تعلیمات ِنبوی ﷺ کی روشنی میں استاد کی تدریسی و اخلاقی ذمہ داریاں

از:- محمد جاوید قاسمی

حق ایجوکیشن اینڈ ریسرچ فاؤنڈیشن کانپور

تعلیم کا بنیادی مقصد طلبہ کی جسمانی ، فکری ، سماجی، اخلاقی و روحانی نشوونما ہے۔ اس ہمہ جہت نشوونما میں اگرچہ اور بہت سے عوامل کارفرما ہوتے ہیں لیکن اس پورے عمل میں سب سے اہم اور کلیدی کردار استاد کا ہوتا ہے ۔ استاد ہی وہ شخصیت ہے جو اپنی محنت، جانفشانی، اخلاص اور لگن سے طلبہ کی ذہنی و جسمانی صلاحیتوں کو جلا بخشتا ہے، ان کی مخفی صلاحیتوں کو اجاگر کرکے انہیں پروان چڑھا تا ہے تاکہ وہ اپنی اصل صلاحیت کی شناخت کرکے سماج میں اپنا حقیقی کردار ادا کرسکیں، انہیں سماجی و معاشرتی ذمہ داریوں ،حقوق و فرائض سے بھی آگاہ کرتا ہے تاکہ وہ ایک صالح ، متوازن اور صحت مند معاشرہ کی تشکیل میں موثر کردار ادا کر سکیں ۔ اسی طرح استاد طلبہ کے اخلاقی و روحانی پہلووں کو سنوارتا ہے تاکہ وہ فرض شناس اور ذمہ دار انسان بن سکیں۔اسی بنا پر ہر زمانے میں استاد کو غیر معمولی اہمیت حاصل رہی ہے ۔

استاد طلبہ کی تربیت و نشوونما پر اس لیے قادر ہوتا ہے کہ وہ خود تربیت یافتہ اور صاحبِ صحبت ہوتا ہے اور ان بنیادی اوصاف ،خوبیوں اور صلاحیتوں سے آراستہ ہوتا ہے جو ایک استاد کے لیے ناگزیر ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایک غیر تربیت یافتہ شخص حقیقی استاد کی ذمہ داریوں سے عہدہ برآنہیں ہوسکتا۔

اس سے یہ حقیقت واضح ہوگئی کہ ایک استاد کے لیے کچھ بنیادی و ناگزیر ذمہ داریاں اور صلاحیتیں در کار ہیں جن کے بغیر وہ ایک کامیاب اور مؤثر استاد نہیں بن سکتا ۔ سوال یہ ہے کہ وہ بنیادی صلاحیتیں اور ذمہ داریاں کیا ہیں جو ایک استاد کو مثالی اور کامیاب بناتی ہیں؟ اس تعلق سے ہر معلم کو چاہیے کہ وہ اس کا جواب معلمِ انسانیت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اور آپ کی تعلیمات میں تلاش کرے ،آپ کو آئیڈیل تسلیم کرکے آپ کی تعلیمات سے تدریسی و تعلیمی اصول و ضوابط، اوصاف اورطریقہ ہائے تدریس اخذکرے؛ کیونکہ آپ بحیثیتِ معلم ساری انسانیت کے لیے رہبر وراہنما ہیں۔ آپ منصب نبوت پر فائز ہونے کے ساتھ ساتھ ایک عظیم معلم و مربی بھی ہیں جس کے بارے میں خود آپ نے اپنی زبان مبارک سے ارشاد فرمایا کہ "مجھے معلم بنا کر مبعوث کیا گیا ہے”۔ آپ کی تعلیمات میں تعلیم و تربیت کے وہ تمام اصول و ضوابط اور اوصاف موجود ہیں جنہیں اختیار کرکے ایک استاد اپنی تعلیم کو دلنشیں اور نتیجہ خیز بنا سکتا ہے۔

چنانچہ اگر بحیثیت معلم آپ ﷺ کی ذات اور آپ کی تعلیمات کا جائزہ لیا جائے اور تعلیمی و تدریسی عمل اور اس کے بنیادی مقاصد کو سامنے رکھا جائے تو استاد کے اندر مطلوب صلاحیتوں اور ذمہ داریوں کو بنیادی طور پر دو حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ ایک وہ جن کا تعلق تدریس سے ہے جنہیں تدریسی صلاحیتوں سے تعبیر کیا جاسکتا ہے، دوسرے وہ جن کا تعلق معلم کی شخصیت سے ہے جنہیں اخلاقی ذمہ داریاں کہا جاسکتا ہے۔ مؤثر تعلیم و تدریس کے لیے ضروری ہے کہ یہ دونوں پہلو استاد کی شخصیت میں متوازن طور پر جلوہ گر ہوں۔

تدریسی صلاحیتیں

سب سے پہلی اور بنیادی چیز جو تدریس کے لیے ضروری ہے وہ یہ ہے کہ استادکو اس مضمون پر مکمل دسترس حاصل ہو جس کی وہ تعلیم دے رہا ہے، اس کی علمی دسترس محض نصابی کتاب تک محدود نہ ہو بلکہ زیرِ درس مضمون کا وسیع مطالعہ اور اس کا گہرا ادراک ہو؛ تاکہ طلبہ کو ان کی ذہنی سطح کے لحاظ سے مختلف طریقوں سے سمجھا سکے اور ان کی جانب سے ہونے والے کسی بھی قسم کے سوالات و اعتراضات کے اطمئنان بخش جوابات دے سکے۔ اس کے بر عکس، اگر مدرس کا مطالعہ محدود ہے اور تصورِ مضمون واضح نہیں ہے تو وہ طلبہ کو مطمئن کرنے سے قاصر رہے گا۔ مزید برآں، اس مضمون کی تعلیم کے لیے مناسب طریقہ تدریس سے بھی پوری طرح آشنا ہو ؛ کیونکہ ہر مضمون کی فطرت و نوعیت کے پیش نظر اس کے لیے ایک مخصوص طریقہ تدریس ناگزیر ہوتا ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ کی تعلیم و تربیت سے یہ واضح ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جس مضمون کا درس صحابہ کرام کو دیتے تھے اس پر کامل دسترس رکھتے تھے اور مضمون و مواد کی فطرت و نوعیت کے اعتبار سے موزوں طریقہ تعلیم کا انتخاب بھی کیا کرتےتھے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کی تعلیم میں طریقہ تعلیم کا تنوع پایا جاتا ہے ۔ کھبی آپ نے موقع و مضمون کے اعتبار سے پہلے سوال قائم کیا تاکہ ذہن میں تجسس پیدا ہوجائے، پھر مسئلہ کو سمجھایا ،کبھی آپ نے تشبیہ دے کر مسئلہ کو واضح کیا اور کبھی آپ نے قصہ سنا کر تربیت فرمائی۔
مضمون میں مہارت و دسترس تعلیم و تربیت کا پہلا تقاضا ہے لیکن محض علمی دسترس کامیاب تدریس کےلیے کافی نہیں ہے بلکہ استاد کے اندر اس مضمون کو طلبہ تک منتقل کرنے کی صلاحیت بھی ہو نی چاہیے ۔استاد ابلاغ و ترسیل کے اصولوں سے واقف ہو، زبان و بیان پر اس طرح قدرت حاصل ہو کہ طلبہ کی ذہنی سطح و علمی استعداد کے اعتبار سے گفتگو کرسکے؛ کیونکہ استاد خواہ کتنا ہی باصلاحیت کیوں نہ ہو اگر علمی مواد کو موثر ، منظم اور سلیقہ مند انداز سے پیش نہ کرسکے تو اس کا درس موثر اور دلنشیں نہ ہوسکے گا؛ کیونکہ معلم کااندازِ گفتگو، الفاظ کا انتخاب، آواز کا زیر و بم، حرکات و سکنات ،چہرے کے تاثرات اور اشاروں کا درست استعمال بھی تدریس کو مؤثر اور دل نشیں بنانے میں نمایاں کردار ادا کرتے ہیں۔ اس سلسلے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مثالی حیثیت حاصل ہے ۔ آپ اس طرح جامع، مانع، صاف اور واضح انداز میں گفتگو فرماتے اور اندازِ تکلم ایسا دلنشیں ہوتا تھا کہ ہر ایک کو اچھی طرح سمجھ میں آجاتا تھا جیسا کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی گفتگو تم لوگوں کی طرح لگاتار جلدی جلدی نہیں ہوتی تھی بلکہ وہ واضح اور صاف صاف گفتگو فرماتے، جو بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حضور بیٹھا ہوتا اس گفتگو کو یاد کر لیتا تھا۔(ترمذی) آپ اتنا واضح اور ٹھہر ٹھہر کر گفتگو فرماتے تھے کہ اگر کوئی شخص آپ کے الفاظ گننا چاہتا تو گن سکتا تھا۔ (بخاری) بعض مرتبہ بات کو حسب ضرورت تین تین مرتبہ دہراتے تھے تاکہ آپ کے سننے والے اچھی طرح سمجھ لیں۔(ترمذی) ۔

اسی کے ساتھ ساتھ طلبہ کی نفسیات سے آگہی بھی موثر تدریس کا ایک بنیادی نقاضا ہے ؛کیونکہ ہر طالب علم کا مزاج، ذہنی سطح، دلچسپی، اور سیکھنے کا انداز مختلف ہوتا ہے ۔اس لیے ضروری ہے کہ استاد نفسیاتی تفاوت کی رعایت کرنا بخوبی جانتا ہو۔ حوصلہ افزائی اور تحسین کے ذریعے طلبہ میں سیکھنے کا شوق پیدا کرنے کے ہنر سے واقف اور تنقیدی و تجزیاتی فکر کو پروان چڑھانے کی صلاحیت رکھتا ہو؛ کیوں کہ جب انسان کی اس کی حسن کارکردگی پر حوصلہ افزائی کی جاتی ہے تو اس کے اندر مزید اچھا کرنے کا داعیہ پیدا ہوتا ہے۔ تعلیماتِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں نفسیات کی مکمل رعایت موجود ہے۔ حدیث میں اس طرح کے واقعات موجود ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دورانِ تعلیم، مزاج اور ذہنی سطح کی رعایت کرتے ہوئے مختلف لوگوں کو ایک ہی سوال کے مختلف جوابات دیے ہیں ۔اسی طرح آپ کی تعلیم و تربیت میں حوصلہ افزائی کی مثالیں بھی خوب ملتی ہیں۔ آپ صحابہ کرام کی تعلیم و تربیت کے سلسلے میں حوصلہ افزائی فرمایا کرتے تھے۔ جیسا کہ حضرت سالم رضی اللہ عنہ کی عمدہ تلاوت سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان الفاظ میں ان کی حوصلہ افزائی فرمائی تھی ” تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے میری امت میں ایسے لوگ پیدا کیے ۔ (مسند) اسی طرح متعدد طریقے سے ان کے اندر تحریک پیدا کیا کرتے تھے، کبھی ترغیب و ترہیب کا سہارا لے کر تو کبھی جنت کی خوشخبری اور جہنم کی وعید سنا کر۔

اخلاقی ذمہ داریاں

علمی دسترس ، ابلاغ و ترسیل کی صلاحیت اور طلبہ کی نفسیات سے واقفیت ، یہ وہ بنیادی صلاحیتیں ہیں جو مؤثر تدریس کے لیے لازمی ہیں لیکن ان کے ساتھ ساتھ استاد پر متعدد اخلاقی ذمہ داریاں بھی عائد ہوتی ہیں جن سے عہدہ بر آ ہونا منصب ِتدریس کا لازمی تقاضا ہے۔

اس سلسلے میں سب سے پہلی اور بنیادی ذمہ داری یہ ہے کہ معلم کی نیت خالص ہو؛ کیوں کہ نیت ہی ایک ایسا محرک ہے جو کسی بھی عمل کی صحیح سمت کا تعین کرتا ہے۔ اسی لیے آپ علیہ السلام نے ارشاد فرمایا کہ "اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے”(بخاری)۔ اگر استاد کی نیت زیر ِتعلیم طلبہ کی محض تعلیم و تربیت ہوگی تو وہ علم کی ترسیل و تبلیغ میں کسی بھی قسم کی خیانت یا کوتاہی کے ارتکاب سے محفوظ رہے گا، کسی بھی طرح کے مبنی بر تعصب فکرو خیال طلبہ تک منتقل کرکے ان کے قلوب و اذہان کو آلودہ نہیں کرے گا اور علم کو چھپائے بغیر پوری امانت و دیانت کے ساتھ طلبہ کو زیور علم سے آراستہ کرے گا۔

استادکی اخلاقی ذمہ داریوں میں سے ایک اہم ذمہ داری یہ بھی ہے کہ طلبہ کے ساتھ شفقت و محبت، حسن ِسلوک اور عدل و انصاف کا معاملہ کرے ؛. کیونکہ کسی بھی قسم کی نفرت ، سختی و امتیازی سلوک تعلیم و تعلم کی فطرت کے خلاف ہے۔ شفقت و محبت سے استاد اور طلبہ کے رشتے مضبوط ہوتے ہیں اور نتیجہ خیز تعلیم کے لیے استاد اور طلبہ کے رشتوں کا مضبوط ہونا ضروری ہے۔ آپ علیہ السلام کی سب سے نمایاں خوبی یہی تھی کہ وہ سب کے ساتھ شفقت و محبت، نرمی اور منصفانہ برتاؤ کیا کرتے تھے،کسی بھی قسم کی سختی کے قائل نہ تھے۔ صحابہ آپ پر مکمل اعتماد کرتے تھے ۔ آپ کا مشہور قول ہے کہ” آسانی پیدا کرو، سختی نہ کرو” اور آپ نے اس کو عملی طور پر امت کے سامنے پیش بھی کیا ہے۔ اس لیے استاد کو چاہیے کہ تمام طلبہ کے ساتھ شفقت و برابری کا سلوک کرے۔ کسی طالب علم کے ساتھ ذاتی پسند وناپسند ، تعصب یا معاشی حیثیت کی بنیاد پر امتیاز نہ برتے۔
استاد کی ذمہ داری محض طلبہ کو علم سے روشناس کرانے تک ہی محدود نہیں بلکہ یہ بھی ضروری ہے کہ استاد اپنی علمی استعداد میں مسلسل اضافہ کرتا رہے ؛کیونکہ استاد جب تسلسل کے ساتھ سیکھتا رہتا ہے تو طلبہ کو صحیح علم اور بروقت معلومات بہم پہنچاتا ہےاور علم و تحقیق کے بدلتے رجحانات سے واقف رہتا ہے۔ استاد کا اپنی علمی وفکری استعداد کو نکھارتے رہنا ہر طریقے سے طلبہ کے لیے مفید ہوتا ہے۔ اس سلسلے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول یہ تھا کہ آپ اپنی صلاحیتوں کو مسلسل نکھارا کرتے تھے ۔ مزید پختگی اور وثوق کے لیے ہر سال رمضان میں جبریل علیہ السلام کے ساتھ قرآن کا دور کیا کرتے تھے ۔

تعلیم کا مقصد محض معلوما ت کا حصول نہیں بلکہ فکرو عمل میں مثبت تبدیلی ہے۔ اسی لیے استاد کی ایک بنیادی ذمہ داری طلبہ کی کردار سازی اور اخلاقی تربیت بھی ہے ۔ علاوہ ازیں ،اس کرداری سازی کے عمل میں طلبہ کی عزت اور وقار کا پاس رکھنا اور اپنے قول و فعل سے ان کی عزتِ نفس مجروح نہ کرنا بھی بنیادی اہمیت رکھتا ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کا بنیادی مقصد ہی انسانوں کی کرداسازی تھا ۔ چنانچہ پوری زندگی آپ نے اسی میں گذاری اور سب کی عزت نفس کا خیال رکھا ،کسی کی دل آزاری نہیں کی ۔ پوری سیرت میں کہیں بھی ایسا واقعہ نہیں ملتا جس میں آپ نے کسی کی دل آزاری کی ہو۔

بہر کیف، یہ وہ بنیادی تدریسی و اخلاقی ذمہ داریاں ہیں جن کو اپنائے بغیر نہ تو استاد کامیاب ہوسکتا ہے اور نہ ہی اس کی تدریس مؤثر و دلنشیں ہوسکتی ہے ۔
اسی تناظر میں اگر عصر حاضر کے تعلیمی و تدریسی مسائل پر غور کیا جائے تو ان کا حل انہیں بنیادی صلاحیتوں و ذمہ داریوں میں نظر آئے گا ۔ موجودہ صورتِ حال یہ ہے کہ اساتذہ ان بنیادی و ناگزیر اوصاف سے محروم ہیں اور اگر کسی حد تک یہ صلاحیتیں موجود بھی ہیں تو ان میں توازن اور ہم آہنگی نہیں ہے ۔ اگر ایک استاد کے اندر تدریسی صلاحیتیں موجود ہیں تو وہ اخلاقی ذمہ داریوں سے آشنا نہیں ہے اور اگر اس کے اندر اخلاقی ذمہ داریاں ہیں تو وہ تدریسی اوصاف سے محروم ہے ۔ جبکہ حقیقی استاد وہی ہوسکتا ہے جس کی شخصیت میں دونوں خوبیاں توازن کے ساتھ موجود ہوں کیونکہ استاد کی ذمہ داری محض معلومات فراہم کرنا نہیں؛ بلکہ زیر تعلیم طلبہ کی فکری و علمی رہنمائی کے ساتھ ان کی اخلاقی و روحانی تربیت اور کردار سازی بھی اس کی بنیادی ذمہ داری ہے۔
اس لیے بحیثیت ِمعلم ، استاد کو چاہیے کہ وہ معلم انسانیتﷺ کو اپنا آئیڈیل مانے اور آپ کی تعلیمات کی روشنی میں اپنےتدریسی سفر کا آغاز کرے تبھی وہ ایک کامیاب اور مؤثر استاد بن سکتا ہے۔

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔