✍🏻محمد عادل ارریاوی
_________________
محترم قارئین! اولاد خواہ بیٹے ہوں یا بیٹیاں اللہ ربّ العزت کی عظیم نعمت اور ہماری زندگی کا قیمتی سرمایہ ہیں یہی بچے آنے والے کل کی دنیا معاشرے اور قوم کا مستقبل ہوتے ہیں آج اگر زندگی کے مختلف شعبے ہمارے ہاتھوں میں ہیں تو کل یہ ذمہ داریاں انہی بچوں کے سپرد ہوں گی اس لیے بچوں کی تعلیم و تربیت صرف ایک ذاتی فریضہ نہیں بلکہ ایک دینی اخلاقی اور معاشرتی ذمہ داری بھی ہے جس پر آنے والے وقت کی بہتری یا خرابی کا دار و مدار ہے انہی حقائق کے پیش نظر بچوں کی درست رہنمائی اچھی تعلیم اور اعلیٰ تربیت کی اہمیت کو سمجھنا اور اس پر سنجیدگی سے عمل کرنا ازحد ضروری ہے۔
آج اگر حکومت سلطنت تجارت ملازمت تعلیم و تدریس اور دنیا کا کوئی بھی شعبہ ہماری زیر نگرانی زیر قیادت ہے تو کل آنے والے وقت میں یہ سب شعبے آج کے بچوں کی نگرانی ذمہ داری اور تحویل میں ہوں گے آج کے بچے اگر دوسروں کے بچے ہیں تو کل آنے والے وقت میں وہ دوسروں کے ماں باپ ہوں گے آج کے بچے دراصل خام مال اور کچا پھل یا کچی فصل ہیں جو کل تیار ہو کر دنیا کے بازار میں آنے والے ہیں آج جیسی فصل جیسا مال اور پھل تیار ہو گا کل ویسا ہی بازار میں دستیاب ہوگا اگر بچپن میں بچوں کی تعلیم اور تربیت اچھی ہوگئی تو ہمارا اور خود ان کا آنے والا وقت بھی اچھا ہو جائے گا ورنہ آنے والا وقت موجودہ وقت سے بُرا ہوگا بچپن کے زمانے میں نظریات و اخلاق درست کرنے کی بہت زیادہ ضرورت ہوتی ہے بچپن کے درست کیے ہوئے نظریات و اخلاق ساری زندگی دنیا میں کام آتے ہیں اور آخرت میں بھی انسان کو بڑے عذاب سے بچانے کا ذریعہ بنتے ہیں اس زمانے میں بچوں کی اچھی تعلیم اور تربیت میں بہت کمزوری پائی جارہی ہے جس کی وجہ سے اس وقت جو نسل تیار ہو رہی ہے اس میں بہت ساری نظریاتی و اخلاقی اور عملی خامیاں اور کمزوریاں موجود ہیں جن کا نقصان اور خمیازہ کل آنے والے وقت میں سامنے آنے والا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پیدائشی تقدیس خالص ہندو برہمنی تہذیب ہے
اس لیے ضرورت ہے کہ کل آنے والے وقت کے لئے آج ہی سے کام شروع کر دیا جائے اور اس کچی اور خام فصل کو غذا و دواء دے کر اس کی ترقی کی راہ ہموار کی جائے اور اس کو نقصان پہنچانے والے جراثیم سے بچایا جائے اس کے لئے بچوں کی اچھی تعلیم کے ساتھ ساتھ اچھی تربیت کی بھی اشد ضرورت ہے حضرت حکیم الامت مجدد ملت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ پہلے بزرگوں کے اخلاق اس لیے بھی درست ہوتے تھے کہ ان کو بچپن میں اخلاقی کتابیں پڑھائی جاتی تھیں ( الافاضات الیومیہ ج ۱۰ ص ۲۸۶ ملفوظ نمبر ۱۸۲) دوسری جگہ فرماتے ہیں اکثر لوگ بچپن میں تربیت کا اہتمام نہیں کرتے یوں کہہ دیتے ہیں کہ ابھی تو بچے ہیں حالانکہ بچپن ہی کی عادت پختہ ہو جاتی ہے جیسی عادت ڈالی جاتی ہے وہ اخیر تک رہتی ہے اور یہی وقت ہے اخلاق کی درستگی کا اور خیالات کی پختگی کا بچپن کا علم ایسا پختہ ہوتا ہے کہ کبھی نہیں نکلتا الا ماشاء اللہ چنانچہ بچہ شروع میں ماں باپ کی گود میں رہتا ہے اور انہیں کو ماں باپ سمجھتا ہے بعد میں اگر کوئی شک ڈالے ( کہ یہ تمہارے باپ نہیں ہیں ) خواہ کتنے ہی لوگ شک ڈالنے والے ہوں تو کبھی شک نہ ہوگا یہ ہے بچپن کے خیالات کی پختگی ( استاد اور شاگرد کے حقوق اور تعلیم و تربیت کے طریقے ص ۱۲۰)
اپنے بچوں کی ایسی بہترین تربیت کریں کہ جو بھی انہیں دیکھے ان کی شائستگی اور اخلاق پر ماشاءاللہ کہے اور تربیت کرنے والوں کے لیے دعائیں دے ساتھ ہی انہیں دینی تعلیم بھی دیں تاکہ آپ کے بعد وہ آپ کے لیے دعا صدقہ و خیرات کرتے رہیں اور ہمیشہ آپ کو اپنی دعاؤں میں یاد رکھیں۔
اے اللہ ربّ العزت ہماری اولاد کو نیک صالح اور با اخلاق بنا انہیں دین و دنیا کی بھلائی عطا فرما اور ہمارے لیے صدقۂ جاریہ بنا آمین یارب العالمین ۔