں اور انہیں اس نقصان کا بالکل اندازہ نہیں ہوتا بلکہ ان کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی اور اس نقصان کا احساس تک نہیں ہوتا۔ یہ ایک دن کا مسئلہ نہیں ہے، اسی نہج پر سالہا سال گزر گئے اور گزرتے جا رہے ہیں، بچے جوان ہو گئے، جوان ادھیڑ اور ادھیڑ بزرگ اور بڑھاپے کی عمر میں داخل ہو چکے ہیں، لیکن تضییع وقت کی اس لت کے ہاتھوں برباد اور خراب ہیں۔
ضرورت ہے کہ ہم صبح سے شام تک کے اپنے کاموں اور اپنی ترجیحات پر نظر ڈالیں اور دیکھیں کہ ہمارا وقت کہاں صرف ہو رہا ہے، 24 گھنٹے کا جو وقت خالق کائنات نے ہر ذی نفس کو عطا کیا ہے، یہ درحقیقت ایک کافی وافی مہلت ہے، جس میں ہر شخص جو چاہے وہ کر سکتا ہے اور جیسا چاہے وہ اپنے آپ کو بنا سکتا ہے، لیکن وقت کی صحیح تنظیم نہ ہونے کی وجہ سے سالہا سال گزر جاتے ہیں اور آدمی کی نہ تو روحانی ترقی ہوتی ہے اور نہ اس کی فکری، علمی اور ادبی ترقی کی راہ استوار ہوتی ہے۔
اگر ہم تضییع وقت کے فتنے سے اپنی حفاظت کر سکیں اور اپنے وقت کا دانش مندانہ استعمال کرنے لگیں تو ہم کیا کچھ کر سکتے ہیں، آئیے ایک سرسری جائزہ لیتے ہیں۔
-
یہ بھی پڑھیں: فضلاء مدارس اور معاش کا مسئلہ: ذمہ دار کون؟
ایک طالب علم اگر اپنے وقت کا صحیح استعمال کرے تو وہ درسیات میں پختگی کے ساتھ ساتھ روزانہ 20_ 25 صفحات بآسانی پڑھ سکتا ہے، بسہولت وہ اپنے ذوق کے مطابق عربی، اردو یا کسی اور زبان میں ایک صفحہ دو صفحہ اپنے تأثرات پابندی کے ساتھ اپنی بیاض یا ڈائری میں لکھ سکتا ہے، روزانہ کی بنیاد پر وہ کوئی حدیث پاک، قرآن پاک کی مخصوص آیات اور مخصوص سورتیں، عربی اردو کے عمدہ اشعار، امثال و حکم کو اپنے حافظے میں محفوظ کر سکتا ہے اور اپنے دامن علم کو خوب مالامال کر سکتا ہے، وہ کسی عالم، کسی فاضل، کسی صاحب دل، کسی استاذ یا اپنے بزرگوں کی صحبت میں کچھ گھڑیاں گزار کر ان کے تجربات و مشاہدات اور ان کی گفتگو سے مستفید ہو سکتا ہے، وہ اپنے وقت کا کچھ حصہ اپنے مطالعے اور مشاہدے پر غور و فکر کے لیے مختص کر سکتا ہے اور اس کے ذریعے نتائج اخذ کر کے ذہنی اور فکری صلاحیتوں کو پروان چڑھاسکتا ہے۔
ایک استاذ اور ایک مدرس اپنے وقت کا صحیح استعمال کرتے ہوئے اپنے فن میں پختگی کی طرف اپنا سفر تیز کر سکتا ہے اور اپنے فن کی چیدہ اور اہم ترین کتب حاصل کر کے روزآنہ کی بنیاد پر ان کے مطالعے کو اپنی عادت میں شامل کر کے اپنے علمی قد، علمی وزن اور علمی وقار میں اضافہ کرسکتا ہے اور اپنے فن میں ماہرانہ صلاحیتوں کا حامل ہو سکتا ہے، اپنی یادداشت کو، اپنے حاصل مطالعہ اور مختلف چیزوں کو قید تحریر میں لا سکتا ہے اور اپنی قلمی کاوشوں سے ایک عالم کو فیض پہونچانے کا اہل بن سکتا ہے، اپنے علم سے، اپنے تجربات سے، اپنے مواعظ اور خطبات سے اپنے طلبہ اور عوام کو مستفیض کر سکتا ہے، اپنی کوشش کے ذریعے اپنے ماحول میں دینی بیداری پیدا کر سکتا ہے، لوگوں کی گم راہیوں، ان کی بے راہ رویوں کی خرابیاں ان پر واضح کر کے انہیں صراط مستقیم پر ڈال سکتا ہے، درس قرآن، درس حدیث اور دیگر دروس، جمعہ کے خطبات کے ذریعے سماج میں دینی، فکری اور علمی بیداری پیدا کر سکتا ہے۔
ایک عام شخص اگر اس بات کا تہیہ کر لے کہ وہ اپنے وقت کا صحیح استعمال کرے گا تو وہ صوم و صلاۃ، تلاوت قرآن مجید اور ذکر و اذکار کی پابندی کے ساتھ ساتھ روزآنہ کی بنیاد پر کسی مفید کتاب کا مطالعہ کر کے یا کسی ہنر کو سیکھ کر، کسی زبان کو سیکھ کر اپنی زندگی کو خود اپنے لیے اور اپنے متعلقین کے لیے مفید اور بارآور بنا سکتا ہے، لایعنی اور فضول کاموں سے بچتے ہوئے اپنا وقت گزار سکتا ہے۔
ظاہر ہے یہی وقت ہے جس کا بہترین اور منظم استعمال ترقی کی راہیں کھولتا ہے اور اس کا غلط استعمال یا تضییع اوقات ترقی، خوشی اور خوش حالی کے تمام راستوں کو مسدود کرنے کا سبب بنتا ہے اور آنکھوں میں دنیا کو تاریک بنا دیتا ہے۔
آج جو قومیں، جو افراد یا ملک پسماندہ ہیں، یا ترقی کی دوڑ میں پیچھے ہیں، کہیں نہ کہیں اس کے افراد، اس کے جوان اور بزرگ تضییع اوقات کے مرتکب ہوئے ہیں اور ہورہے ہیں، وہ اپنے وقت کا صحیح استعمال نہیں کرتے، وہ وقت کی تنظیم کے فوائد سے نابلد ہیں۔ اور جو قوم، جو ملک، جو ملت آج دنیا کے نقشے پر کہیں نہ کہیں ترقی یافتہ نظر آتی ہے، یقیناً اس کے افراد، اس کے جوان اور بزرگ اپنے وقت کا صحیح استعمال کرتے ہیں اور تضییع اوقات کی لعنت سے دور ہیں۔
وہ شخص قابل رحم ہے جو شکوہ بلب ہے کہ اس کے لیے خوش حالی اور ترقی کے راستے بند ہیں لیکن تضییع اوقات کا مرتکب ہوتا ہے، کام یابی اور خوش حالی کی شاہ کلید وقت کی صورت میں اس کے پاس موجود ہے اور وہ بدبخت اور بد نصیب اس شاہ کلید سے اپنی ترقی اور خوش حالی کے بند دروازوں کو کھولنے کے لیے آمادہ نہیں ہے۔
ہماری ترقی کا راز وقت کی صحیح تنظیم، وقت کے صحیح استعمال اور وقت کے حکیمانہ صرف میں مضمر ہے، جتنی جلدی ہم یہ بات سمجھ لیں گے اتنی ہی جلدی ترقی، کام یابی اور خوش حالی کے راستے ہمارے لیے کھلتے چلے جائیں گے، یہ بات نوجوانوں کو بھی سمجھنی ہوگی اور بزرگوں کو بھی، مردوں کو بھی سمجھنی ہوگی اور خواتین کو بھی، تب جا کر ایک صالح اور صحت مند سماج کا ظہور عمل میں آئے گا جس کا ہر فرد سرخ رو، کام یاب، خوش حال، سعادت مند اور قابل رشک ہوگا۔