از:- محمد فداء المصطفیٰ قادری
رمضان المبارک اللہ تعالیٰ کی وہ عظیم اور بے مثال نعمت ہے جو سال میں صرف ایک مرتبہ نصیب ہوتی ہے، اور خوش نصیب ہیں وہ لوگ جو اس بابرکت مہینے کی قدر و قیمت کو پہچانتے اور اس کے لمحات کو غنیمت جانتے ہیں۔ اب اس مقدس مہینے کی آمد میں چند ہی لمحے باقی رہ گئے ہیں۔ جونہی یہ ماہِ رحمت طلوع ہوتا ہے، فضل و مغفرت کے دروازے کھل جاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر بے شمار برکتیں نازل فرماتا ہے۔ اس مہینے کے دن اور راتیں خصوصی رحمت کا پیغام لے کر آتی ہیں، دعائیں قبولیت کا شرف پاتی ہیں، نیک اعمال کے اجر کو کئی گنا بڑھا دیا جاتا ہے، اور گناہگاروں اور خطاکاروں کو اپنی بے پایاں رحمت کے سائے میں معاف فرما دیا جاتا ہے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: جب رمضان قریب آتا ہے تو جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں، جہنم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں، سرکش شیطانوں کو جکڑ دیا جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی جانب سے ایک منادی اعلان کرتا ہے: اے برائی کے خواہش مند! باز آ جا، اور اے بھلائی کے طلب گار! آگے بڑھ۔ (بخاری)
ماہِ صیام اس وقت طلوع ہو رہا ہے جب مسلمان مختلف اور پیچیدہ مسائل میں گھرے ہوئے ہیں، جن کا مقابلہ کرنا اللہ تعالیٰ کی خاص مدد اور نصرت کے بغیر ممکن نہیں، وہی مدد جس کا وعدہ اس نے اپنے مومن بندوں سے فرمایا ہے: یہ وہ لوگ ہیں کہ اگر ہم انہیں زمین میں اقتدار عطا کریں تو وہ نماز قائم کریں گے، زکوٰۃ ادا کریں گے، نیکی کا حکم دیں گے اور برائی سے روکیں گے۔ اور تمام امور کا انجام اللہ ہی کے ہاتھ میں ہے۔ (الحج ۲۲:۴۱)
آج مسلمان وادیٔ نیل، فلسطین اور جزائرِ عرب جیسے سنگین مسائل سے دوچار ہیں، اسی طرح ہندوستان، پاکستان، بنگلہ دیش اور مسلم ممالک میں مسلم اقلیت کو درپیش مشکلات بھی نہایت تشویش ناک ہیں۔ اس کے علاوہ یورپ اور افریقہ میں بھی مسلمان بے شمار گمبھیر مسائل میں گھرے ہوئے ہیں، جن سے نجات اللہ تعالیٰ کی خاص مدد کے بغیر ممکن نہیں۔ اور یہ حقیقت ہے کہ اللہ کی نصرت نافرمانی سے نہیں بلکہ اطاعت و فرماں برداری سے حاصل ہوتی ہے۔
لہٰذا اس عظیم اور بابرکت موقع سے بھرپور فائدہ اٹھانے کے لیے خود کو تیار کیجیے۔ اپنے دلوں کو ہر طرح کی آلائش سے پاک کیجیے، اپنے نفس کو نیکی پر آمادہ کیجیے، پورے شوق اور اخلاص کے ساتھ رمضان کا استقبال کیجیے، کثرت سے توبہ و استغفار کا اہتمام کیجیے اور ہر حال میں اللہ سے اپنا رشتہ مضبوط رکھیے، تاکہ اللہ آپ کے ساتھ رہے۔ جب اللہ ساتھ ہو تو وہ اپنی مدد و نصرت نازل فرماتا ہے، اور جس پر اللہ کی مدد ہو، اس پر کوئی غالب نہیں آ سکتا۔
عبادت کی حکمت
اسلام میں جن اعمال اور عبادات کو فرض یا واجب قرار دیا گیا ہے، ان کے پسِ پشت بڑی گہری حکمت پوشیدہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر بے پناہ شفقت فرماتے ہوئے ان کے لیے ایسے اصول مقرر کا ہے جو ان کی دنیا و آخرت کی کامیابی اور فلاح کا ذریعہ بنتے ہیں۔
اللہ کے حضور قبول ہونے والی عبادت کی سب سے بنیادی شرط خلوصِ نیت اور دل کی یکسوئی ہے۔ اگر عبادت میں اللہ کی رضا مقصود نہ ہو تو وہ بے روح رہ جاتی ہے، نہ اس کی کوئی قدر ہوتی ہے اور نہ ہی اس پر کوئی اجر ملتا ہے۔ اسی لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بہت سے روزہ دار ایسے ہوتے ہیں جنہیں اپنے روزے سے سوائے بھوک اور پیاس کے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔
اسلام کا دوسرا نمایاں اصول یہ ہے کہ وہ بندوں کو تنگی اور مشقت میں نہیں ڈالتا بلکہ آسانی اور سہولت فراہم کرتا ہے۔ اسی بنا پر مریض کو روزہ چھوڑنے کی اجازت دی گئی ہے تاکہ صحت یاب ہونے کے بعد اس کی قضا کرسکے، اور اگر صحت کی امید نہ ہو تو فدیہ ادا کرے۔ یاد رکھنا چاہیے کہ بغیر کسی عذر کے عبادت ترک کرنا دراصل ہمیشہ کی محرومی اور نقصان کا سبب بنتا ہے۔
تیسرا نہایت اہم پہلو یہ ہے کہ ان تمام عبادات کے اثرات انسان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں نمایاں طور پر ظاہر ہونے چاہییں۔ یہ فرائض محض رسمی ادائیگی یا ظاہری عبادت کے لیے مقرر نہیں کیے گئے، بلکہ ان کا مقصد آخرت کی کامیابی کے ساتھ ساتھ دنیاوی زندگی کی اصلاح، کردار کی تعمیر اور معاشرے کی بہتری بھی ہے۔ اسلام نے کوئی ایسا عمل فرض نہیں کیا جس کے ثمرات انسان کی عملی زندگی میں جھلکتے نہ ہوں۔ شریعت نے جس چیز کا حکم دیا ہے، وہ سراسر خیر اور بھلائی پر مبنی ہے اور بندوں کی زندگی پر اس کے مثبت اور خوش گوار اثرات مرتب ہوتے ہیں، اور جس کام سے منع کیا ہے، وہ اس لیے کہ وہ انسانی زندگی کے لیے نقصان دہ، تباہ کن اور بگاڑ کا سبب بنتا ہے۔
اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: پس آج یہ رحمت اُن لوگوں کے لیے ہے جو اس پیغمبر، نبی اُمّی صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی اختیار کرتے ہیں، جن کا ذکر وہ اپنے پاس تورات اور انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں۔ وہ انہیں نیکی کا حکم دیتے ہیں، برائی سے روکتے ہیں، ان کے لیے پاکیزہ چیزوں کو حلال اور ناپاک چیزوں کو حرام قرار دیتے ہیں، اور ان پر سے وہ بوجھ اتار دیتے ہیں جو ان پر لدے ہوئے تھے اور وہ بندشیں کھول دیتے ہیں جن میں وہ جکڑے ہوئے تھے۔ (الاعراف ۷:۱۵۷)
میں مسلم حکومتوں سے پُرزور اپیل کرتا ہوں کہ وہ دیگر ملکی قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کی طرح رمضان المبارک کے مہینے میں بلاعذرِ شرعی روزہ نہ رکھنے والوں کے لیے بھی مناسب اور مؤثر سزائیں مقرر کریں، تاکہ کسی کو اس ماہِ مقدس کی حرمت پامال کرنے کی جرأت نہ ہو۔ اس سلسلے میں صرف چند سرکاری محکموں کی جانب سے اپنے ذیلی اداروں کو رمضان کے احترام پر مشتمل رسمی ہدایات جاری کر دینا کافی نہیں، کیونکہ عموماً نہ ان پر عمل کیا جاتا ہے اور نہ ہی ان کی خلاف ورزی پر کوئی عملی کارروائی کی جاتی ہے۔ لہٰذا حکومت کو چاہیے کہ وہ اپنی ذمہ داری کو محسوس کرتے ہوئے اس حوالے سے سنجیدہ، ٹھوس اور مؤثر اقدامات اٹھائے، تاکہ معاشرے میں رمضان المبارک کے تقدس اور عظمت کا حقیقی طور پر تحفظ ہو سکے۔
نیکیوں کا موسمِ بہار
اسلام میں عبادت محض کسی قانونی تقاضے کی ادائیگی یا کسی ظاہری بوجھ سے سبکدوش ہونے کا نام نہیں، بلکہ یہ ربِ کائنات اور بندۂ مؤمن کے درمیان قائم ہونے والے اُس پاکیزہ اور لطیف روحانی رشتے کی علامت ہے، جو دلوں کو نورِ ایمان سے منور اور سینوں کو سکینت و اطمینان سے لبریز کر دیتا ہے۔ یہ عبادات انسانی روح میں ایسی سرمدی روشنی بکھیرتی ہیں جو گناہوں کی سیاہی، وسوسوں کی گھٹا اور اندیشوں کی تاریکی کو چاک کر دیتی ہے۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ انسان کی اصل عزت و سربلندی اسی میں ہے کہ وہ خاک سے اٹھ کر عبادت کے ذریعے عرشِ الٰہی تک رسائی حاصل کرے اور ربِ ذوالجلال کے حضور سربسجود ہو کر راز و نیاز کے نذرانے پیش کرے۔
رمضان المبارک اطاعت و عبادت کا وہ دلکش موسمِ بہار ہے جس میں اللہ تعالیٰ بندوں کے شب و روز کو نور، برکت اور رحمت کے گل ہائے رنگارنگ سے آراستہ فرما دیتا ہے، اور یہی اس مہینے کے حسن و جمال کا حقیقی جوہر ہے۔ اطاعت گزاری اگرچہ ہر وقت مطلوب اور ہر آن محبوب ہے، مگر رمضان میں اس کی قدر و قیمت، تاثیر و معنویت اور لطف و لذت کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔ اس مہینے کی روح اور اس کا جوہر روزہ ہے، جو محض بھوک اور پیاس کا نام نہیں بلکہ ضبطِ نفس، تہذیبِ ارادہ اور تطہیرِ شعور کا جامع عنوان ہے۔ روحانی اعتبار سے اپنی فکر، نیت اور زندگی کے تمام زاویوں کو اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کے قرب کے حصول کا محور بنا لینا ہی تقویٰ ہے، اور روزہ اس تقویٰ کو جلا بخشنے، اسے پروان چڑھانے اور دل کی زمین میں ایمان کی شادابی پیدا کرنے کا سب سے مؤثر اور بابرکت وسیلہ ہے۔
قرآن سے خصوصی تعلق
رمضان المبارک وہ بابرکت مہینہ ہے جو دلوں کو قرآن کے نور سے منور کرنے، روحوں کو اس کی حرارت سے زندہ کرنے اور زندگیوں کو اس کی ہدایت سے ہم کنار کرنے کا پیغام لے کر آتا ہے۔ یہی وہ مہینہ ہے جس میں قرآنِ مجید نازل ہوا، اسی لیے اس ماہِ مقدس میں کلامِ الٰہی کے ساتھ خصوصی تعلق قائم کرنا، کثرت سے اس کی تلاوت کرنا اور دل کی گہرائیوں سے اس کے معانی میں غوطہ زن ہونا ایمان کی تازگی اور روح کی بالیدگی کا سب سے مؤثر ذریعہ ہے۔ حضرت جبریلِ امینؑ ہر سال رمضان میں بارگاہِ مصطفیٰؐ میں حاضر ہو کر قرآنِ حکیم سنتے تھے، اور آپؐ کی حیاتِ طیبہ کے آخری برس یہ سعادت دوبار نصیب ہوئی۔ یہ وہی قرآن ہے جو صحابۂ کرامؓ کے سینوں میں محفوظ تھا، وہی کلامِ ربانی جو ہمارے اسلاف کے قلوب کی دھڑکن تھا، اور وہی صحیفۂ ہدایت جو آج بھی ہمارے ہاتھوں میں موجود ہے۔
پھر آخر کیا سبب ہے کہ یہی قرآن اُن کی زندگیوں میں انقلاب بن کر اترا اور ہماری زندگیوں میں محض تلاوت بن کر رہ گیا؟ کیوں اس کے نور نے اُن کے اخلاق کو سنوارا، کردار کو نکھارا اور معاشرے کو بدل دیا، مگر ہمارے اندر وہ حرارت، وہ تاثیر اور وہ ہمہ گیر تبدیلی پیدا نہ ہو سکی؟ کیوں ہمارے دل اس کی آیات سے لرزتے نہیں، ہماری آنکھیں نم نہیں ہوتیں اور ہماری زندگیاں اس کے سانچے میں نہیں ڈھلتیں؟
اس کا راز یہ ہے کہ انہوں نے قرآن کو محض پڑھا نہیں بلکہ جیا؛ انہوں نے اس پر ایمان ہی نہیں لایا بلکہ اس کے سامنے سرِ تسلیم خم کیا؛ انہوں نے اس کے احکام کو الفاظ کی حد تک محدود نہیں رکھا بلکہ عمل کے قالب میں ڈھال دیا؛ انہوں نے اپنی خواہشات، ارادوں اور ترجیحات کو اس کی مرضی کے تابع کر دیا۔ وہ قرآن کے قاری نہیں بلکہ اس کے ترجمان تھے، وہ اس کے سامع نہیں بلکہ اس کے امین تھے۔اسی لیے تو ڈاکٹر اقبال کا یہ شعر بڑا مقبول ہے:
وہ زمانے میں معزز تھے مسلماں ہو کر
اور آج ہم خار ہوئے تارکِ قرآں ہو کر
آج بھی اگر ہم اس کتابِ ہدایت کو اسی صدقِ دل، اسی خلوصِ نیت اور اسی سپردگیِ کامل کے ساتھ تھام لیں، تو بعید نہیں کہ ہمارے وجود میں بھی وہی نور اتر آئے، ہمارے اخلاق میں بھی وہی انقلاب برپا ہو جائے اور ہماری زندگیوں میں بھی وہی تازگی اور شادابی لوٹ آئے۔ شرط صرف یہ ہے کہ ہم اس کے حلال کو حلال جانیں، اس کے حرام کو حرام مانیں، اس کی آیات میں تدبر کریں، اس کے احکام کو نافذ کریں اور اپنی پوری زندگی کو اس کے نور میں ڈھال دیں۔ اب یہ سوال ہمارے سامنے ہے کہ کیا ہم اس عظیم تبدیلی کے لیے تیار ہیں؟
صدقہ اور کثرتِ استغفار
رمضان المبارک کی امتیازی خصوصیات میں کثرتِ صدقہ و خیرات اور غریبوں، محتاجوں اور مساکین کی دست گیری کو نمایاں مقام حاصل ہے۔ یہ وہ مہینہ ہے جس میں دلوں میں ایثار کی چنگاری بھڑکتی اور ہاتھوں میں سخاوت کی روانی اتر آتی ہے۔ نبیِ رحمت ﷺ سراپا جود و سخا تھے، مگر رمضان میں آپؐ کی فیاضی تیز رفتار ہوا کی مانند ہو جاتی تھی، جو بلا روک ٹوک ہر سمت خیر و برکت بکھیرتی چلی جاتی ہے۔ گویا یہ مہینہ انسان کو محض عبادت گزار نہیں بلکہ دردِ دل رکھنے والا، ہمدرد اور غم گسار بننے کی تربیت دیتا ہے۔
اسی طرح دعا اور کثرتِ استغفار بھی اس ماہِ مقدس کی خاص عبادات میں شامل ہیں۔ یہ دعاؤں کی قبولیت کا موسمِ بہار ہے، جس میں رحمتِ الٰہی کے دروازے کھل جاتے ہیں، مانگنے والوں کی جھولیاں بھر دی جاتی ہیں اور توبہ کرنے والوں کی لغزشیں معاف کر دی جاتی ہیں۔ روزے دار کی دعا رد نہیں کی جاتی، بلکہ بارگاہِ الٰہی میں قبولیت کا شرف پاتی ہے۔ لہٰذا اے میرے مسلمان بھائیو! کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ مبارک راتیں یوں ہی غفلت کی نذر ہو جائیں اور ہم اللہ کی بے پایاں رحمتیں سمیٹے بغیر، اس کی رضا حاصل کیے بغیر ہی اس ماہِ عظیم سے رخصت ہو جائیں۔
آج جب ہر سمت نفسا نفسی کا عالم ہے، دل بے چین اور روح بے قرار ہے، اللہ تعالیٰ نے رمضان المبارک کو سکونِ قلب اور اطمینانِ روح کا سامان بنا دیا ہے۔ اس مہینے میں دن کو روزے کے ذریعے دنیاوی لذتوں، نفسانی خواہشات اور لغو مشاغل سے کنارہ کشی اختیار کی جاتی ہے، اور رات کو قیام، تلاوتِ قرآن اور مناجات کے نور سے دلوں کو منور کیا جاتا ہے۔ یوں یہ مہینہ انسان کو ظاہری و باطنی تطہیر کا پیغام دے کر اسے قربِ الٰہی کی شاہراہ پر گامزن کر دیتا ہے۔
میرے عزیز بھائیو! یہ لمحے بڑی سعادت اور عظیم نعمت لے کر آئے ہیں، اس لیے اس موقعے سے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے پہلے ہی دن سے پختہ عزم اور مضبوط ارادے کے ساتھ اس میں داخل ہو جائیے۔ اپنے دل و دماغ کو ہر آن توبہ و استغفار سے زندہ رکھیے اور اپنی کوتاہیوں پر ندامت کے ساتھ بارگاہِ الٰہی میں رجوع کرتے رہیے۔ قرآنِ پاک کی تلاوت کو محض معمول نہ بنائیے بلکہ غور و فکر، تدبر اور خشوع و خضوع کے ساتھ اسے اپنی زندگی کا حصہ بنائیے۔ اپنے نفس کو روزے کی برکتوں، اس کی روحانی تاثیر اور اس کے عظیم فوائد سے روشناس کرائیے۔ حتی المقدور قیامُ اللیل کا اہتمام کیجیے کہ یہی لمحات قربِ الٰہی کے خاص مواقع ہوتے ہیں۔ ذکر و فکر میں زیادہ سے زیادہ وقت صرف کیجیے تاکہ دل کی دنیا روشن ہو اور روح کو تازگی نصیب ہو۔ مادیت کے فتنوں سے اپنی روح کی حفاظت کیجیے اور پوری کوشش کیجیے کہ اس ماہِ مبارک کے اختتام پر آپ کا شمار متقیوں اور پرہیزگاروں میں ہو۔