سیل رواں ڈیسک
بنگلہ دیش میں 12 فروری 2026 کو عام انتخابات کے لیے ووٹنگ جاری ہے، جس میں ایک بار پھر ملک کی سیاست ایک بڑے موڑ پر کھڑی ہے۔ گزشتہ برس ہونے والی سیاسی ہلچل اور اقتدار کے ماحول میں، سابق وزیرِ اعظم شیخ حسینہ کی برطرفی کے بعد طارق رحمان کا نام سب سے مضبوط وزیرِ اعظم امیدوار کے طور پر اُبھرا ہے۔
طارق رحمان کون ہیں؟
طارق رحمان بنگلہ دیش کی مشہور سیاسی خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔ وہ سابق وزیرِ اعظم اور حزبِ اختلاف کی رہنما خالِدہ ضیا اور سابق صدر ضیاء الرحمٰن کے بیٹے ہیں۔ سیاست میں ان کا آغاز 1990 کی دہائی میں ہوا اور 2001 سے 2007 تک وہ اپنی پارٹی بنگلہ دیش نیشنلِسٹ پارٹی (BNP) میں ایک مؤثر اور بااثر رہنما کے طور پر جانے گئے، جس دوران انہیں میڈیا میں "ڈارک پرنس ” کے لقب سے بھی پکارا گیا۔
نکالے جانے اور واپسی کا سفر
2007 میں جب ملک میں فوج کی حمایت یافتہ حکومت آئی، طارق رحمان پر بدعنوانی کے سنگین الزامات لگائے گئے، اور انہیں عدالتوں میں مقدمات کا سامنا کرنا پڑا۔ علاج کے لیے وہ لندن چلے گئے، جہاں انہوں نے تقریباً 17 سال گزارے اور بیرونِ ملک سے اپنی پارٹی کی قیادت کی۔
تاہم شیخ حسینہ کے عہدِ حکومت کے خاتمے کے بعد عدالتوں نے ان کے خلاف کئی فیصلوں کو واپس لیا، جس سے انہیں بنگلہ دیش لوٹ کر سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لینے کا موقع ملا۔
ان کی سیاسی حیثیت
بین الاقوامی مشاہدے کے مطابق طارق رحمان اس بار انتخابات میں سب سے مضبوط وزیرِ اعظم امیدوار ہیں، اور کئی سروے میں تقریباً نصف ووٹرز نے انہیں اگلے وزیرِ اعظم کے طور پر دیکھنے کا امکان ظاہر کیا ہے۔
ان کی بیوی کون ہیں اور کیا کام کرتی ہیں؟
طارق رحمان کی بیوی ڈاکٹر زبیدہ رحمان خود بھی ایک نمایاں شخصیت ہیں۔ وہ 18 مئی 1972 کو سیلہت میں پیدا ہوئیں اور ڈھاکہ میڈیکل کالج سے ایم بی بی ایس کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد 1995 میں بی سی ایس (صحت) میں شمولیت اختیار کیا۔ لندن میں قیام کے دوران انہوں نے امپیریل کالج، لندن سے طبی تعلیم میں ماسٹرز بھی کیا۔
ان کے والد ریئر ایڈمرل محبّوب علی خان بنگلہ دیش نیوی کے سربراہ رہے اور بعد میں وزارتوں کی ذمہ داریاں بھی سنبھالی تھیں۔ زبیدہ رحمان پر بھی ماضی میں قانونی مقدمات کا سامنا رہا، جن میں سزا کے فیصلے بعد میں معطل ہو گئے۔
ان کی بیٹی کیا کرتی ہیں؟
طارق رحمان کی بیٹی ضائمہ رحمان تقریباً 30 سال کی ہیں۔ انہوں نے لندن کی کوئین میری یونیورسٹی سے قانون میں تعلیم حاصل کی اور بعد ازاں لنکن یونیورسٹی سے بیرِسٹر کی ڈگری لی۔ وہ لندن میں بطور بیرِسٹر کام کر چکی ہیں اور حالیہ سیاسی ہلچل کے بعد BNP کی کچھ آن لائن سیاسی میٹنگز میں بھی حصہ لیتے دیکھی گئیں۔
بنگلہ دیش میں یہ انتخابات ایک نیا باب کھول سکتے ہیں، جس میں طارق رحمان کا سیاسی مستقبل اور عوامی حمایت مستقبل کے ایک بڑے سیاسی فیصلہ ساز کے طور پر سامنے آ رہی ہے۔