✍🏻 محمد عادل ارریاوی
________________
محترم قارئین! رمضان المبارک کی مبارک ساعتیں ہمارے سروں پر سایہ فگن ہیں، یہ وہ مہینہ ہے جو سال بھر کی گرد کو جھاڑنے دلوں کو منور کرنے اور روح کو تازگی بخشنے کے لیے آتا ہے یہ صرف کیلنڈر کا ایک مہینہ نہیں بلکہ رحمتوں مغفرتوں اور نجات کا پیغام لے کر آنے والا الٰہی تحفہ ہے۔
رمضان المبارک کی قیمتی گھڑیاں اور بابرکت ساعتیں شروع ہو چکی ہیں اور بہت تیزی سے گزرتی جارہی ہیں جو مہینہ گیارہ مہینوں کے طویل اور لمبے عرصے کے بعد نصیب ہوا تھا اب وہ شروع ہو کر اختتامی سفر کی طرف رواں دواں ہے خوش نصیب نیک بخت اور سعادت مند مرد و خواتین تو اس مہینے کی قدر و قیمت کو جانتے پہنچانتے ہیں مگر غافل لوگوں کو یہ مہینہ کھانے پینے کے معمولات آگے پیچھے ہو جانے سے زیادہ اور کچھ محسوس نہیں ہوتا صرف تین عشروں پر مشتمل یہ مہینہ کتنی تیزی اور برق رفتاری کے ساتھ گزر جاتا ہے۔ رمضان المبارک کا مقدس مہینہ اس لیے آتا ہے کہ سال کے گیارہ مہینے انسان اپنی مادی مصروفیات میں اتنا منہمک رہتا ہے کہ وہی مصروفیات اس کی توجہ کا مرکز بن جاتی ہیں اور اس کے دل پر روحانی اعمال سے غفلت کے پردے پڑنے لگتے ہیں عام دنوں کا حال یہ ہے کہ چوبیس گھنٹے کی مصروفیات میں خالص عبادتوں کا حصہ عموماً بہت کم ہوتا ہے اور اس طرح انسان اپنے روحانی سفر میں جسمانی سفر کی بہ نسبت بہت پیچھے رہ جاتا ہے شریعت کی طرف سے رمضان کے مہینہ میں رات اور دن کا ایک جامع پروگرام روزے اور تراویح و غیرہ کی شکل میں تشکیل دے کر مادی مصروفیات کی جگہ روحانی مصروفیات کو مقرر کر دیا گیا اس طرح رمضان کا مہینہ اس لیے رکھا گیا ہے کہ اس مبارک مہینے میں ہر مسلمان جسمانی غذا کی مقدار کم کر کے روحانی غذا میں اضافہ کرے اور اپنے جسمانی سفر کی رفتار ذرا دھیمی کر کے روحانی سفر کی رفتار بڑھا دے۔
رمضان صرف سحری اور افطاری کا نام نہیں بلکہ یہ ایک تربیتی کورس ہے جس سے ہر سال مسلمانوں کو گزارا جاتا ہے اس کا مقصد یہ ہے کہ انسان کا تعلق اپنے خالق و مالک کے ساتھ مضبوط ہو اسے ہر معاملے میں اللہ سے رجوع کرنے کی عادت پڑے وہ ریاضت اور مجاہدہ کے ذریعے اپنے بُرے اخلاق کو کچلے اور اعلیٰ اوصاف و اخلاق اپنے اندر پیدا کرے اس کے اندر نیکیوں کا شوق اور گناہوں سے پر ہیز کا جذبہ بیدار ہو اس کے دل میں اللہ کا خوف اور آخرت کی فکر کی شمع روشن ہو جو اسے رات کی تاریکی اور جنگل کے ویرانے میں بھی غلط کاریوں سے محفوظ رکھے اسی کا نام تقویٰ ہے اور قرآن کریم نے اسی کو روزوں کا اصل مقصد قرار دیا ہے۔
رمضان المبارک کا مہینہ نفس کی ریاضت اور باطن کے تزکیہ و صفائی کا مہینہ ہے یہ انسان کو طاعت و عبادت کا خوگر بنانے اور اس کے دل و نفس کو چمکا دینے کا تربیتی نظام ہے اس مبارک مہینے میں اللہ ربّ العزت کی رحمت کی گھٹائیں برستی ہیں ہدایت و مغفرت کے فیصلے ہوتے ہیں اور جسم و جان سے گناہوں کا میل مٹتا ہے اس مبارک مہینے کی خصوصیت یہ ہے کہ عبادت و بندگی کا راستہ آسان ہو جاتا ہے اور گناہوں و نافرمانیوں سے قدم رُکنے لگتے ہیں اجر و ثواب کے خزانے لٹتے ہیں اور روزے کے ثواب کو تو ہر طرح کے پیمانے سے بالا تر قرار دیا گیا ہے کہ ابن آدم کے ہر نیک عمل کا اجر دس گنا سے لے کر سات سو گنا تک کر دیا جاتا ہے سوائے روزے کے (اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ) کہ یہ خاص میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا۔ اسی مبارک مہینہ میں ایک عبادت ہے اعتکاف تو اس مبارک مہینے کا بہت پرُ کیف عمل ہے کہ رب کا بندہ مسجد میں ڈیرے ڈال کر اس کی چوکھٹ تھام کر بیٹھ جاتا ہے کہ یہاں سے کچھ لے کر ہی جاؤں گا۔ یہ وہ مبارک مہینہ ہے کہ جس کے شب و روز اور اس کی مقدس گھڑیاں دعا کی قبولیت کے لیے خاص تجربہ کاروں کے نزدیک یہ مہینہ تزکیۂ نفس اور اصلاح کے لیے بے حد مفید ثابت ہوا ہے کیونکہ اس مہینہ میں کم کھانا پینا کم سونا کم ملنا جلنا اور کم بولنا چالنا پر بآسانی عمل ہو جاتا ہے رمضان المبارک کا مہینہ بہت ہی خیر و برکت کا مہینہ ہے اور آخرت کی کمائی کا بہت بڑا سیزن ہے جیسا کہ ہر چیز کا ایک سیزن ہوتا ہے اور اس سیزن میں خوب کمائی ہوتی ہے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ کی طرف سے آخرت کی کمائی کے لیے مختلف مواقع فراہم ہوتے رہتے ہیں ان میں سے ایک اہم اور عظیم موقع بلکہ نعمت رمضان المبارک کا مقدس مہینہ ہے اور دراصل یہ پورے سال کے لیے ایک تربیتی کورس کی اہمیت رکھتا ہے لہذا حتی الامکان اس مبارک مہینے کی کوئی ساعت کوئی لمحہ اور کوئی منٹ خالی اور ضائع نہیں جانا چاہیے۔لیکن ہم لوگوں کی حالت اور مزاج کچھ ایسا بن گیا ہے کہ جہاں کسی عبادت کا موقع حاصل ہوتا ہے اور آخرت کی کمائی کا سیزن سامنے آتا ہے تو فوراً دنیا کمانے کی سوجھ آتی ہے۔ رمضان کا مہینہ ہو یا عید الفطر اور عید الاضحیٰ کا موقعہ یا حج وعمرہ کی عبادت کا زمانہ جو کہ آخرت کی کمائی اور آخرت کی تجارت کے بہترین اور عمدہ مواقع ہوتے ہیں ہم ان مقدس اور با برکت زمانوں کو بھی آخرت کے بجائے دنیا کی کمائی اور دنیا کی تجارت کا ذریعہ بنا لیتے ہیں اور تعجب وافسوس تو یہ ہے کہ ان موقعوں پر دنیا کمانے کے لیے حرام سے بھی نہیں بچتے رمضان المبارک کو بھی بہت سے لوگوں نے دنیا کمانے اور دنیا کی تجارت کا زمانہ سمجھ لیا ہے یہ لوگ آخرت کی کمائی سے زیادہ اس مہینے میں دنیا کمانے کی فکر کرتے ہیں۔ رمضان کی آمد دراصل ایک روحانی انقلاب کی دعوت ہے یہ وہ مقدس موسم ہے جس میں عبادت آسان ہو جاتی ہے۔
نیکیوں کا اجر کئی گنا بڑھا دیا جاتا ہے دعا کے دروازے کھل جاتے ہیں اور دلوں میں تقویٰ کی شمع روشن ہوتی ہے۔
رمضان المبارک کا مہینہ اپنی پوری رحمتوں کے ساتھ ہم پر آچکا ہے اس کے اندر اللہ ربّ العزت کی طرف سے رحمتیں موسلا دھار بارش سے زیادہ تیز برستی ہیں۔ اللہ ربّ العزت کی طرف سے مغفرت عام کردی جاتی ہے جہنم سے خلاصی کا پروانہ عام جاری کر دیا جاتا ہے حدیث پاک میں ہے پیارے حبیب نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ اس ماہ کا پہلا عشرہ رحمت دوسرا مغفرت اور تیسرا جہنم سے خلاصی کا ہے۔ ان رحمتوں اور مغفرتوں کو لوٹنے کا وقت ہے لہذا رمضان المبارک کو خوب قیمتی بنائیئے۔
تو آئیے رمضان کی آمد کو صرف ایک روایت نہیں بلکہ ایک انقلاب بنائیں اپنے اندر بھی اپنے گھروں میں بھی اور اپنے معاشرے میں بھی۔
اللہ ربّ العزت ہمیں اس مبارک مہینے کی حقیقی قدر کرنے اور اس سے بھرپور فائدہ اٹھانے کی توفیق عطا فرمائے آمین یارب العالمین