غصہ کیوں آتا ہے اور اس پر قابو کیسے ہو ؟

از:- محمد قمر الزماں ندوی

انسانی زندگی جذبات و احساسات کا ایک پیچیدہ مگر حسین امتزاج ہے۔ خوشی، غم، محبت، خوف اور غصہ ،یہ سب وہ فطری کیفیات ہیں جو انسان کی شخصیت کی تشکیل میں بنیادی کردار ادا کرتی ہیں۔ انہی میں سے ایک اہم اور طاقتور جذبہ “غصہ” ہے، جو بظاہر منفی دکھائی دیتا ہے، مگر درحقیقت اپنی اصل میں نہ تو سراسر مذموم ہے اور نہ ہی مکمل طور پر محمود؛ بلکہ اس کی حیثیت ایک دو دھاری تلوار کی سی ہے، جو اپنے استعمال کے اعتبار سے یا تو اصلاح و خیر کا ذریعہ بنتی ہے یا فساد و تباہی کا پیش خیمہ۔
غصہ دراصل انسانی نفس میں ودیعت ایک ایسی قوت ہے، جو انسان کو ناانصافی، ظلم اور بےحیائی کے خلاف ردِعمل پر آمادہ کرتی ہے۔ اگر اس جذبے کو بالکل ختم کر دیا جائے تو انسان میں غیرت، حمیت اور دفاع کی صلاحیت ماند پڑ جائے، اور اگر اسے بےقابو چھوڑ دیا جائے تو یہی جذبہ عقل پر غالب آ کر انسان کو ایسے افعال پر ابھارتا ہے جن پر بعد میں ندامت کے سوا کچھ ہاتھ نہیں آتا۔ اسی لیے نفسیاتی، عقلی اور شرعی نقطۂ نظر سے غصہ نہ صرف ایک حقیقت ہے، بلکہ ایک ضرورت بھی ہے ،مگر مشروط، محدود اور مہذب صورت میں۔

نفسیاتی اعتبار سے دیکھا جائے تو غصہ ایک فطری ردِعمل (reaction) ہے، جو اس وقت پیدا ہوتا ہے جب انسان کو کسی خطرے، ناانصافی یا اپنی خواہشات کی رکاوٹ کا احساس ہوتا ہے۔ یہ جذبہ انسان کے دفاعی نظام کا حصہ ہے، جو اسے اپنی حدود کی حفاظت اور اپنی شناخت کے تحفظ پر آمادہ کرتا ہے۔ تاہم جب یہی جذبہ شدت اختیار کر لیتا ہے، تو انسان کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت متاثر ہو جاتی ہے، اور وہ جذبات کے بہاؤ میں بہہ کر ایسے فیصلے کر بیٹھتا ہے، جو اس کی ذات اور معاشرے دونوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتے ہیں۔

عقلی نقطۂ نظر سے غصہ ایک ایسی قوت ہے جسے اعتدال میں رکھنا ضروری ہے۔ عقل یہ تقاضا کرتی ہے کہ انسان ہر جذبے کو قابو میں رکھے اور اسے اپنے تابع بنائے، نہ کہ خود اس کے تابع ہو جائے۔ غصہ اگر عقل کے زیرِ نگرانی ہو تو یہ عدل، حق اور اصلاح کا ذریعہ بنتا ہے، لیکن اگر یہ عقل سے آزاد ہو جائے تو ظلم، زیادتی اور انتشار کو جنم دیتا ہے۔

شرعی اعتبار سے بھی غصہ ایک معروف اور تسلیم شدہ انسانی کیفیت ہے۔ شریعت اسلامیہ نے نہ تو اس کے وجود کا انکار کیا ہے اور نہ ہی اسے کلیتاً ختم کرنے کا حکم دیا ہے، بلکہ اس کی اصلاح، تہذیب اور درست سمت میں رہنمائی فرمائی ہے۔ قرآن و سنت میں ایسے متعدد مواقع ملتے ہیں جہاں غصہ کو قابو میں رکھنے، اسے پی جانے اور معاف کرنے کی ترغیب دی گئی ہے، اور ساتھ ہی یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ بعض مواقع پر غصہ نہ صرف جائز بلکہ مطلوب اور محمود بھی ہے ،خصوصاً جب وہ دین، حق اور عدل کی حفاظت کے لیے ہو۔

یہی وہ بنیادی حقیقت ہے جسے سمجھنا نہایت ضروری ہے کہ غصہ بذاتِ خود نہ اچھا ہے نہ برا، بلکہ اس کا حسن و قبح اس کے محل، سبب اور اندازِ اظہار پر موقوف ہے۔ جب غصہ ذاتی مفادات، انا اور وقتی جذبات کے تابع ہو تو وہ مبغوض اور قابلِ مذمت بن جاتا ہے، اور جب وہ حق، انصاف اور اعلیٰ اقدار کے لیے ہو، اور حدود کے اندر رہ کر ظاہر کیا جائے تو وہ محمود اور باعثِ اجر بن جاتا ہے۔

زیرِ نظر مضمون میں اسی حقیقت کو مختلف زاویوں سے واضح کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ غصہ کیوں آتا ہے، اس کی اصل حقیقت کیا ہے، اس کے نقصانات اور فوائد کیا ہیں، اور اسے کس طرح قابو میں رکھا جا سکتا ہے۔ نیز اس بات کی بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ کن مواقع پر غصہ کرنا درست ہے اور کن حالات میں اسے ضبط کرنا ضروری ہے، تاکہ انسان ایک متوازن، باشعور اور مہذب زندگی گزار سکے۔

اگر اس موضوع کو خطبۂ جمعہ جیسے بابرکت اور مؤثر موقع پر پیش کیا جائے تو یہ نہ صرف انفرادی اصلاح کا ذریعہ بن سکتا ہے بلکہ اجتماعی سطح پر بھی ایک مثبت اور معتدل معاشرے کی تشکیل میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔ کیونکہ غصہ وہ آگ ہے جو اگر بےقابو ہو جائے تو رشتوں، گھروں اور معاشرے کو جلا دیتی ہے، اور اگر اسے حکمت کے ساتھ قابو میں رکھا جائے تو یہی قوت انسان کو ظلم کے خلاف کھڑا ہونے اور حق کی نصرت کرنے کا حوصلہ دیتی ہے۔

پس ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم غصہ کو سمجھیں، اس کی حقیقت کو پہچانیں، اور اسے اپنی زندگی میں ایک مہذب اور مفید قوت کے طور پر استعمال کرنا سیکھیں—تاکہ ہم نہ صرف اپنی ذات کی اصلاح کر سکیں بلکہ ایک بہتر اور پرامن معاشرہ بھی تشکیل دے سکیں۔

حضرت حکیم الا مت اشرف علی تھانوی کے ایک مرید تھے، انھوں نے ایک دفعہ حضرت تھانوی کے پاس خط لکھا کہ حضرت! میرے اندر غصہ بہت زیادہ ہے، میں یہ چاہتا ہوں کہ میری اصلاح ہوجائے: لہذا اس کے لئے کوئی نسخہ تجویز فرمادیں۔ وہ صاحب لکھنؤ سےقریب رہنے والے تھے، حضرت نے ان کو جواب لکھا کہ لکھنو میں میرے خلیفہ فلاں حکیم صاحب ریتے ہیں، فلاں جگہ پر ان کا مطب، کلینک ہے، تم ان سے اجازت لے کر ان کے پاس بیٹھ جایا کرو ، وہ تو اپنے کام میں مشغول رہیں گے، لیکن تم ان کے پاس جاکر بیٹھ جایا کرو اور یہ بھی لکھا کہ پندرہ دن تک بیٹھنے کے بعد مجھے خط لکھنا کہ کیا اثر ہوا ؟ چنانچہ وہ صاحب پتہ تلاش کرتے ہوئے حکیم صاحب کے کلینک پہ پہنچ گئے، اور ان سے اجازت لیکر ان کے پاس بیٹھ گئے۔ وہ حکیم صاحب تو اپنے کام میں مشغول رہتے، بیماروں کی نبض دیکھتے، اور دوائیاں تجویز کرتے تھے۔ اور یہ صاحب ان کے پاس بیٹھے رہتے تھے، پندرہ دن بعد انھوں نے حضرت تھانوی کو خط لکھا کہ اللہ کا فضل ہے کہ غصہ بلکل کافور ہوگیا، انھوں نے اسی کے ساتھ یہ بھی لکھا کہ حضرت! غصہ تو میرا کافور ہوگیا ، لیکن ایک سوال ذہن میں آگیا ہے کہ حکیم صاحب نے نہ مجھے کچھ کہا اور نہ میں نے ان سے کچھ کہا، صرف ان کے پاس بیٹھنے سے میرا غصہ کیسے ختم ہوگیا ؟ یہ فلسفہ میری سمجھ میں نہیں آیا حضرت کے پاس خط آیا تو اس کا جواب لکھا کہ جی, نہ انہوں نے کچھ کہا اور نہ تم نے کچھ پوچھا ، لیکن ان کے دل میں جو حلم کا مادہ ہے، صحبت کی تاثیر سے وہ منتقل ہوکر تمہارے دل میں آگیا – اللہ اکبر! یہ ہے تاثیر صحبت اولیاء کی یے ۔

غصہ کے علاج میں نیک لوگوں کی مصاحبت و مجالست بہت ضروری ہے، مجالست ایک بڑا ذریعہ ہے اللہ کی معرفت کو پانے کا، ۔اللہ کی محبت کو پانے کا –

دوستو! علماء کرام نے غصہ کی حقیقت اور اس کی کیفیت و واقعیت پر جو گفتگو کی وہ کچھ اس طرح ہے کہ
"غصہ انسان کی وہ خصلت ہے جس سے کوئی بشر محفوظ نہیں، بلکہ اس کے بغیر انسان کی تکمیل بھی ممکن نہیں؛ لیکن اس کی بے اعتدالی کی وجہ سے انسان کو وہ سب برداشت کرنا پڑتا ہے جس کا کہ وہ متحمل نہیں، رشتے داری اور رواداری کی جان نکالنے والی اور اس کی ریڑھ کی ہڈی پر حملہ ور اگر کوئی چیز ہے، تو وہ انسان کا یہی اندرون آگ اور شعلہ ہے، جسے وہ اپنی مجنونانہ کیفیت میں نکالتا ہے؛ بلکہ پھینکتا ہے، جس کے اندر ذراتی ہتھیار سے بھی زیادہ خون ریزی ہوتی ہے، سماج ٹوٹتا ہے، اپنے پرائے ہو جاتے ہیں اور دوری کی خلیج اتنی بڑھ جاتی یے؛ کہ کوئی اسے پاٹ نہیں سکتا۔ حضور اکرم ﷺ کی صفت حمیدہ بتلاتے ہوئے قرآن کریم نے ایک جگہ کہا:”لو کنت فظا غلیظ القلب لاانفضوا من حولک”(آل عمران:۱۵۹) کہ اگر آپ کے اندر سختی اور ترش روئی ہوتی تو لوگ آپ سے دور ہو جاتے، آپ کے پاس نہیں آتے، یہی واقعہ ہے انسان کی سختی جو اکثر وبیشتر غصہ کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے، مزاج کی بے اعتدالی اور خشکی کی وجہ سے؛ نیز بے برداشت ہونے، اور بے تحمل ہونے کی وجہ سے پیدا ہوتی یے، وہ انسان کو انسان سے دور کر دیتی ہے، وہ معاشرے میں اپنی بہت سی صلاحیت اور نافعیت کے باوجود بے سود اور بسا اوقات انسانوں کیلئے ضرر رساں بن جاتا ہے، بچوں کی محبت اور بڑے بزرگوں کی شفقت بھی اسے راس نہیں آتی، وہ خود میں مگن ہو کر اپنی دنیا آپ بسا لیتا ہے، جہاں صرف اس کے اندر کا شعلہ اور اس کے سینہ کی آگ ہوتی ہے، اگر کوئی خدا نخواستہ اس کے قریب بھی چلا جائے، تو قریب ہے کہ وہ خود کو اس کی تپتی بھٹی میں جھلسا دے”۔

اس بیماری کا علاج بہت سے دانشور تلاش کرتے ہیں، جو کوئی اپنی اس کمزوری کو محسوس (عموما دیر سویر لوگ اسے محسوس کر ہی لیتے ہیں) کرتا ہے، وہ علاج کی فکر کرتا ہے اور ہر پل اس آگ کو شبنم بنانے اور سلامتی کا پیکر بنانے کی سعی کرتا رہتا ہے، لیکن اکثر یہ سعی لا حاصل رہتی ہے، ماہر طبیب و حاذق بھی اپنے نسخے دیتے تھک جاتے ہیں؛ حضور ﷺ کی تعلیمات اگر چہ انسان کو ضرور راہ راست پر لانے میں کارگر نسخہ ہے؛ کہ انسان غصہ کی حالت میں اپنی کیفیت بدل لے؛ لیکن عموما لوگ اس روحانی علاج سے محروم رہتے ہیں یا پھر یقین کی کمی اس میں وہ تاثیر پیدا نہیں کر پاتی جو حقیقتا مطلوب ہے، یہاں پر ایک مادی علاج حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی کی قلم سے نکلا ہے، جو خود کے اندر اسی کمزوری کے اعتراف کے ساتھ مفسر قرآن حضرت مولانا عبد الماجد دریابادی رح کیلئے تجویز کیا گیا تھا، جو اپنی اس بشری کمزوری سے تا عمر پریشان رہے اور اپنے مرشد و مربی سے اس کا حل گاہے گاہے پوچھتے رہے، آپ بھی اس نسخہ کو پڑھئے! اور حکیم الامت کی حکمت پر وارے جائے۔ *آپ رقمطراز ہیں:” بیماری (غصہ کی شدت) کا علاج بیمار کیا کرے، میں خود اس بلا میں مبتلا ہوں؛ لیکن اگر ایک بیمار کو کوئی نسخہ یاد ہو خواہ خود استعمال نہ کرے، تو دوسرے کو بتا دینے میں کوئی مضائقہ بھی نہیں۔ اس حیثیت سے کچھ عرض کرتا ہوں کہ یہ حالت یا واقعہ دو سبب سے مسبب ہوسکتا ہے، ایک یہ کہ غصہ کے وقت اس کے میقات یاد نہ رہیں۔ دوسرا یہ کہ باوجود یاد رہنے کے قوت و ہمت ضبط کی نہ ہو۔ اگر اول سبب ہے تو اس کی یہ تدبیر ہے کہ ایک پرچہ پر غصہ مفرطہ کی ابجدوں میں لکھ کر کلائی پر باندھ لیا جائے، اس پر نظر پڑتے ہی یاد پڑ جائے گا۔ اور اگر دوسرا سبب ہے تو اس کی تدبیر یہ ہے کہ فورا وہاں سے خود علحدہ ہو جائیں، یا مغضوب علیہ کو جدا کر دیں۔ جب ہیجان بالکل فرو ہو جائے، اس وقت اطمینان سے سوچا جائے؛ بلکہ کسی عاقل سے مشورہ کیا جائے کہ اس جرم کی کیا سزا مناسب ہے، بعد تامل یا مشورہ جو طے ہو، اس کو بلا کر اس سزا کو جاری کردیا جائے، مگر ہر حال میں اتنی ہمت کی ضرور ضرورت ہے کہ تدبیر کو اختیار کر لیا جائے، اگر کسی میں اتنی بھی ہمت نہیں تو پھر بجز خرق عادت کے کوئی علاج نہیں اور وہ کسی کے قبضہ میں نہیں”۔( حکیم الامت، نقوش و تاثرات:۴۷۴ مستفاد از تحریر مولانا محمد صابر حسین ندوی)

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔