امت کا اتحاد اور خدا تعالی کا حساب

از:- سید شعیب حسینی ندوی

امت محمدیہ وہ آخری امت ہے جسے قرآن مجید جیسی مکمل ہدایت اور رسول اللہ ﷺ جیسا کامل نمونہ ملا ہے۔ اس امت کی سب سے بڑی طاقت اس کا اتحاد، اخوت اور اجتماعیت ہے، لیکن افسوس کہ تاریخ کے مختلف ادوار میں فکری، فقہی اور کلامی اختلافات کی بنیاد پر امت مختلف فرقوں، جماعتوں اور مسلکوں میں تقسیم ہوتی چلی گئی۔ اختلاف اپنی جگہ ایک علمی اور فطری چیز ہے، لیکن اختلاف کو نفرت، تکفیر اور تقسیم کا ذریعہ بنا دینا امت کے لیے سب سے بڑا نقصان ہے۔
فرقہ بندی کے کئی نقصانات ہیں:

  • امت کمزور ہو جاتی ہے اور دشمن امت پر غالب آ جاتا ہے۔
  • دین کی اصل روح ختم ہو جاتی ہے اور مسلک و مشرب مقدم ہوجاتا ہے۔
  • مسلمان آپس میں لڑتے رہتے ہیں اور دین مسلک اور جماعت تک محدود ہو جاتا ہے۔
  • قرآن مجید نے بار بار امت کو تفرقہ سے بچنے کی ہدایت دی ہے۔ دین کا مقصد فرقے بنانا نہیں بلکہ اللہ کی بندگی اور انسانوں کی اصلاح ہے۔

اس لیے ضروری ہے کہ امت کے اتحاد اور اللہ تعالیٰ کے یہاں حساب کے تصور کو صحیح طور پر سمجھا جائے۔

امت کا مفہوم:

امتِ محمدیہ سے مراد وہ تمام لوگ ہیں جو:
اللہ تعالیٰ کو ایک مانتے ہیں۔
حضرت محمد ﷺ کو آخری نبی مانتے ہیں۔
قرآن کو آخری کتاب مانتے ہیں۔
کعبۃ اللہ کو قبلہ مانتے ہیں۔
نماز قائم کرتے ہیں اور اصول اسلام کا تسلیم کرتے ہیں
آپس میں ذبیحہ کھاتے ہیں۔

یہ وہ بنیادی چیزیں ہیں جو امت کو ایک بناتی ہیں۔
رنگ، نسل، زبان، ملک، مسلک و مشرب، فکری یا فقہی اجتہادات اختلاف امت کی بنیاد نہیں ہیں۔ جو شخص ان بنیادی اصولوں کو مانتا ہے وہ امتِ محمدیہ کا حصہ ہے۔

اختلافات کی حقیقت:

اسلام کی تاریخ میں ہمیشہ اختلافات رہے ہیں، صحابہ کرام کے زمانے میں بھی بعض مسائل میں اختلاف تھا، تابعین اور ائمہ کے دور میں بھی اختلافات پیدا ہوئے، فقہی مذاہب بنے، کلامی مکاتب فکر بنے، مختلف جماعتیں وجود میں آئیں۔ یہ اختلافات زیادہ تر اجتہادی اور فکری تھے، اور کسی قدر سیاسی اسباب و محرکات کا نتیجہ بھی تھے۔

قرآن کا اصول ہے کہ ہر شخص اپنے عمل کا خود ذمہ دار ہے۔ کوئی شخص دوسرے کے گناہ کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ اس لیے اللہ کے یہاں حساب انفرادی ہوگا، فرقہ وارانہ نہیں۔

نہ کوئی صرف سنی ہونے کی وجہ سے جنت میں جائے گا، نہ کوئی صرف شیعہ ہونے کی وجہ سے جہنم میں جائے گا، بلکہ فیصلہ ذاتی ایمان، عقیدہ، نیت اور اعمال کی بنیاد پر ہوگا، اور ہمیں حکم ہے کہ ظاہر پر فیصلہ کریں کسی کو تقیہ کا الزام دے کر خارج از اسلام کرنا ناجائز ہے، حضرت خالد کی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سخت سرزنش کی تھی جب انہوں ایک شخص کو اس وقت قتل کردیا تھا جب میدان جنگ میں اس پر قابو پانے کے بعد اس نے زبانی کلمہ ادا کردیا تھا، ان کا خیال تھا جان بچانے کے لیے وہ اظہار کر رہا ہے دل سے نہیں مانتا، حضور نے سختی سے ان سے کہا تھا: ھلا شققت قلبہ۔ کیا اس کا دل چیر کر تم نے دیکھ لیا تھا۔

ہماری مصیبت یہ ہے ہم اپنے نقطۂ نظر سے دوسروں کو جو دیکھتے ہیں اسی کو حق سمجھتے ہیں ان کی راست رائے معلوم کرکے فیصلہ کرنے تیار نہیں ہوتے، فرقوں کی بات تو دور کی ہے ہم جزوی فقہی مسالک کو دیکھ لیں، حنفی مدارس میں فقہ شافعی کی جو درگت بنتی ہے وہ پوشیدہ نہیں۔

اور اشعری و سلفی اختلاف معمولی اختلاف نہیں ہے، اشعری بالکل اسی اسی طرح فرقہ ضالہ ہے جس طرح شیعہ ہے اور دیوبندی علماء کی ایک تعداد سلفیت کو خارجیت بلکہ بعض تشدد پسند ماسونیت سے تعبیر کرتے ہیں۔

ان اختلافات کی جڑیں بہت گہری اور زخم بہت پرانے ہیں اگر ہم کریدنے جائیں گے تو خون ہی بہے گا۔

اصلاح کا طریقہ:

اگر کسی عقیدے یا عمل میں غلطی ہو تو اس کی اصلاح ضرور ہونی چاہیے، لیکن اصلاح کا طریقہ قرآنی و نبوی ہونا چاہیے نا کہ مسلکی و تعصبی۔

چنانچہ قرآن کے اسلوب کے مطابق بات کی جائے، حکمت کے ساتھ سمجھایا جائے، نفرت اور تکفیر سے بچا جائے، افراد کے بجائے اصول پر بات کی جائے، امت کو توڑنے کے بجائے جوڑنے کی کوشش کی جائے اور اصلاح کا مقصد شکست دینا نہیں بلکہ ہدایت دینا ہو۔

موجودہ کشمکش:

آج بھی مشرق وسطی کے مسلم ممالک میں کشمکش سیاسی ہے نہ کہ مذہبی، ہاں اپنے مفادات کے لیے ہر جانب سے جتنا اعتقادی و مذہبی کارڈ کھیلا گیا ہے اتنا دوسرا نہیں کھیلا گیا۔ عربوں کی ایران کی بالادستی کا ڈر ہے اور ایران کو عربوں کی ماتحتی سے سخت اباء، ترکی مسلم دنیا کا بے تاج بادشاہ بننے کا خواب دیکھ رہا ہے اور سعودیہ اپنے تقدس اور بڑائی کا دھونس کم ہونے نہیں دینا چاہتا۔

ایران اپنے پنجے مشرق وسطی میں گاڑنے کا خواب کب سے سجائے ہوئے ہے اور اپنی فرقہ وارانہ سیاست سے عرب ملکوں میں گھسا ہوا ہے اور بسا اوقات داخلی انتشار کا باعث بھی بنتا ہے۔

اگر ہم سیاسی داؤ پیچ کو نہیں سمجھیں گے اور نئی دنیا کے اقتصادی توازن کو نہیں پرکھیں گے تو اسی طرح مذہبی و مسلکی موشگافیوں میں توانائی اور وقت ضائع کرتے رہیں گے، جس سے سیاسی بازیگر اپنے مفادات کی روٹی سیکھیں گے۔

ہونا یہ چاہیے کہ ملی مفادات کے پیش نظر امت متحد موقف کے ساتھ اصل دشمن اسلام کا مقابلہ کرے، اگر ایسا نہ بھی تو کم از کم سیاسی مفادات کے لیے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہو تاکہ غاصب ریاست کے پورے مشرق وسطی کو نگلنے کے ناپاک عزائم کو ناکام بنایا جا سکے، ورنہ ہم ایک ایک کرکے پیٹے جائیں گے اور دشمن اپنے ہدف کو پالے گا۔

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔