از:- عبدالغفارصدیقی بجنور،یوپی
میری سب سے پہلی ٹیچر میری والدہ تھیں (اللہ ان کی مغفرت فرمائے)صرف کہنے کی حد تک یہ بات نہیں ہے بلکہ وہ حقیقت میں ہی میری پہلی معلمہ تھیں اور میری ہی نہیں بلکہ میرے سب بھائی بہنوں اور محلہ و بستی کی بہت سی لڑکیوں کی بھی وہی پہلی استانی تھیں۔جب میں نے بولنا شروع کیا تو انھوں نے مجھے پڑھانا شروع کردیا۔اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ محض پانچ چھ سال کی عمر میں قرآن پڑھنے کے قابل ہوگیا۔ابا بھی میرے استاذ تھے۔انھوں نے اردو کی ابتدائی کتابیں مجھے پڑھائیں،لکھنا بھی انھوں نے ہی سکھایا۔اسی لیے جب سرکاری اسکول میں میرا داخلہ ہوا تو درجہ دومیں ہوا۔سرکاری اسکول میں داخلہ کے بعدبھی امی اور ابانے پڑھانا بند نہ کیا۔امی قرآن کا سبق سنتیں اور ابا اردو پڑھاتے۔گھر کے ان دونوں استاذوں کی بدولت اردو زبان اور قرآن مجھے خوب یاد ہوگئے۔درجہ تین کے بعد اباجان مجھ سے اخبار دعوت پڑھوانے لگے۔محلہ کی خواتین خط لکھوانے لگیں۔اللہ تعالیٰ ان دونوں کی مغفرت فرمائے۔آمین
پرائمری اسکول میں درجہ دو اور تین میں ماسٹر انیس صاحب نے تعلیم دی،اللہ انھیں سلامت رکھے۔بڑے نفیس انسان تھے۔حفظ الرحمان سیوہاروی کے شہر سیوہارہ سے ان کا تعلق تھا۔صاف ستھرے کپڑے پہنتے،مجال ہے جو ان کے لباس پر کوئی داغ نظر آجائے۔نماز کے پابند تھے۔سردیوں کے موسم میں جب اسکول شام چار بجے تک چلتا تھا،وقفہ میں گاؤں کی مسجد میں نماز ادا کرنے جاتے تھے۔چوتھی پانچویں جماعت کو ہیڈ ماسٹر صاحب پڑھاتے تھے،چنانچہ ان سے بھی ہمارا سامنا ہوا۔ان کا قد لمبا تھا،چہرے پر داڑھی تھی،مگر داڑھی سے بڑی مونچھیں تھیں،ایک تو ان کے ہیڈ ماسٹر ہونے کا دبدبہ،اوپر سے ان کی لمبی اور کھڑی مونچھیں، اوپر سے ان کے ہاتھوں میں کالا ڈنڈا،عجیب رعب وداب کا منظر پیش کرتا تھا۔ہم اگرچہ پڑھنے لکھنے میں ہشیار تھے،اور شرارت سے بھی کوسوں دور تھے،پھر بھی ان کے ہاتھ سے دو چاربینت کھانے کی سعادت سے محروم نہ رہے۔وہ پان کھاتے تھے۔اس وقت گاؤں میں پان کی دوکانیں نہ تھیں،ہمارے گھر پان دان تھا۔یہ بات ان کو اچھی طرح معلوم تھی۔بس پھر کیا تھا۔انٹرول میں اکثر وہ ہمیں حکم دیتے:”جا اپنی امی سے ایک پان لگوا کر لا“ ہم دوڑ کر جاتے۔پان لاتے۔والدہ مرحومہ پان بھی ایسا لگاتیں کہ بیڑہ کو دل بنادیتیں،اوپر چھالی کا ایک بٹن لگادیتیں۔جس سے وہ کھلتا نہیں تھا۔ماسٹر صاحب اسے میز پر اچھالتے اور بچوں کو دکھاتے،پان کی خوب تعریف کرتے۔ہم دل ہی دل میں خوش ہوتے۔
پانچویں پاس کرکے گاؤں کا اسکول ہمیں چھوڑنا پڑا۔دوسرے گاؤں میں کسان انٹر کالج تھا وہاں ہمارا داخلہ ہوگیا۔وہا ں جتنے استاذ تھے سب غیر مسلم تھے۔مگر ان کے دل میں بچوں سے ہمدردی و خیر خواہی کوٹ کوٹ کر بھری تھی۔میں نے وہاں دو سال تک پڑھا۔اس کے بعد میرا داخلہ مدرسہ احیاء العلوم سرکڑہ میں کرادیا گیا۔یہاں ہمارے اساتذہ میں منشی محمد یعقوب صاحب تھے (اللہ مغفرت فرمائے)،جو اردو پڑھاتے تھے۔وہ سب سے زیادہ عمر دراز تھے۔چشمہ اگرچہ ان کی ناک پر ہوتا مگر دیکھتے چشمے کے اوپر سے تھے۔مارنے پیٹنے سے ان کو کوئی سروکار نہ تھا،بس چشمہ کے اوپر سے دیکھ کر آنکھوں سے ڈراتے تھے۔مارنے پیٹنے کا ٹھیکہ مولوی سراج الدین ندوی صاحب کے پاس تھا۔ منشی جی کو بھی جب کسی کی پٹائی کروانا ہوتی تو ان کے پاس بھیج دیتے تھے۔وہاں ہمارے ایک استاذ ماسٹر عبد الحفیظ تھے۔وہ بھی دنیا سے رخصت ہوگئے۔اللہ ان کے درجات بلند کرے۔بہت سادگی سے رہتے تھے،انھوں نے ہمیں آئینہ تاریخ پڑھائی تھی۔
مولانا سراج الدین ندوی صاحب دامت برکاتہم العالیہ(اللہ ان کا سایہ سلامت رکھے)بلاشبہ بڑے اچھے استاذ ثابت ہوئے۔میں سمجھتا ہوں کہ میں نے جتنا علم حاصل کیا اس کا نصف علم حضرت مولانا سراج الدین ندوی صاحب کا عطا کردہ ہے۔انھوں نے صرف کتاب ہی نہیں پڑھائی بلکہ دوسری صلاحیتیں بھی پیدا کیں۔مثلا انھوں نے ہمیں کئی سو اشعار لکھوائے۔اب بھی وہ ڈائری میرے پاس ہے۔پھر وہ اشعارزبانی یاد کرائے،جن کی بنیاد پروہ بیت بازی کا مقابلہ بھی کراتے تھے۔یہ اس وقت کی بات ہے جب ہم ساتویں جماعت میں تھے۔انھوں نے اسٹیج پر کھڑا ہونا سکھایا۔سب سے پہلی تقریر میں نے اسی سال کی۔اس سال سالانہ جلسہ کی نظامت بھی میں نے ہی کی،نظامت مولانا نے لکھ کر دی تھی۔
1984میں مولانا محترم رام پور کی مرکزی درس گاہ میں استاذ ہوگئے۔ہمیں (کئی دوسرے ساتھیوں کو بھی) بھی وہ اپنے ساتھ لے گئے۔وہاں وہ ہمارے صرف استاذ ہی نہ تھے بلکہ سرپرست بھی تھے۔وہ خالی اوقات میں تصنیف و تالیف کا کام کرتے تھے،اپنا رف مضمون وہ ہمیں صاف صاف لکھنے کو دیتے تھے اور اس کا معاوضہ بھی دیتے تھے،جو ہماری جیب خرچ میں معاون ہوتا۔اس طرح ہماری تحریر بھی صاف ہوگئی،مضمون لکھنے کا طریقہ بھی آگیا۔وہ تقریر بھی لکھ کر دیتے، ہم رٹتے،پھر مقابلوں میں شریک ہوکر فرسٹ انعام حاصل کرتے۔مجھے یاد ہے کہ جب میں نویں جماعت میں تھا،یعنی درس گاہ میں پہلا ہی سال تھا۔امروہہ کے سیرت النبی ؐ مقابلوں میں شریک ہونے والوں میں میرا نام بھی شامل کیا گیا۔جس کے لیے مولاناموصوف نے تقریر لکھ کر دی،میں نے خوب رٹ لی،پھر انھوں نے آواز کے نشیب و فراز اور زیرو بم سمجھائے،اس تقریر میں ہجرت کا منظر بیان کرتے وقت رونے کا رول بھی ادا کرنا تھا،مجھ سے رویا نہیں جارہا تھا،مولانا بار بار رو کر دکھلاتے مگر میں ان کی ایکٹنگ کی نقل بھی نہیں کرپارہاتھا۔بس انھوں نے ڈانٹنا شروع کیا۔میں رونے لگا۔ مولانا بولے:”اب رو ہاہے،جیسے اب روہا ہے ویسے ہی تقریر کے درمیان میں رونا ہے“۔خیر خداخدا کرکے مقابلوں میں حصہ لیا اور اول انعام حاصل کیا۔
ایک سال ایسا ہوا۔یہ گیارہویں جماعت کی بات ہے کہ جب حضرت نے کہہ دیا کہ میں تقریر لکھ کر نہیں دوں گا۔تم خود لکھو۔یہ سن کر تو پاؤں کے نیچے زمین کھسک گئی،بہت غصہ آیا۔مگر کرکیا سکتے تھے۔وہ استاذ تھے اور ہم شاگرد۔آنسو آنکھوں میں لیے واپس آگئے۔ہاسٹل آکر ہم نے تقریر لکھی،یاد کی،خوب مشق کی،مقابلوں میں حصہ لیا اور اول آئے۔اس سے یہ فائدہ ہوا کہ مجھے تقریر لکھنا بھی آگیا۔ظاہر ہے ان کے انکار کا مقصد بھی یہی تھا کہ میں اپنے پاؤں پر کھڑے ہوجاؤں۔حضرت مولانا سے شاگردی کا جو رشتہ 1983میں قائم ہوا تھا آج چوالیس سال گزرنے کے بعد بھی قائم ہے۔ان سے اتنی یادیں وابستہ ہیں کہ ایک مضمون میں نہیں سماسکتیں۔پوری کتاب درکار ہے۔اللہ تعالیٰ استاذ محترم کو سلامت رکھے۔آج بھی وہ میری رہنمائی کرتے ہیں۔میرا خیال رکھتے ہیں۔بس اتنا فرق آگیاہے کہ اب وہ مجھے مولاناکہہ کر پکارتے ہیں۔مجھے شرمندگی کا احساس ہوتا ہے اور کالج لائف کی نظم کا ایک مصرع زبان پر آجاتا ہے:
ادب میرا میرے کالج کے کچھ ٹیچر بھی کرتے ہیں
رام پور میں ہمارے ناظم جناب محمد جاوید اقبال صاحب رہے۔اللہ ان کو سلامت رکھے۔بڑے نرم دل استاذ رہے۔اسی نرمی و شفقت کا بعض لوگوں نے ناجائز فائدہ بھی اٹھایا۔وقت اور زبان کے پابند تھے۔بڑی محبت کرتے تھے۔ان کی محبتیں آج بھی مجھے حاصل ہیں۔وہ مجھے فون کرتے رہتے ہیں۔میری خیریت معلوم کرتے ہیں۔مجھے شرمندگی ہوتی ہے کہ میں اپنی نالائقی کے باعث انھیں فون بھی نہیں کرپاتا۔اب بھی وہ مجھے پڑھاتے ہیں۔اکثر کوئی مصرع دے کر کہتے ہیں:”اس پر گرہ لگائیے“۔میں انھیں گرہ لگاکر بھیجتا ہوں،بڑی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔میرے مضامین بھی توجہ سے پڑھتے ہیں اور بہت سی باتوں کی طرف توجہ دلاتے رہتے ہیں۔
رام پور میں جتنے اساتذہ تھے،بے مثال تھے۔طلبہ انھیں ”چچامیاں“کہتے تھے۔کیا شیرینی ہے اس لفظ میں۔محبت کا سمندر ہے،اپنا ئیت کا دریا ہے،خلوص کا فوارہ ہے۔اب بھی ہم درس گاہ کے اساتذہ کو چچامیاں کہہ کر ہی پکارتے ہیں۔ان اساتذہ میں تفسیر کے استاذ مولانا محمد سلیمان قاسمیؒ، حدیث و فقہ کے استاذعلامہ ابوالمجاہد زاہد ؒ،سوکس(علم تمدن) کے استاذ ماسٹر تاج الدین زبیری صاحب(دامت برکاتہم)،اکنامکس(معاشیات) کے استاذ ماسٹر محمد اسلم شاہ جہاں پوری (دامت برکاتہم)انگریزی کے استاذ مرزا مسعود بیگ صاحب ؒ،عربی زبان و ادب کے استاذ مولانا صفدر سلطان اصلاحی ؒ،مولانا محمد ایوب اصلاحی جیراج پوری ؒ،ڈاکٹر محمد یونس عثمانی صاحب،مولانا عبدالرشید اعظمی ندوی،جناب عمار ندوی (دامت برکاتہم)،مولانا سراج الدین ندوی (دامت برکاتہم)وغیرہ وہ اساتذہ ہیں جن سے ہم نے باقاعدہ تعلیم حاصل کی۔ان کے علاوہ درس گاہ میں کئی اساتذہ تھے جن سے ہم متاثر ہوئے۔ان میں ہمارے اتالیق جناب محمداقبال خاں صاحبؒ تھے،بڑے لحیم شحیم،کہتے ہیں کہ تھانے دار کی پوسٹ چھوڑ کر درس گاہ آئے تھے۔دوسرے اتالیق جناب محمد عرفان خلیلی صفی پوری ؒ تھے،وہ بھی بڑی پوسٹ چھوڑ کر آئے تھے۔درویش صفت انسان تھے،جناب رئیس عثمانی صاحبؒ تھے جن کا تعلق دیوبند کے مشہور عثمانی خاندان سے تھا،موصوف ہمارے آخری سال میں ناظم ہوگئے تھے،جناب منظور فاخر صاحب ؒ تھے جو ابتدائی درجات میں ہندی پڑھاتے تھے،اللہ تعالیٰ ان سب کی مغفرت فرمائے۔ان ہی میں جناب مولانا عبدالسلام بستوی فلاحی صاحب ہیں جو بہترین کاتب اور خطاط ہیں،تعلیمی ہفتہ کی نمائش میں ان کے جوہر خوب نظر آتے تھے،ڈاکٹر عبدالغنی صاحب ہیں،جو ہومیو پیتھی کے ماہر ہیں۔اللہ ان سب کا سایہ سلامت رکھے۔
اساتذہ کا تذکرہ ہواور ڈاکٹر تابش مہدی ؒ یاد نہ آئیں یہ کیسے ممکن ہے۔وہ شاعری میں میرے استاذ رہے۔وہ بھی بڑے ہمدرد و مخلص انسان تھے۔دہلی قیام کے دوران روزانہ ہی ان سے ملاقاتیں ہوتیں۔تقریباً ہرمہینہ وہ اپنے شاگردوں کو گھر پر بھی مدعو کرتے۔پابندی سے ادبی نششتوں میں شریک کراتے۔اشعار کی اصلاح فرماتے اور حوصلہ افزائی کرتے۔ان کی محنتوں اور توجہ کی بدولت ہی میرا نعتیہ مجموعہ ”نور حرا“ اور بہاریہ مجموعہ ”حسرتوں کی دنیا“ منظر عام پر آیا۔میرے دہلی چھوڑدینے کے بعد بھی وہ پابندی سے مجھے فون کرتے تھے۔میری خیریت لیتے،مجھے اشعار کہنے پر متوجہ کرتے۔پھر ان کے ایک شاگرد جناب مولانا سحر محمود سنابلی(نیپال) نے ان کے شاگردوں پر مشتمل ایک واٹس ایپ گروپ ”بزم تابش“ تشکیل دیا،جس کی سرپرستی داکٹر تابش مہدی صاحب تاحیات فرماتے رہے۔ہر ماہ پابندی سے اس کی نششتیں کراتے۔مرحوم اپنی وفا ت سے چند ماہ پہلے اپنے کچھ خاص شاگردوں کو فارغ الاصلاح فرماگئے تھے،میرے لیے یہ سعادت کی بات تھی کہ اس فہرست میں میرا نام بھی شامل تھا۔اللہ تعالیٰ انھیں غریق رحمت کرے۔
آج یوم اساتذہ پر ہر استاذ کی یاد آرہی ہے۔ان سے وابستہ واقعات و تنبیہات ایک ایک کرکے آنکھوں کے سامنے رقص کررہی ہیں۔ ان کے پند ونصائح ہر قدم پر رہنمائی کررہے ہیں۔اللہ تعالیٰ ان اساتذہ کی مغفرت فرمائے جو اس کے جوار رحمت میں جگہ پا چکے ہیں اور جو حیات ہیں ان کو صحت و سلامتی عطا فرمائے۔آمین۔
معلم ہمارے تھے سب بے نظیر
بنایا ہے ذروں کو ماہ منیر