افغانستان نے الزام عائد کیا ہے کہ پاکستان نے دارالحکومت کابل میں ایک اسپتال پر فضائی حملہ کیا، جس کے نتیجے میں کم از کم 400 افراد ہلاک اور تقریباً 250 زخمی ہو گئے۔
افغان طالبان کے مطابق یہ حملہ ایک ایسے اسپتال پر کیا گیا جہاں منشیات کے عادی افراد کا علاج کیا جا رہا تھا، اور اسے ملک کا اہم طبی مرکز قرار دیا جا رہا ہے۔ حملے کے باعث عمارت کو شدید نقصان پہنچا اور بڑی تعداد میں عام شہری ہلاک ہوئے۔
طالبان حکومت نے اس کارروائی کی سخت مذمت کرتے ہوئے اسے انسانی حقوق اور بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اس کا مناسب جواب دیا جائے گا۔
دوسری جانب پاکستان نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے فضائی حملے مخصوص دہشت گرد ٹھکانوں اور عسکری تنصیبات کو نشانہ بنانے کے لیے کیے گئے تھے، نہ کہ شہری علاقوں کو۔
یہ واقعہ دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کا حصہ ہے، جہاں حالیہ ہفتوں میں سرحدی جھڑپیں اور ایک دوسرے پر دہشت گردوں کو پناہ دینے کے الزامات میں اضافہ ہوا ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ حملہ خطے میں جاری تنازع کو مزید شدت دے سکتا ہے اور صورتحال کو بڑے تصادم کی طرف لے جا سکتا ہے۔