واشنگٹن: ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اور فوجی کارروائیوں نے امریکہ اور اسرائیل پر بھاری مالی بوجھ ڈال دیا ہے۔ مختلف تجزیاتی رپورٹس کے مطابق ابتدائی فوجی کارروائیوں کے دوران ہی اربوں ڈالر خرچ ہو چکے ہیں اور اگر یہ تنازعہ طویل ہوا تو اس کے اخراجات میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق جنگ کے ابتدائی تقریباً سو گھنٹوں میں امریکہ کو لگ بھگ 3.7 ارب ڈالر خرچ کرنے پڑے۔ اس دوران روزانہ کروڑوں ڈالر میزائل حملوں، فضائی کارروائیوں، فوجی سازوسامان اور دفاعی نظام پر خرچ کیے گئے۔
رپورٹس کے مطابق مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کی حمایت اور خطے میں فوجی سرگرمیوں کے لیے امریکہ پہلے ہی بھاری رقم خرچ کر چکا ہے۔ اندازوں کے مطابق اکتوبر 2023 کے بعد سے امریکہ اسرائیل کو 21 ارب ڈالر سے زائد کی فوجی امداد فراہم کر چکا ہے، جبکہ ایران اور اس سے منسلک خطوں میں فوجی کارروائیوں پر مزید اربوں ڈالر خرچ ہوئے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ایران کے ساتھ کشیدگی طویل عرصے تک برقرار رہی تو جنگ کی مجموعی لاگت 40 ارب سے 90 ارب ڈالر تک پہنچ سکتی ہے، جبکہ اس کے بالواسطہ معاشی اثرات اس سے کہیں زیادہ ہو سکتے ہیں۔
ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس معاملے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ کے پاس فوجی کارروائی جاری رکھنے کی مکمل صلاحیت موجود ہے۔ تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایران میں زمینی فوج بھیجنا مؤثر حکمت عملی نہیں ہوگا اور زیادہ تر کارروائیاں فضائی اور میزائل حملوں کے ذریعے کی جا رہی ہیں۔
سیاسی مبصرین کے مطابق جنگی اخراجات میں اضافہ مستقبل میں امریکی سیاست اور معیشت دونوں کے لیے ایک اہم مسئلہ بن سکتا ہے، کیونکہ پہلے ہی مہنگائی اور معاشی دباؤ کے باعث عوامی تشویش میں اضافہ ہو رہا ہے۔