از:- ڈاکٹر تسلیم احمد رحمانی
بھارت دنیا کی سب سے بڑی کثیر پارٹی جمہوریت ہے اس لیے انتخابات ملک کی روز مر ہ سیاست کا حصہ ہیں ۔ سال بھر ملک کی کسی نہ کسی ریاست میں پنچایت کے لاکھوں ممبران سے لے کر ریاستی اسمبلیوں اور لوک سبھا کے انتخابات یا ضمنی انتخابات ہوتے رہتے ہیں۔ اگلے چند ماہ میں ہی لوک سبھا کی ایک سیٹ کے ضمنی انتخابات سے لے کر راجیہ سبھا کی 77 اور پانچ ریاستی اسمبلیوں آسام، مغربی بنگال، تامل ناڈو، کیرل پوڈو چیری کے علاوہ ملک کی سات ریاستوں کے 11 اسمبلی حلقوں میں ضمنی انتخابات اور تقریبا 23 ریاستوں کی ڈیڑھ سو میونسپل کارپوریشن کے ہزاروں وارڈ ممبران کا الیکشن ہونا ہے۔
انتخابات جمہوریت کی روح اور عوامی خواہش کے آئینہ دار ہوتے ہیں لیکن ہماری جمہوریت میں اس عوامی خواہش کو متاثر کرنے کے جو طریقے اپنائے جاتے ہیں وہ کبھی بھی مثبت نہیں رہے۔ دیگر ممالک میں بھی انتخابات کو متاثر کرنے کے بہت سے طریقے اپنائے جاتے ہیں جو ناپسندیدہ ہوتے ہیں نیز انتخابی حکمت عملی کو متاثر کرنے کے لیے نت نئے حربے اختیار کرنے پر مجبور کرتے ہیں،مگر گزشتہ تقریبا 40 سال سے ہمارے ملک میں جو حربہ مستقل اختیار کیا جا رہا ہے وہ مذہبی منافرت کے ذریعے فرقہ وارانہ تقسیم کر کے انتخابات کو ہر قیمت پہ جیتنے کا حربہ ہے۔ بدقسمتی سے یہ منافرت ہی ملک کا تنہا سیاسی نظریہ بن کے رہ گئی ہے۔ دنیا کے دیگر جمہوری ممالک میں نسلی امتیاز تو کہیں کہیں دیکھنے کو ملتا ہے لیکن نفرت کو انتخاب جیتنے کا ہتھیار عموما نہیں بنایا جاتا۔
ملک میں ہندوتوا کی سیاست آزادی کے بہت پہلے سے ہی سرگرم رہی ہے۔ آزادی کے بعد اس سیاست نے ایوان اقتدار کوتو زیادہ متاثر نہیں کیا لیکن پارلیمانی ادارے اس سے متاثر ضرور ہوئے۔ 1980 کے بعد اس سیاست نے ایوان اقتدار کو بھی اپنی زد میں لے لیا۔ بابری مسجد مخالف تحریک نے محض پانچ سال میں بی جے پی کو مسند اقتدار کے بہت قریب پہنچا دیا۔ تب سے لے کر آج تک اسی سیاسی نظریے کو خوب تقویت ملی اور ہندوتو اکے ارباب حل و عقد نے یہ بخوبی سمجھ لیا کہ ایک جارحانہ ہندوتوا تحریک ان کے لیے اقتدار کی کنجی ہے۔ اس کے مثبت نتائج مسلسل دیکھے جا رہے ہیں۔ 2014 میں مضبوط اقتدار حاصل کر لینے کے بعد وہ مزید شدت اختیار کر گئی اور اسی ایک حکمت عملی کے ذریعے لوک سبھا سے لے کر گاؤں کی پنچایت تک حکومت حاصل کی جا رہی ہے۔ اس صورتحال سے ایک نتیجہ برآمد کیا جانا چاہیے کہ نفرت انگیز سیاست اگر انتخابی حکمت عملی ہے تو وہ ہدف تو حاصل ہو چکا ہے پھر کیوں اس نظریے کی آبیاری کی جا رہی ہے۔ اس کا مقصد اگر محض حصول اقتدار کی تدبیر تھا تو وہ ہر سطح پر پوری طاقت کے ساتھ حاصل کیا جا چکا ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ منافرت کی خلیج کو وسیع کرنے کے کچھ دیگر مقاصد بھی ہیں۔
جن پانچ ریاستی اسمبلیوں میں چناؤ ہونے والا ہے ان میں صرف آسام میں پچھلے دس سال سے بی جے پی کی حکومت ہے۔ اس سال کے الیکشن میں بھی اگر بی جے پی جیتے تو یہ اس کا تیسرا ٹرم ہوگا۔ آسام جیسی شمال مشرقی ریاست میں ایک تاریخی کامیابی اسے مانا جائے گا۔ لیکن اگر پارٹی ہار گئی تو اس سال کی سب سے بڑی ناکامی ہوگی جس کی ذمہ داری سے بی جے پی کے نئے نویلے قومی صدربھی نہیں بچ سکیں گے۔ اور خود آسام کے وزیراعلی ہیمنت بسوا س شرما کے سیاسی مستقبل پر بھی اس کا اثر پڑے گا ،اس لیے آسام کا قلعہ جیتنا پارٹی کے لیے بے حد ضروری ہے۔ اور وزیراعلی کے لیے بھی۔ علاوہ ازیں شمالی مشرق کی دیگر ریاستیں جو پہلے سے ہی بی جے پی کی طرف سے کافی مشکوک ہو چکی ہیں وہاں بھی پارٹی کا سیاسی مستقبل اثر انداز ہوگا ۔ویسے بھی اصل میں عوام بی جے پی کے 10 سالہ اقتدار سے تھک چکے ہیں۔ اس دوران وہاں کرپشن تیزی سے بڑھا بھی ہے اور پھیلا بھی ہے۔ ترقیاتی کاموں میں بھی کمی آئی ہے۔ اس کے لیے پارٹی لیڈرشپ وزیراعلی کو دبے لفظوں میں ذمہ دار مانتی ہے۔ ویسے بھی یہ وزیراعلی بنیادی طور پر کانگریسی ہیں اور اس زمانے میں بھی وزارت اعلی کے دعوے دار تھے، مگر کانگریس کی مقامی سیاست کی وجہ سے ان کو یہ موقع نہیں مل پا رہا تھا ادھر بی جے پی کے پاس بھی ریاست گیر سطح پر پارٹی کا کوئی نمایاں چہرہ نہیں تھا تو ہیمنت بسواس شرما سے پارٹی نے فائدہ اٹھایا لیکن نظریاتی طور پر ہیمنت بسواس شرما ہمیشہ سے ہندوتوا وادی ہی رہے ہیں، لیکن کانگریس کے سیکولر پردے میں چھپے ہوئے تھے ان تمام حالات کے تحت ان کی مجبوری بن گئی ہے کہ وہ پارٹی کے نفرت انگیز سیاست کا نمایاں چہرہ بن جائیں۔ اکثر دیکھا جا رہا ہے کہ بی جے پی میں جن چہروں کو زیادہ اہمیت نہیں ملتی وہ اپنا قد بڑھانے کے لیے یہ حربہ استعمال کرتے ہیں اور جن کو جگہ مل جاتی ہے وہ اسے برقرار رکھنے کے لیے بھی یہی طریقہ اختیار کرتے ہیں۔ اس طرح نفرت انگیزی کی اس ریس میں اپنا قد بڑے سے بڑا رکھنے کی جدوجہد ہر سطح پر سب کر رہے ہیں ۔ ریاست اتر پردیش میں یہ دوڑ زیادہ تیز ہے۔
لیکن یہ سیاسی جد و جہد ایک طرف اور اس کے ذریعے سے پارٹی کے لیڈران کی ترقی بھی ایک طرف، اصلا اس کا جو بڑا نقصان زمینی سطح پر ہو رہا ہے وہ تشویش ناک ہے۔
حال ہی میں آسامی وزیراعلی کے فرقہ ورانہ مسلم مخالف بیان پر ملک بھر میں تنقید کی گئی ہے، اور معاملہ عدالت تک بھی گیا ہے سپریم کورٹ کی تیوریوں پر بھی بل محسوس ہو رہے ہیں ۔ان کا بیان درحقیقت ہے ہی غیر قانونی جس پر سزا بھی مل سکتی ہے لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ اس قسم کا بیان دستوری پوزیشن پر بیٹھے کسی شخص کی جانب سے پہلی بار نہیں آیا ہے۔ گزشتہ 11 سال میں ہزاروں ایسے بیانات کی فہرست موجود ہے جس میں ملک کے وزیراعظم، وزیر داخلہ، وزیراعلی، گورنر، پارلیمانی ممبران حتی کہ ججوں کی طرف سے بھی مسلمانوں اور ان کے دین کے خلاف شدید زہر آلود بیان دیے گئے ہیں۔ اور ان بڑی شخصیات کے ان بیانات پر چند دن میڈیا میں بحث کرنے کے بعد معاملہ رفع دفع کر دیا گیا ،اور کسی کا کوئی مواخذہ نہیں ہوا ۔اس کا نتیجہ یہ ہے کہ اس قسم کے بیانات سن کر سماجی طور پر اب زیادہ بے چینی پیدا نہیں ہوتی ۔گویا یہ زبان اور لہجے ایک مذہبی اکائی کے خلاف نفرت انگیزی ہمارے ماحول میں ایک عام سا واقعہ بن کے رہ گیا ہے۔
غالبا 2001 کی بات ہے کہ ملک کے اس وقت کے وزیر داخلہ اور نائب وزیراعظم لال کرشن اڈوانی جی کا بیان ریکارڈ پر موجود ہے جس میں انہوں نے کہا کہ’’ سارے مسلمان دہشت گرد نہیں ہیں لیکن ہر دہشت گرد مسلمان ہے‘‘۔ سب جانتے ہیں کہ بیان سراسر جھوٹ پر مبنی ہے۔ ملک میں 1970 سے جاری نکسلی تحریک ،شمال مشرقی ریاستوں کی تحریکیں ۔سکھ تحریک وغیرہ وغیرہ میں کون مسلمان شریک تھا ۔اس بیان پر سیکولر پارٹیوں کا بھی کوئی خاص رد عمل سامنے نہیں آیا ۔اسی طرح 2017 میں تریپورہ کے گورنر تتھاگت رائے نے واضح کیا کہ’’ ملک کو ہندو راج بنانے کے لیے ایک خانہ جنگی سے گزرنا پڑے گا‘‘۔ سب خاموش رہے۔ 2020 میں دلی میں ایک مرکزی وزیر نے بھی گولی مارنے کا مشورہ کھلے عام دیا تھا ۔یہاں تک کہ وزیراعظم نے انتخابی ریلیوں میں کس کس جہاد کا نام نہیں لیا۔ یو پی کے وزیراعلی تو کھلے عام ٹھوکنے کی بات کرتے ہیں اور تالیاں بجائی جاتی ہیں یہ تو چند جانے پہچانے نام ہیں اگر سب لیڈران کے بیانات بیان کیے جائیں تو شاید کئی صفحات درکار ہوں نفرت انگیز بیانات کے واقعات کا تجزیہ بتاتا ہے کہ محض 2024 میں اہم شخصیات کی جانب سے مسلمانوں کے خلاف اس قسم کے بیانات کی تعداد 1100 ہے جس میں پچھلے سال کے مقابلے 75 فیصد اضافہ ہوا ہے اس سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ اگر بی جے پی کے وزیر۔ ایم پی ۔ایم ایل اے وغیرہ قانون سے ڈرے بغیر دھڑلے سے یہ نفرت پھیلا رہے ہیں تو بی جے پی کے زمینی کارکنان کا کیا حال ہوگا۔
اس تشویش ناک صورتحال کو محض ایک انتخابی حکمت عملی کہہ کر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا جو کہ عام طور پر اپوزیشن کی نام نہاد سیکولر پارٹیاں کرتی ہیں۔ بلکہ یہ کہہ کر دراصل یہ جماعتیں اپنی ذمہ داری سے فرار اختیار کرتی ہیں۔ اس لئے اس ملک کی سول سوسائٹی، سیکولر ادارے اور سماجی انصاف و فرقہ وارانہ ہم آہنگی میں یقین رکھنے والے تمام اداروں جماعتوں اور تنظیموں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس روش کے خلاف منظم عوامی تحریک چلائیں اور عدالتوں میں بھی ان واقعات کے خلاف سنجیدہ پیروی کریں۔ الیکشن جیتنا سیاسی جماعتوں کی مجبوری ہو سکتی ہے لیکن اس جیت کے نام پر سماج کو توڑنا ملک کے خلاف بغاوت کے ہم معنی سمجھا جانا چاہیے اور اس بغاوت کو کچلنے کی ذمہ داری پورے بھارتی سماج کو مشترکہ طور پر اٹھانی چاہیے ۔ اس قسم کے لیڈروں کا سماجی بائیکاٹ کرنا کیا جانا چاہیے۔ ایک پرامن، انصاف پسند اور متحدہ سماج کے بغیر ہم وشو گرو کبھی نہیں بن سکتے۔