مصنوعی ذہانت: مدارس کے لیے فکر کا لمحہ

از:۔ ڈاکٹر ابو معاذ

مصنوعی ذہانت AI (Artificial Intelligence) نے دنیا کے تقریباً ہر شعبے میں غیر معمولی تبدیلی پیدا کر دی ہے۔ جو کام پہلے طویل محنت، برسوں کی تربیت اور بڑی افرادی قوت سے انجام پاتے تھے، وہ آج چند لمحوں میں مکمل ہو رہے ہیں۔ تحریر و تصنیف، طبی تشخیص، انجینئرنگ ڈیزائن، پیچیدہ حساب کتاب، فقہی سوالات کے جوابات، گرافکس، آڈیو و ویڈیو ایڈیٹنگ، ترجمہ اور کسٹمر سروس جیسے شعبے تیزی سے اے آئی کے زیرِ اثر آ چکے ہیں۔

چند سال پہلے کال سینٹر ایک وسیع صنعت بن کر ابھری تھی، غیر ملکی زبانیں سیکھنا روزگار کی بڑی ضمانت سمجھا جاتا تھا، اور متعدد پروفیشنل کورسز کو مستقبل کی کنجی مانا جاتا تھا مگر آج ٹیکنالوجی کی برق رفتار ترقی نے ان شعبوں کی نوعیت بدل دی ہے۔ تبدیلی ہمیشہ آتی رہی ہے، مگر اس قدر ہمہ گیر اور تیز رفتار انقلاب پہلے کبھی نہیں آیا جس نے بیک وقت تقریباً ہر میدان کو متاثر کر دیا ہو۔

اس صورتِ حال نے تعلیمی اداروں کو بھی سوچنے پر مجبور کر دیا ہے۔ روایتی ڈگریاں اپنی افادیت کھوتی جا رہی ہیں اور محض عمومی گریجویشن اب عملی زندگی کی ضمانت نہیں رہی۔ ایسا لگ رہا ہے مستقبل انہی افراد کا ہوگا جو علم کے ساتھ مہارت بھی رکھتے ہوں۔

مدارس کے طلبہ کو عموماً ٹیکنالوجی کی تبدیلیوں سے کم متاثر سمجھا جاتا تھا، لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ شعبے بھی تیزی سے بدل رہے ہیں جن کی طرف مدارس کے فارغین کا رخ ہوتا تھا۔ اس لیے یہ سمجھنا کہ دینی تعلیم اس تبدیلی سے بے نیاز رہ سکتی ہے، درست نہیں ہوگا۔

یقیناً رزق کا مالک اللہ تعالیٰ ہے، مگر اسی نے اسباب کا نظام بھی قائم فرمایا ہے۔ شریعت ہمیں توکل کے ساتھ تدبیر کی بھی تعلیم دیتی ہے۔ لہٰذا حالات کے تقاضوں کو نظر انداز کرنا دانشمندی نہیں۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ مدارس کا موجودہ نظام تقریباً ایک صدی پرانا ہے، جبکہ دینی تعلیم کی تاریخ چودہ سو سال سے زائد پر محیط ہے۔ تعلیمی طریقے ہمیشہ بدلتے رہے ہیں۔ ایک وقت تھا جب دینی و دنیاوی علوم میں اس طرح کی تقسیم نہیں تھی۔ علما مختلف فنون سے واقف ہوتے تھے اور معاشرے میں رہنمائی کے ساتھ عملی میدان میں بھی کردار ادا کرتے تھے۔ کوئی تعلیمی نظام منزل من اللہ نہیں ہے، اس میں وقت کے مطابق اصلاح و تجدید کی گنجائش رہتی ہے۔

مدارس کا نصاب عموماً پندرہ سال پر مشتمل ہوتا ہے۔ اگر اس طویل عرصے کو منظم منصوبہ بندی کے ساتھ استعمال کیا جائے تو طلبہ دین کی گہری سمجھ کے ساتھ کسی عملی مہارت میں بھی مہارت حاصل کر سکتے ہیں۔ تدریس، صحت، ٹیکنالوجی، اے آئی، روبوٹکس، ڈرون ٹیکنالوجی اور دیگر مختصر مدتی پروفیشنل کورسز کو مدارس کے اندر یا عالمیت و فضیلت کے بعد منظم انداز میں شامل کیا جا سکتا ہے۔ اس سے فارغین کے لیے معاشی خود کفالت کے دروازے کھلیں گے اور ان کا سماجی وقار بھی مستحکم ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں: نرونے کی کتاب لیک ہونے پر ہنگامہ، دہلی پولیس حرکت میں

مدارس ہماری دینی و تہذیبی شناخت کے محافظ ہیں۔ ان کی بقا اور اثر انگیزی اسی وقت برقرار رہ سکتی ہے جب وہ وقت کے تقاضوں سے ہم آہنگ رہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ذمہ داران سنجیدگی سے غور کریں اور ایسا جامع تعلیمی ماڈل تشکیل دیں جس میں دین اور دنیا کی خلیج کم ہو، اور عالم دین علمی وقار کے ساتھ عملی میدان میں بھی مؤثر کردار ادا کر سکیں۔

اگر بروقت اصلاح نہ کی گئی تو اندیشہ ہے کہ معاشی دباؤ کے باعث نئی نسل مدارس سے دور ہوتی جائے گی۔ اس لیے ضروری ہے کہ دینی تعلیم کے ساتھ قابلِ عمل مہارتوں کو بھی لازمی جزو بنایا جائے، تاکہ آنے والی نسلوں کے لیے دین اور دنیا دونوں کے دروازے یکساں طور پر کھلے رہیں۔

مدرسہ سے فارغ ہے تو اے آئی اچھا جانتا ہوگا، مدرسہ سے فارغ ہے تو ڈرون ٹیکنالوجی اور روبوٹکس جانتا ہوگا، مدرسہ سے فارغ ہے تو انگریزی اچھی جانتا ہوگا، مدرسہ سے فارغ ہے تو ایماندار نرس ہوگا، مدرسہ سے فارغ ہے تو ریاضی میں ماہر ہوگا، مدرسہ سے فارغ ہے تو تدریس اچھی کرے گا وغیرہ وغیرہ کیا مدارس کی پہچان ان میں سے کچھ نہیں بن سکتی ہے؟ بہت آسان ہے، تھوڑی دور اندیشی اور محنت کی ضرورت ہے۔
قرآن اور سیرت پڑھنے پڑھانے والے ٹھان لیں تو کچھ نا ممکن نہیں ہے۔‌ جو بچے کتاب اللہ کو حفظ کرسکتے ہوں ان سے زیادہ محنت کون کرسکتا ہے؟

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔