امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری جنگ پندرہویں دن میں داخل ہوگئی ہے اور مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی مزید شدت اختیار کر گئی ہے۔ تازہ حملوں میں امریکی فوجی اثاثوں، بغداد میں امریکی سفارت خانے اور خلیجی ممالک کے بعض مقامات کو نشانہ بنایا گیا۔
رپورٹس کے مطابق ایران نے سعودی عرب میں واقع پرنس سلطان ایئر بیس پر میزائل حملہ کیا جس میں امریکی فضائیہ کے پانچ ری فیولنگ طیارے (ٹینکر) نشانہ بنے۔ یہ طیارے زیادہ تر KC-135 اسٹریٹو ٹینکر قسم کے بتائے جاتے ہیں جو جنگی طیاروں کو فضا میں ایندھن فراہم کرنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ حملے میں طیاروں کو نقصان پہنچا تاہم وہ مکمل طور پر تباہ نہیں ہوئے اور ان کی مرمت کا کام شروع کر دیا گیا ہے۔
ادھر عراق کے دارالحکومت بغداد میں امریکی سفارت خانے پر بھی ڈرون یا میزائل حملہ کیا گیا۔ عینی شاہدین کے مطابق سفارت خانے کے کمپاؤنڈ سے دھواں اٹھتا دیکھا گیا۔ بعض اطلاعات کے مطابق ایک میزائل سفارت خانے کے ہیلی پیڈ کے قریب گرا جس سے عمارت کو جزوی نقصان پہنچا۔
اسی دوران متحدہ عرب امارات کے شہر دبئی میں بھی ایک عمارت پر حملے کے دوران گرنے والا ملبہ آ گرا۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ ملبہ ایک ایسے حملے کو فضا میں ناکام بنانے کے بعد گرا جس کا ہدف ممکنہ طور پر خلیجی علاقے کی تنصیبات تھیں۔ اس واقعے میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
دوسری طرف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ بعض میڈیا ادارے ایران کے خلاف امریکی فوج کی کامیابیوں کو نظر انداز کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق ایران شدید دباؤ میں ہے اور کسی سمجھوتے کی کوشش کر رہا ہے، تاہم امریکا اپنی شرائط کے بغیر کوئی معاہدہ قبول نہیں کرے گا۔
واضح رہے کہ 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر مشترکہ حملوں کے بعد خطے میں جنگ تیزی سے پھیل گئی ہے۔ ایران اس کے جواب میں اسرائیل کے ساتھ ساتھ خلیجی ممالک میں موجود امریکی فوجی اڈوں اور مفادات کو نشانہ بنا رہا ہے، جس سے پورے خطے میں بڑے تصادم کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔