از: سید جمشید احمد ندوی
استاذجامعہ امام شاہ ولی اللہ اسلامیہ ،پھلت
غیرپروں پراڑسکتے ہیں حد سے حد دیواروں تک
امبر پر تو وہی اڑیں گے جن کے اپنے پر ہوں گے
یہ شعرانسانی حیات،فکری آزادی اورخودی کی قوت کاایک بھرپوراستعارہ ہے،یہ دونوں مصرعے بظاہر سادہ ہیں،مگر اپنے اندرمعنویت کی ایسی تہیں رکھتے ہیں جو قاری کوفکرکےمسلسل سفرپرآمادہ کردیتی ہیں۔شاعرنے پراور پرواز کے استعارے میں انسان کی ذاتی صلاحیت، خود اعتمادی، فکری خودمختاری اورجد وجہد کی طاقت کو سمودیاہے۔یہ شعردراصل اس ازلی حقیقت کااعلان ہے کہ زندگی میں عارضی سہارے وقتی بلندی تو دے سکتے ہیں،مگر دائمی پرواز کا ذریعہ نہیں بن سکتے۔
انسان کی فطرت میں پرواز کی خواہش ازل سے موجود رہی ہے،یہ خواہش صرف جسمانی اڑان تک محدودنہیں بلکہ فکری، روحانی اور عملی بلندیوں کی جستجوبھی شامل ہے۔انسان جب اپنے وجودکے امکانات کوپہچانتاہے تووہ دیواروں، حدوں اور پابندیوں سے آگے دیکھنے لگتاہے۔مگر یہی وہ مقام ہے جہاں شعرکاپہلا مصرع حقیقت کی تلخ تصویر پیش کرتا ہے۔ غیر پروں پر اڑنے والاانسان،چاہےکتناہی بلند دعویٰ کرے، اسکی پروازدیواروں تک محدود رہتی ہے۔ دیواریہاں محض اینٹ پتھرکی رکاوٹ نہیں بلکہ وہ تمام سماجی،ذہنی اور نفسیاتی بندشیں ہیں جوانسان کوآگےبڑھنے سے روکتی ہیں۔دوسروں کے سہارے،ادھار کی عقل،نقل شدہ نظریات اورمستعار حوصلے انسان کو وقتی آسودگی تو دیتے ہیں مگراسکے اندرخود اعتمادی کی جڑیں مضبوط نہیں ہونے دیتے۔
یہ دنیامثالوں سےبھری پڑی ہے جہاں افراد، اقوام اور تہذیبیں غیر پروں پر اڑنے کی کوشش میں وقتی شہرت یااقتدارتو حاصل کرلیتی ہیں،مگر جیسے ہی وہ سہارا چھن جاتا ہے، ان کی پرواز زمین بوس ہو جاتی ہے۔تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ جو قومیں اپنی فکری خودمختاری کھو بیٹھتی ہیں،جوافراد اپنی صلاحیتوں پریقین نہیں رکھتے، وہ ہمیشہ کسی نہ کسی دیوار کے سائے میں محدود ہوکر رہ جاتےہیں۔انکی سوچ تقلید کی زنجیروں میں جکڑی ہوتی ہے اور انکی جدوجہد محض ردِعمل بن کر رہ جاتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کا مواخذہ ہوناچاہئے!
دوسرا مصرع پہلی حقیقت کا فکری جواب ہے۔ امبر، یعنی آسمان، بلندی اور لامحدود وسعت کی علامت ہے۔ آسمان پر اڑان وہی بھر سکتا ہے جس کے اپنے پر ہوں۔ اپنے پر سے مراد ذاتی محنت،داخلی قوت،فکری بصیرت اورکردار کی مضبوطی ہے۔ یہ وہ پر ہیں جو کسی بازار سے خریدے نہیں جا سکتے، نہ ہی کسی طاقتورسرپرست سے مانگے جاسکتے ہیں۔یہ پرانسان اپنی جد وجہد، ناکامیوں،صبراورمسلسل خود احتسابی سے تراشتا ہے۔ جب انسان اپنے اندر ان پروں کو پہچان لیتا ہے توپھراسکی پروازکسی غیر کے سہارےکی محتاج نہیں رہتی۔ اس کے سامنے آسمان کی وسعتیں کھل جاتی ہیں اوروہ اپنی راہ خود متعین کرتاہے۔
یہ شعردراصل خودی کےاسی تصور کی توسیع ہے جسے ہمارے فکری سرمائے میں غیرمعمولی اہمیت حاصل ہے۔خودی وہ چراغ ہےجو انسان کے باطن میں روشن ہوتاہے اوراسے اندھیروں میں بھی راستہ دکھاتا ہے۔ جب یہ چراغ روشن ہو جائے تو انسان کسی بیرونی روشنی کا محتاج نہیں رہتا۔ وہ جان لیتا ہے کہ اس کی اصل قوت اس کے اندر ہے، اس کے ہاتھوں، اس کے ذہن اور اس کے دل میں ہے۔ یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب انسان آسمان سے باتیں کرنے لگتا ہے۔
شعر کا پیغام محض فرد تک محدود نہیں بلکہ اجتماعی زندگی پر بھی پوری طرح منطبق ہوتا ہے۔ اقوام بھی اسی اصول کے تحت ترقی یا تنزلی کا شکار ہوتی ہیں۔ جو قومیں اپنی تعلیمی،سائنسی اورفکری بنیادیں خود استوار کرتی ہیں، وہی آسمانِ ترقی پربلند پروازکرتی ہیں۔اسکے برعکس جو قومیں دوسروں کے تیار کردہ نظریات، نظاموں اور سہاروں پر انحصار کرتی ہیں، ان کی ترقی دیواروں تک محدود رہتی ہے۔ وہ کبھی عالمی افق پر مستقل مقام حاصل نہیں کر سکتیں کیونکہ ان کے پاس اپنے پر نہیں ہوتے۔
یہ شعرنوجوان نسل کے لیے بھی ایک واضح پیغام رکھتا ہے۔ آج کا نوجوان ایک ایسے دور میں سانس لے رہا ہے جہاں سہولتیں بہت ہیں مگر خودی کی تربیت کم ہوتی جا رہی ہے۔ سوشل میڈیا، فوری کامیابی کے خواب اور شارٹ کٹ کلچر نے غیر پروں کی کشش کو اور بڑھا دیا ہے۔ ہر شخص چاہتا ہے کہ بغیر محنت کے بلندی حاصل کر لے، مگر یہ شعر اسے یاد دلاتا ہے کہ ایسی پرواز زیادہ دیرپانہیں ہوتی۔حقیقی کامیابی اسی کو ملتی ہے جو اپنی صلاحیتوں کو پہچان کر انہیں صبر اور استقلال سے پروان چڑھاتا ہے۔
شعر کی زبان سادہ ہےمگرتاثیرغیر معمولی۔ یہی اس کی عظمت ہے۔شاعر نے کسی پیچیدہ فلسفے یا بھاری اصطلاحات کا سہارا نہیں لیا،بلکہ روزمرہ کے الفاظ میں ایک آفاقی سچ بیان کر دیا ہے۔ پر، پرواز، دیوار اور انبر ایسے استعارے ہیں جو ہر ذہن کے لیے قابلِ فہم ہیں، مگر ہر ذہن کو اس کی استعداد کے مطابق گہرائی بھی عطا کرتے ہیں۔ یہی بڑے ادب کی پہچان ہے کہ وہ ہر قاری سے مکالمہ کرتا ہے، چاہے وہ عام ہو یا خاص۔
آخر میں یہ کہاجا سکتا ہے کہ یہ شعر محض دو مصرعوں کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک مکمل فکری منشور ہے۔ یہ ہمیں خود احتسابی کی دعوت دیتا ہے کہ ہم دیکھیں ہماری پرواز کن پروں پر ہے۔ کیا ہم اپنی صلاحیتوں پربھروسہ کرتے ہیں یا دوسروں کےسہارے آسمان چھونے کے خواب دیکھتے ہیں؟ یہ شعر ہمیں یاد دلاتا ہے کہ دیواروں تک محدود اڑان پر قناعت کرنا انسانی وقار کے شایانِ شان نہیں۔ انسان کا مقدر آسمان کی وسعتیں ہیں، مگر وہاں تک پہنچنے کے لیے اپنے پر خود بنانے پڑتے ہیں۔ یہی اس شعر کا جوہر ہے اور یہی اس کا ابدی پیغام ہے۔