صدر کو کانگریس کی منظوری کے بغیر ٹیکس عائد کرنے کا اختیار نہیں: 6 کے مقابلے میں 3 ججوں کا فیصلہ
واشنگٹن: امریکی سپریم کورٹ نے امریکی صدر رونالڈ ٹرمپ کی جانب سے عائد کردہ عالمی تجارتی ٹیرف کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ صدر نے اپنے آئینی اختیارات سے تجاوز کیا اور وہ اقدام کیا جس کا اختیار صرف امریکی قانون ساز ادارے کو حاصل ہے۔
عدالت نے 6 کے مقابلے میں 3 ججوں کی اکثریتی رائے سے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ صدر نے 1977 کے قانون International Emergency Economic Powers Act (IEEPA) کا حوالہ دے کر جو عالمی ٹیرف نافذ کیے، وہ اس قانون کے دائرہ کار سے باہر تھے۔ عدالت کے مطابق یہ قانون ہنگامی معاشی پابندیوں کے لیے ہے، نہ کہ وسیع پیمانے پر تجارتی محصولات عائد کرنے کے لیے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ آئین کے تحت ٹیکس اور محصولات عائد کرنے کا اختیار بنیادی طور پر کانگریس کو حاصل ہے اور صدر کانگریس کی واضح منظوری کے بغیر ایسے اقدامات نہیں کر سکتے۔
چیف جسٹس جون روبرٹس نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ ایگزیکٹو اختیارات کی بھی آئینی حدود ہیں اور کسی بھی صدر کو ہنگامی قوانین کی آڑ میں تجارتی پالیسی کو یکطرفہ طور پر تبدیل کرنے کا اختیار حاصل نہیں۔
عدالت کے تین ججوں نے فیصلے سے اختلاف کیا، تاہم اکثریت نے اس موقف کو مسترد کر دیا کہ صدر کو قومی مفاد کے نام پر وسیع تجارتی محصولات نافذ کرنے کا مکمل اختیار حاصل ہے۔
فیصلے کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ نے سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ وہ دیگر قانونی راستوں کا جائزہ لیں گے تاکہ امریکی صنعت اور معیشت کے تحفظ کے لیے اپنی تجارتی پالیسی کو آگے بڑھا سکیں۔
ماہرین کے مطابق یہ فیصلہ نہ صرف صدارتی اختیارات کی آئینی حدود کو واضح کرتا ہے بلکہ مستقبل میں امریکی تجارتی پالیسی کے لیے بھی اہم نظیر ثابت ہوگا۔