از:- محمد قمر الزماں ندوی
رمضان المبارک اپنی تمام تر سعادتوں ،رحمتوں، برکتوں اور روحانی فیوض کے ساتھ اختتام کے قریب ہے، اب صرف گنتی کے تین چار دن رہ گئے ہیں۔ زیادہ تر ایمان والوں کا یہ پورا مہینہ اللہ تعالیٰ کی عبادت، روزوں، تسبیحات ، تلاوتِ قرآن، تراویح ،صدقہ و خیرات اور دعا و استغفار میں گزرا۔ اب جب کہ اس مبارک مہینے کے آخری دن باقی رہ گئے ہیں تو ہر صاحبِ ایمان کے لیے یہ لمحۂ فکر ہے کہ وہ کچھ دیر رک کر اپنے دل سے سوال کرے اور اپنا محاسبہ کرے کہ : ہم نے رمضان سے کیا سیکھا؟ اس مہینے نے ہماری زندگی میں کیا تبدیلی پیدا کی؟ اور کیا اس کے اثرات ہماری زندگی اور شب و روز میں آئندہ مہینوں تک بھی باقی رہیں گے؟
رمضان دراصل محض بھوکا اور پیاسا رہنے اور خواہشات نفسانی سے بچنے کا نام نہیں، بلکہ یہ نفس کی تربیت، روح کی پاکیزگی اور کردار کی اصلاح کا مہینہ ہے۔ اس مہینے میں مسلمان اپنے رب کے قریب ہونے کی کوشش کرتا ہے۔ وہ حلال چیزوں کو بھی اللہ کے حکم کی تعمیل میں دن بھر چھوڑ دیتا ہے تاکہ اس کے اندر تقویٰ و طہارت پیدا ہو۔ قرآن کریم میں روزوں کی فرضیت کا مقصد بھی یہی تقویٰ اور پرہیز گاری بتایا گیا ہے کہ انسان کے اندر تقویٰ پیدا ہو اور وہ اپنی خواہشات پر قابو پانا سیکھ لے۔
یہ مہینہ انسان کو ضبطِ نفس، صبر، ہمدردی اور ایثار کا درس دیتا ہے۔ جب انسان خود بھوک اور پیاس کی تکلیف اور شدت کو محسوس کرتا ہے تو اسے ان لوگوں کی تکلیف کا بھی احساس ہوتا ہے جو سارا سال غربت اور محرومی کا شکار رہتے ہیں۔ اسی احساس کے نتیجے میں اس کے اندر صدقہ و خیرات اور دوسروں کی مدد کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔ یہی وہ روح ہے جو رمضان کے پیغام کو زندہ رکھتی ہے۔
لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہم نے اس مہینے کی حقیقی روح کو سمجھا؟ کیا ہماری عبادتوں میں خلوص تھا؟ کیا ہم نے قرآن کو صرف پڑھا یا اس کے پیغام کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی کوشش بھی کبھی کی؟ کیا ہم نے اپنی زبان، نگاہ اور اعمال کی حفاظت کی؟ یہ وہ سوالات ہیں جن پر ہر مسلمان کو سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے اور اپنا جائزہ اور محاسبہ کرتے رہنا چاہیے۔
رمضان دراصل دینِ اسلام کے تربیتی نظام کا ایک نہایت قیمتی باب ہے۔ تربیت کا مطلب صرف یہ نہیں کہ انسان کوئی سبق سیکھے اور پھر اسے بھول جائے۔ حقیقی تربیت وہ ہے جو انسان کی زندگی میں مستقل تبدیلی پیدا کر دے۔ اگر رمضان کے بعد بھی ہماری نمازوں میں پابندی آجائے، ہمارے اخلاق میں نرمی پیدا ہو جائے، ہماری زبان جھوٹ، غیبت اور بدکلامی سے محفوظ ہو جائے اور ہمارے دل میں اللہ کا خوف اور محبت بڑھ جائے اور ہم حسد کینہ نفرت اور تعصب سے بچ جائیں ، تو سمجھ لیجیے کہ ہم نے رمضان سے صحیح فائدہ اٹھایا ہے۔
اس کے برعکس اگر رمضان ختم ہوتے ہی ہماری زندگی پہلے جیسی ہو جائے، عبادتوں میں سستی آجائے اور گناہوں کی طرف رجحان بڑھ جائے تو یہ اس بات کی علامت ہے کہ ہم نے اس مہینے کے حقیقی مقصد کو حاصل نہیں کیا۔ حدیث شریف میں آتا ہے کہ جس کا رمضان اچھا گزرتا ہے اس کے باقی مہینے بھی اچھے گزرتے ہیں ۔
رمضان ہمیں سکھاتا ہے کہ زندگی کے ہر لمحے میں اللہ کو یاد رکھا جائے اور اس کی رضا کو مقدم سمجھا جائے، رب چاہی زندگی گزاری جائے اور من چاہی زندگی سے بچا جائے۔
رمضان کے آخری عشرے کی خاص اہمیت ہے۔ یہی وہ عشرہ ہے، جس میں شبِ قدر جیسی عظیم رات رکھی گئی ہے، جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ یہ وہ موقع ہے جب بندہ اپنے گناہوں کی معافی مانگتا ہے، اپنے رب سے تعلق مضبوط کرتا ہے اور اپنی زندگی کو نئی سمت دینے کا عزم کرتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم ان آخری دنوں کو غفلت میں ضائع نہ کریں بلکہ زیادہ سے زیادہ عبادت، دعا اور استغفار میں گزاریں۔
اسی کے ساتھ ساتھ ہمیں یہ بھی سوچنا چاہیے کہ رمضان کے بعد ہماری زندگی کیسی ہوگی ؟۔ کیا ہم قرآن سے اپنا تعلق قائم رکھیں گے؟ کیا ہم نماز کی پابندی کریں گے؟ کیا ہم صدقہ و خیرات اور نیکی کے کاموں کو جاری رکھیں گے؟ اگر ہم نے دل سے یہ عہد کر لیا کہ رمضان کے بعد بھی ہم نیکی کے راستے پر چلنے کی کوشش کریں گے تو یقیناً رمضان ہمارے لیے ایک نئی زندگی کا آغاز بن سکتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ رمضان ایک مہینہ نہیں بلکہ ایک پیغام ہے۔ یہ پیغام ہمیں بتاتا ہے کہ انسان اپنی خواہشات کو قابو میں رکھ کر ایک پاکیزہ اور باوقار زندگی گزار سکتا ہے۔ یہ مہینہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ دنیا کی زندگی عارضی ہے اور اصل کامیابی اللہ کی رضا اور آخرت کی فلاح میں ہے۔
لہٰذا رمضان کے اختتام سے پہلے ضروری ہے کہ ہم اپنا محاسبہ کریں۔ ہم یہ دیکھیں کہ ہماری عبادتوں کی مقدار اور معیار کیا رہا، ہمارے اعمال میں کتنی بہتری آئی اور ہماری نیتوں میں کتنی اخلاص پیدا ہوا۔ اگر کہیں کمی رہ گئی ہے تو ابھی بھی وقت ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ سے معافی مانگیں اور آئندہ کے لیے نیک ارادے کریں۔
آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ رمضان المبارک اللہ تعالیٰ کی ایک عظیم نعمت ہے۔ بقول شخصے کہ رمضان دین مبین کے تربیتی نظام کا بہت قیمتی باب ہے ، تربیت کا معنی یہ نہیں کہ سیکھو اور بھول جاؤ۔ اس کا یہ معنی نہیں کہ جو سیکھا ہے اسے صرف وقتا فوقتاً برتو ۔تربیت یہ ہے کہ پہلے کی اور بعد کی زندگی میں اس کی وجہ سے نمایاں تبدیلی آجائے، پہلے کی زندگی میں جو نیکیاں نہیں تھیں وہ اب آجائیں ۔
خوش نصیب ہیں وہ لوگ جو اس مہینے کی قدر کرتے ہیں اور اس سے اپنی زندگی کو سنوار لیتے ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ رمضان کے جانے سے پہلے اپنے دلوں کو جھانکیں، اپنے اعمال کا جائزہ لیں، اپنا محاسبہ کریں’،اور یہ عہد کریں کہ ہم اس مہینے کی روح کو اپنی زندگی کے ہر دن میں زندہ رکھنے کی کوشش کریں گے۔
اگر ہم نے یہ عزم کر لیا تو یقیناً رمضان ہمارے لیے محض ایک مہینہ نہیں رہے گا بلکہ ہماری زندگی کی اصلاح اور کامیابی کا مستقل ذریعہ بن جائے گا۔