از:- محمد ناصر ندوی پرتاپگڑھی
دبئی، متحدہ عرب امارات
رمضان المبارک دراصل انسانی تربیت کا عظیم الشان اسکول ہے۔ یہ وہ مبارک مہینہ ہے جس میں بندۂ مؤمن کو اپنی پوری زندگی کا جائزہ لینے، اپنے اعمال کی اصلاح کرنے اور اپنے ظاہر و باطن کو سنوارنے کا سنہرا موقع عطا ہوتا ہے۔ روزہ انسان کے پورے وجود کو نظم و ضبط میں لانے کی ایک جامع اور منظم تربیت ہے۔ اگرچہ عام طور پر روزے کو صرف کھانے پینے سے رکنے تک محدود سمجھ لیا جاتا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ روزہ انسان کے تمام اعضاء و جوارح کو گناہوں سے بچانے اور انہیں اطاعتِ الٰہی کے سانچے میں ڈھالنے کا نام ہے۔
اسلام کی تعلیمات انسان کو صرف ظاہری عبادت تک محدود نہیں رکھتیں بلکہ اس کے باطن، اخلاق، کردار اور معاشرتی زندگی کو بھی سنوارتی ہیں۔ روزہ اسی جامع تربیت کا ایک روشن نمونہ ہے۔ یہ انسان کو تعلیم دیتا ہے کہ وہ اپنے نفس کی خواہشات پر قابو رکھے، اپنے اعمال کو تقویٰ کے تابع بنائے اور اپنے تمام اعضاء کو اللہ کی رضا کے مطابق استعمال کرنے کا پابند ہوجائے۔ اسی حقیقت کی طرف قرآن کریم نے اشارہ کرتے ہوئے فرمایا:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ(البقرہ: 183)
ترجمہ: “اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کئے گئے ہیں جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کئے گئے تھے، تاکہ تم تقویٰ اختیار کرو۔”
یہ آیت واضح کرتی ہے کہ روزے کا اصل مقصد تقویٰ پیدا کرنا ہے، اور تقویٰ دراصل یہی ہے کہ انسان اپنی پوری زندگی کو اللہ کی اطاعت کے مطابق ڈھال لے۔
انسان کے جسم میں مختلف اعضاء ہیں اور ہر عضو اپنی مخصوص ذمہ داری رکھتا ہے۔ جب روزہ رکھا جاتا ہے تو درحقیقت ان تمام اعضاء کو گناہوں سے روکنے اور نیکی کی طرف مائل کرنے کی تربیت دی جاتی ہے۔ اگر انسان صرف پیٹ کو بھوکا رکھے مگر اس کے دوسرے اعضاء گناہوں میں مصروف رہیں تو روزے کی روح متاثر ہوجاتی ہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ روزہ انسان کے پورے وجود کا روزہ بن جائے۔
انسانی زندگی میں دل کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں نیت پیدا ہوتی ہے اور جہاں سے اعمال کا رخ متعین ہوتا ہے۔ اگر دل پاک ہو تو اعمال بھی پاکیزہ انجام پانے لگتے ہیں اور اگر دل آلودہ گناہوں میں ہوجائے تو انسان کی پوری زندگی متاثر ہوجاتی ہے۔ دل کا روزہ یہ ہے کہ اسے حسد، کینہ، بغض، تکبر اور نفرت جیسی بیماریوں سے محفوظ رکھا جائے۔ یہ وہ امراض ہیں جو انسان کی روحانیت کو کمزور کر دیتے ہیں اور اس کے اخلاقی کردار کو متاثر کرتے ہیں۔
رسول اللہ ﷺ نے دل کی اہمیت کو بیان کرتے ہوئے فرمایا:”
أَلَا وَإِنَّ فِي الْجَسَدِ مُضْغَةً إِذَا صَلَحَتْ صَلَحَ الْجَسَدُ كُلُّهُ وَإِذَا فَسَدَتْ فَسَدَ الْجَسَدُ كُلُّهُ أَلَا وَهِيَ الْقَلْبُ”(صحیح بخاری، صحیح مسلم)
ترجمہ: “خبردار! جسم میں ایک گوشت کا ٹکڑا ہے، اگر وہ درست ہوجائے تو پورا جسم درست ہوجاتا ہے اور اگر وہ خراب ہوجائے تو پورا جسم خراب ہوجاتا ہے، سن لو وہ دل ہے۔”
رمضان المبارک دراصل دل کی اصلاح کا موسم ہے۔ اس مہینے میں انسان زیادہ عبادت کرتا ہے، قرآن کی تلاوت کرتا ہے، دعا و استغفار میں مشغول رہتا ہے اور اپنے باطن کو پاکیزہ بنانے کی کوشش کرتا ہے۔ یہی وہ تربیت ہے جو دل کو نورانی بناتی ہے۔
اسی طرح ہاتھوں کا روزہ بھی نہایت اہم ہے۔ ہاتھ انسان کے عمل کا سب سے نمایاں ذریعہ ہیں۔ انہی کے ذریعے وہ کام انجام دیتا ہے، اسی لئے ان کی ذمہ داری بھی بڑی ہے۔ ہاتھوں کا روزہ یہ ہے کہ وہ ظلم، ناانصافی، حرام کمائی اور کسی کو تکلیف پہنچانے کے کاموں سے محفوظ رہیں۔ اگر یہی ہاتھ کسی کی مدد کریں، کسی محتاج کا سہارا بنیں اور نیکی کے کاموں میں استعمال ہوں تو یہ روزے کی روح کے مطابق عمل ہوگا۔
اسلام نے انسان کو یہ تعلیم دی ہے کہ وہ اپنے ہاتھوں کو خیر اور بھلائی کے کاموں میں استعمال کرے۔ محتاج کی مدد کرنا، بیمار کی تیمارداری کرنا، مظلوم کی مدد کرنا اور خدمتِ خلق کے کاموں میں حصہ لینا ہاتھوں کے روزے کی بہترین صورت ہے۔
اسی طرح پاؤں کا روزہ بھی بڑی اہمیت رکھتا ہے۔ انسان کے قدم جس راستے پر اٹھتے ہیں وہی اس کی زندگی کی سمت متعین کرتے ہیں۔ اگر قدم برائی کے راستوں کی طرف بڑھیں تو انسان گناہ کے ماحول میں پہنچ جاتا ہے، اور اگر وہ نیکی کے راستے کی طرف بڑھیں تو انسان کی زندگی سنور جاتی ہے۔ پاؤں کا روزہ یہ ہے کہ وہ گناہ کی مجلسوں اور برائی کے ماحول سے دور رہیں اور نیکی، علم اور عبادت کے راستوں کی طرف بڑھیں۔
مسجد کی طرف اٹھنے والا ہر قدم انسان کے درجات کو بلند کرتا ہے۔ اسی طرح علم کی مجلسوں کی طرف جانے والے قدم بھی انسان کی زندگی میں برکت کا سبب بنتے ہیں۔
انسانی زندگی میں پیٹ کا روزہ بھی نہایت اہم ہے۔ روزہ بظاہر پیٹ ہی سے متعلق ہوتا ہے کیونکہ اس میں کھانے پینے سے رکنا شامل ہے، لیکن درحقیقت اس کا تعلق حلال اور حرام سے بھی ہے۔ اگر انسان روزہ رکھے مگر اس کی کمائی حرام ہو تو اس کی عبادت کی تاثیر کم ہو جاتی ہے۔ اسلام نے حلال رزق کو بڑی اہمیت دی ہے اور حرام کمائی سے سختی کے ساتھ منع کیا ہے۔
روزہ انسان کو یہ سبق دیتا ہے کہ وہ اپنی روزی کو بھی پاکیزہ بنائے اور اپنی زندگی کو حلال طریقے پر قائم کرے۔ حلال کمائی انسان کی عبادت کو نورانی بناتی ہے اور اس کے اعمال میں برکت پیدا کرتی ہے۔
اسی طرح شرمگاہ کا روزہ بھی انسانی پاکیزگی کےلئے ضروری ہے۔ اسلام نے حیا اور عفت کو ایمان کا حصہ قرار دیا ہے۔ روزہ انسان کے اندر خواہشات کو قابو میں رکھنے کی تربیت دیتا ہے تاکہ وہ پاکدامنی اور پاکیزگی کی زندگی گزار سکے۔ یہی وجہ ہے کہ نبی کریم ﷺ نے نوجوانوں کو روزہ رکھنے کی ترغیب دی تاکہ وہ اپنی خواہشات کو قابو میں رکھ سکیں۔
انسانی زندگی میں دماغ اور فکر بھی بڑی اہمیت رکھتے ہیں۔ خیالات اور افکار انسان کے کردار کی بنیاد ہوتے ہیں۔ اگر ذہن مثبت سوچ اور خیر کے جذبات سے بھرا ہو تو انسان کی زندگی میں بھی نیکی اور بھلائی پیدا ہوتی ہے، اور اگر ذہن منفی خیالات سے آلودہ ہو تو انسان کے اعمال بھی متاثر ہوتے ہیں۔ اس لئے فکر کا روزہ یہ ہے کہ انسان اپنے ذہن کو برے خیالات اور منفی سوچ سے پاک رکھے۔
رمضان المبارک انسان کو خود احتسابی کا سبق بھی دیتا ہے۔ جب انسان اپنے اعضاء کے استعمال پر غور کرتا ہے تو اسے احساس ہوتا ہے کہ اس کی زندگی میں کہاں اصلاح کی ضرورت ہے۔ یہی احساس اسے بہتر انسان بننے کی طرف لے جاتا ہے۔
یہ حقیقت بھی یاد رکھنی چاہئے کہ قیامت کے دن انسان کے اعضاء اس کے اعمال کی گواہی دیں گے۔ قرآن کریم میں ارشاد ہے:
الْيَوْمَ نَخْتِمُ عَلَىٰ أَفْوَاهِهِمْ وَتُكَلِّمُنَا أَيْدِيهِمْ وَتَشْهَدُ أَرْجُلُهُمْ بِمَا كَانُوا يَكْسِبُونَ (یس: 65)
ترجمہ: “آج ہم ان کے منہ پر مہر لگا دیں گے اور ان کے ہاتھ ہم سے بات کریں گے اور ان کے پاؤں گواہی دیں گے جو کچھ وہ کیا کرتے تھے۔”
یہ آیت انسان کو یہ احساس دلاتی ہے کہ اس کے ہر عضو کی ذمہ داری ہے اور اس کے استعمال کے بارے میں اس سے سوال کیا جائے گا۔
حقیقت یہ ہے کہ روزہ انسان کی مکمل تربیت کا نام ہے۔ جب دل پاک ہو، ہاتھ نیکی میں لگیں، قدم خیر کی طرف بڑھیں، کمائی حلال ہو اور فکر مثبت ہو تو انسان کی زندگی میں ایک حقیقی انقلاب پیدا ہوتا ہے۔ یہی رمضان المبارک کا پیغام ہے اور یہی روزے کی اصل روح ہے۔
ہمیں چاہئے کہ اس مبارک مہینے کو محض رسمی عبادت کا مہینہ نہ بنائیں بلکہ اسے اپنی زندگی کی اصلاح کا ذریعہ بنائیں۔ اپنے دل کو پاک کریں، اپنے اعمال کو درست کریں اور اپنے تمام اعضاء کو اللہ کی اطاعت کا عادی بنائیں۔ اگر ہم اس تربیت کو اپنی زندگی کا حصہ بنا لیں تو رمضان کے بعد بھی ہماری زندگی میں نیکی اور تقویٰ کی روشنی باقی رہے گی۔
اللہ تبارک و تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنے تمام اعضاء کا صحیح روزہ رکھنے کی توفیق عطا فرمائے، ہماری زندگی کو تقویٰ اور اخلاص سے بھر دے، اور ہمیں رمضان المبارک کی برکتوں سے حقیقی فائدہ اٹھانے والا بنائے۔