✍🏻 محمد عادل ارریاوی
_________________
محترم قارئین! رمضان المبارک رحمت مغفرت اور ہمدردی کا مہینہ ہے یہ وہ بابرکت زمانہ ہے جس میں انسان نہ صرف اپنے رب کے قریب ہونے کی کوشش کرتا ہے بلکہ اپنے دل میں انسانیت ایثار اور دوسروں کے لیے احساسِ ذمہ داری بھی پیدا کرتا ہے اسی مہینے کے اختتام پر آنے والی عید الفطر دراصل ان روحانی تربیتوں کا عملی اظہار ہے عید صرف خوشی منانے کا نام نہیں بلکہ یہ شکرگزاری محبت بانٹنے اور معاشرے کے ہر فرد کو خوشیوں میں شریک کرنے کا پیغام بھی دیتی ہے اسلام نے عید کو صرف ذاتی مسرت یا ظاہری جشن تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسے سماجی ہمدردی اور باہمی تعاون کا دن قرار دیا ہے اسی لیے صدقۂ فطر کی ادائیگی کو نمازِ عید سے پہلے لازم قرار دیا گیا تاکہ معاشرے کے محروم اور ضرورت مند افراد بھی اس خوشی کے دن میں برابر کے شریک ہو سکیں گویا عید کی حقیقی روح یہی ہے کہ خوشیاں صرف اپنے گھر تک محدود نہ رہیں بلکہ اردگرد کے لوگوں تک بھی پہنچیں۔
بدقسمتی سے آج کے دور میں عید کی تیاریوں میں ظاہری چمک دمک اور ذاتی آسائشوں پر زیادہ توجہ دی جاتی ہے جبکہ اس کے اصل پیغام کو اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے یہی وجہ ہے کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم عید کے حقیقی مقصد اور فلسفے کو سمجھیں اور اپنی خوشیوں میں دوسروں کو بھی شامل کرنے کی کوشش کریں اسی حقیقت کو سامنے رکھتے ہوئے یہ بات ہمیشہ یاد رکھنی چاہیے کہ عید صرف ہماری نہیں بلکہ دوسروں کی بھی ہے۔ آج کل ہمارے معاشرے میں ہر سال عید کے موقع پر رمضان کی آمد سے ہی تقریبا ہر شخص کو عید کی تیاریوں کی فکر شروع ہو جاتی ہے اور بعض لوگ تو رمضان المبارک کی آمد سے پہلے ہی گھر وغیرہ کی صفائی ستھرائی اور رنگ و روغن کر الیتے ہیں جب کہ بہت سے لوگ رمضان کے مہینے میں اپنی عید کو بہتر سے بہتر بنانے کے لیے مختلف قسم کی تیاریاں کرتے ہیں اور عید کی تیاری کی یہ ایک ایسی ہوا چلتی ہے کہ جس کی زد میں تقریباً ہر شعبہ زندگی کا شخص مبتلا ہو جاتا ہے چنانچہ ریڑھی فروش بھی عید کی تیاری کے لئے بھر پور جدو جہد کرتے ہیں اور جوں جوں عید کی آمد کا سلسلہ قریب ہوتا جاتا ہے اسی کے ساتھ عید کی تیاری کا یہ سلسلہ بھی تیز ہوتا چلا جاتا ہے یہاں تک کہ عید کی رات میں یہ سلسلہ اپنے عروج پر پہنچ جاتا ہے اور مرد بازاروں میں خرید و فروخت میں اور خواتین گھریلو کام کاج میں اتنی منہمک ہو جاتی ہیں کہ عید کے مبارک دن کی فجر کی نماز تک بھی اس کی وجہ سے قضا ہو جاتی ہے جب کہ بعض لوگ کسی طرح بھاگ دوڑ کر عید کی نماز میں شرکت کر پاتے ہیں۔
اگر عید کی تیاری کا یہ معاملہ جائز چیزوں کی جدو جہد تک محدود رہتا تو زیادہ تشویش کی بات نہ تھی اگر چہ جائز چیزوں میں بھی غلو اور مبالغہ کو شریعت پسند نہیں کرتی لیکن قابل افسوس بات یہ ہے کہ عید کی تیاری کی اس جدو جہد کا دائرہ مختلف ناجائز طریقوں سے مال سمیٹنے اور نا جائز منافع خوری تک پہنچ چکا ہے جس کی بے شمار شکلیں مختلف شعبوں میں جاری ہیں چنانچہ ذخیرہ اندوزی سے لے کر ملاوٹ ناپ تول میں کمی جعل سازی بے جا منافع خوری خیانت ملاوٹ رشوت ستانی لوٹ مار چوری ڈاکہ زنی اغواء کاری وغیرہ جیسی بدترین خصلتوں میں عید کی تیاری کی غرض سے ریکارڈ اضافہ ہو جاتا ہے اور ہر شخص کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ وہ دوسرے کی جیب یا پیٹ کاٹ کر اپنی عید کی صحیح طرح اور دل کھول کر تیاری کرے پھر اسی دوسرے کے جیب یا پیٹ کاٹے ہوئے مال سے وہ اپنے لیے قیمتی جوڑے تیار کرتا ہے اور مہنگے جوتے حاصل کرتا ہے اور عید کے دن عمدہ و لذیذ کھانے تیار کرتا ہے اور عید کا مبارک دن اسی طرح کے مال سے حاصل کیے ہوئے لباس اور غذا کے ساتھ گزارتا ہے بلکہ اسی لباس میں عید کی نماز پڑھنے کے لیے اللہ کے حضور پیش ہوتا ہے اور یہ بات ظاہر ہے کہ اس طرح ناجائز منافع خوری سے عید کی تیاری کا اہتمام کرنا عید کی ایسی تیاری ہے کہ جس کی شریعت اسلام میں کسی طرح سے گنجایش نہیں ہے شریعت اسلام میں تو عید کے موقع پر دوسروں کا خاص خیال رکھنے اور دوسرے کا تعاون اور مدد کرنے پر زور دیا گیا ہے اور صدقہ فطر بھی عید کی نماز سے پہلے ادا کرنے کی فضیلت و اہمیت ہونے میں یہی حکمت ہے کہ دوسرے ضرورت مندوں کو بھی عید کی خوشیوں میں شریک کر لیا جائے اور اسی وجہ سے عید کے دن صدقہ کی کثرت کی فضیلت ہے نیز روزہ کی ایک اہم حکمت بھی بھوکوں اور پیاسوں کی ضرورت کا احساس دلانا اور غم خواری کے جذبہ کا اپنے اندر پیدا کرنا ہے۔
شریعت کی ان پاکیزہ تعلیمات و ہدایات سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ عید الفطر کا مبارک موقع دوسرں کی ضرورت پوری کرنے دُکھ درد میں کمی کرنے اور خوشیوں کو بانٹنے یا دوسروں کو عید کی خوشیوں میں شامل کرنے کا درس دیتا ہے۔
لیکن ہمارے یہاں شریعت کی ان پاکیزہ تعلیمات کو اولاً تو اپنایا نہیں جاتا اور اگر اپنایا بھی جاتا ہے تو رسمی انداز میں اپنا کر دوسروں کو عید کی خوشیوں میں شریک کرنے کے بجائے ان کی حقیقی خوشیوں پر ڈاکے ڈالے جاتے ہیں۔
ہمیں یہ رواج ترک کر کے عید کی حقیقی روح و فلسفہ کو سمجھنا چاہیے اور اپنی عید کی تیاری کرتے وقت یہ استحضار ہمیشہ رکھنا چاہیے کہ عید دوسروں کی بھی ہے۔
اے اللہ ربّ العزت! ہمارے روزوں عبادتوں اور دعاؤں کو قبول فرما ہمیں عید کی حقیقی خوشیوں کو سمجھنے اور دوسروں کے ساتھ بانٹنے کی توفیق عطا فرما ہمارے دلوں میں محبت ہمدردی اور اخلاص پیدا فرما اور ہمیں ہر اس عمل سے بچا جو تیری ناراضی کا سبب بنے آمین یارب العالمین