از:- ڈاکٹر ظفردارک قاسمی
ـــــــــــــــــــــــــــ
رواں حالات میں بھارت میں سب سے زیادہ جو قابل توجہ پہلو ہیں ان میں حب الوطنی یاراشٹر واد اور مذہبی منافرت ہے ۔ حب الوطنی کو مسلمانوں سے جوڑ کر دیکھا جارہاہے ۔ یعنی کئی عناصر ایسے ہیں جو کھلے عام ذرائع ابلاغ کے توسل سے یہ پیغام دیتے ہیں کہ ہندوستان کا مسلمان وطن سے محبت نہیں کرتا ہے ۔ کھاتا، کماتا اور رہتا یہاں ہے مگر اسے وطن سے محبت نہیں ہے ۔ اس کی آئے دن مثالیں ہمارے سامنے آتی رہتی ہیں ابھی حال میں فلم ایکٹر شاہ رخ خاں پر یہ الزام عائد کیا گیا کہ وہ دیش بھگت نہیں ہے ۔ اس سے پہلے بھی کئی لوگوں نے جو بظاہر مذہب اور دھرم کے رہنما ہیں ، مسلمانوں کی حب الوطنی پر سوال اٹھا چکے ہیں، صرف سوال ہی نہیں اٹھاتے ہیں بلکہ کھلے الفاظ میں مسلم کمیونٹی کو غدار وطن کہدیتے ہیں ۔ اس بیانیے میں گزشتہ کئی برسوں سے تیزی آئی ہے۔ پیہم یہ سلسلہ جاری ہے ۔ اس بیانیے کا افسوسناک پہلو یہ ہے کہ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا میں بھی اس طرح کے بیانیوں اور افکار کو خاصی جگہ مل جاتی ہے ۔ اس سے معاشرے میں جو پیغام جاتاہے وہ کسی کی نظروں سے مخفی نہیں ہے ۔ ان تمام بیانیوں جس میں مذہبی ، سیاسی اور سماجی طاقتیں شامل ہیں کا تجزیہ کرنے کے بعد اندازہ ہوتا ہے کہ مسلمانوں کی حب الوطنی پر سوال اٹھانا ایک دانستہ اور منصوبہ بند سازش ہے ۔ اس سے جہاں سیاسی فائدہ ہوتا ہے تو وہیں اس طرح کے بیان دینے والے بھی خوب سستی شہرت حاصل کرتے ہیں ۔ بھارت جیسے تکثیری سماج میں مسلمانوں کے خلاف اس طرح کا ماحول پیدا کرنا اخلاقی اور قانونی کسی بھی اعتبار سے درست نہیں ہے ۔ اسی کے ساتھ ساتھ ہندوستانی جنتا کو یہ اچھی طرح سمجھنا ہوگا کہ ارباب سیاست اور نام نہاد مذہبی رہنماؤں کی طرف سے یہ ایک ایسا جال بنا گیا ہے جس میں پھنس نا تو اچھا لگتا ہے، لیکن نفرت کے اس کنوئیں میں اترنے کے بعد سماج میں اس کے نتائج مایوس کن ہی مرتب ہوتے ہیں ۔ اس حوالے سے اہم بات یہ بھی ہے کہ مسلمانوں کی عدم حب الوطنی پر دیئے گئے تمام بیانات میں ایک بات تو یکساں ہے وہ یہ کہ ان بیانات کا معاشرے کے ایک طبقے پر منفی اثر پڑرہا ہے جس سے بھارت کی روحانی ، تہذیبی اور جمہوری قدریں مخدوش و مجروح ہورہی ہیں ۔ اس لیے اس طرح کے بیانات دینے سے قبل خواہ یہ بیانیے ترتیب دینے والے کسی بھی طبقہ سے تعلق رکھتے ہوں نظر ثانی کرنے اور خود کا محاسبہ کرنے کی سخت ترین ضرورت ہے ۔
سوال یہ ہے کہ کیا واقعی یہ بیانیہ سچ ہے کہ مسلمان اپنے وطن سے محبت نہیں کرتے ؟ اس حوالے سے پہلی بات تو یہ ہے کہ یہ ایک نہ صرف غیر ضروری سوال ہے بلکہ یہ سوال اٹھانے سے اندازہ ہوتا ہے کہ ایسے لوگوں کو ہندوستانی تاریخ ، یہاں قدروں ، روایتوں اور مشترکہ معاشرتی محاسن کا احساس تک نہیں ہے ۔ اگر واقعی اس طرح کے بیانیے ترتیب دینے والے بھارت کی تاریخ اور یہاں کے سماجی و اخلاقی کلچر سے ذرا بھی واقف ہوتے تو شاید اس طرح کی باتیں نہ کرتے جس سے بھارت کی تہذیبی قدریں متاثر ہوتی ہیں ۔
اسی سوال سے وابستہ ایک اور سوال مسلمانوں سے عام طور پر کیا جاتاہے کہ آئین یا مذہب میں کس کو ترجیح حاصل ہے ؟ بظاہر یہ سوال بڑا خوبصورت اور اہم نظر آتا ہے، جب کہ یہ سوال کرنا اس لیے فضول ہے کہ آئین نے ہر طبقہ کو مذہب پر عمل کرنے ، اپنی پسند کا دین اختیار کرنے کی آزادی دی ہے ۔ یعنی ہندوستان کے آئین میں تمام طبقات اور ادیان و مذاھب کے لوگوں کی رعایت رکھی گئی ہے، اس لیے کوئی کچھ بھی عقیدہ رکھتا ہے تو یہ اس کا نجی معاملہ ہے اور وہ اپنے عقیدہ کے مطابق مذہبی رسومات اختیار کرے گا ۔ اسلام نے اپنے ماننے والوں کو یہ ہداہت کی ہے کہ وہ اپنے وطن سے محبت کریں یعنی حب الوطنی مذہبی تعلیمات کا بنیادی حصہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں: جمہوریت کا دن اور فراموش کی گئی قربانیاں
اسلام نے سکھایا کہ وطن سے محبت ایمان کا جز ہے ۔ اس حوالے سے اسلامی مصادر و مآخذ میں متعدد شواہد ملتے ہیں جو حب الوطنی اور وطن دوستی کے لیے ابھارتے ہیں ۔ لہذا آئین و دستور کی اپنی حیثیت مسلم ہے اس لحاظ سے دونوں باتوں میں کوئی تضاد نہیں ہے ۔
دوسرا اہم مدعا اس وقت مذہب کے نام پر منافرت کا ہے۔ یہ بھی بہت ہی خطرناک کھیل ہے ۔ جس طرح سے آج مذہبی منافرت کا کھیل کھیلا جارہا ہے اس سے یقیناً بھارت جیسے معاشرے میں نفرت اور اخلاقی قدریں مسمار ہورہی ہیں ۔ اس حوالے سے پہلی بات تو یہ ہے کہ مذہب معاشرتی اصلاح اور نوع انسانی کی راہ راست پر رہنمائی کرتا ہے ۔مذہب کوئی بھی ہو اس کا سماج میں بنیادی کردار امن و امان ہوتا ہے ۔ لیکن جب مذہب کے نام پر دہشت و بربریت اور خوف و ہراس پھیلایا جائے تو یقیناً یہ پہلو سب کے لیے نقصان دہ ہوتا ہے۔ جب مذہب کا سیاسی استعمال ہونے لگے تو یہ تصور کرنا چاہیے کہ جو طاقتیں ایسا کررہی ہیں ان کے پاس سماجی فلاح اور قومی تعمیر و ترقی کا کوئی جامع منصوبہ نہیں ہے ۔
مذہب کو استعمال کرکے سماج میں نفرت پھیلانے کا یہ مطلب ہر گز نہیں ہے کہ اس مذہب میں کوئی کمی ہے کیونکہ مذہب انسانی تاریخ کا ایک عظیم اور مؤثر عنصر رہا ہے جس نے معاشرتی ہم آہنگی اور اخلاقی اقدار کے فروغ میں بنیادی کردار ادا کیا ہے۔ تمام مذاہب محبت، امن اور احترامِ انسانیت کی تعلیم دیتے ہیں۔ تاہم تاریخ کے مختلف ادوار میں یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ بعض افراد اور گروہ اپنے ذاتی مفادات، سیاسی اغراض یا تنگ نظر سوچ کی بنیاد پر مذہب کو نفرت، تعصب اور تشدد کے لیے استعمال کرتے رہے ہیں جو ایک غیر مستحسن اقدام ہے ۔
یہ بھی پڑھیں: بھارتی جمہوریت: ایک عظیم خواب ایک نازک موڑ
اس تناظر میں اہم بات یہ ہے کہ مذہب کے نام پر نفرت اس وقت جنم لیتی ہے جب مذہبی تعلیمات کی غلط تشریح کی جائے، اختلافِ رائے کو برداشت کرنے کے بجائے اسے دشمنی میں بدل دیا جائے اور انسانوں کو مذہبی شناخت کی بنیاد پر کمتر یا دشمن سمجھا جائے۔ اس سوچ کے نتیجے میں فرقہ واریت، انتہاپسندی، عدم برداشت اور سماجی تقسیم پیدا ہوتی ہے۔ مذہب جو دلوں کو جوڑنے کا کام کرتاہے وہی دلوں کو توڑنے کا ذریعہ بنا دیا جاتا ہے۔
یہ نفرت نہ صرف مختلف مذاہب کے ماننے والوں کے درمیان کشیدگی کو بڑھاتی ہے بلکہ ایک ہی مذہب کے اندر مختلف مسالک اور گروہوں کے درمیان بھی شدید اختلافات کو جنم دیتی ہے۔ اس کے نتیجے میں معاشرے میں خوف، بداعتمادی اور تشدد کی فضا قائم ہو جاتی ہے، جو امن و ترقی کی راہ میں بڑی رکاوٹ بن جاتی ہے۔
اس مسئلے کا حل اسی میں ہے کہ مذہب کو اس کی اصل روح کے ساتھ سمجھا جائے، مکالمے، برداشت اور باہمی احترام کو فروغ دیا جائے اور نفرت کے بجائے محبت و انصاف کے پیغام کو عام کیا جائے۔ مذہب انسانیت کی خدمت کے لیے ہے، انسانیت کو تقسیم کرنے کے لیے نہیں ہے ۔
آخر میں یہ کہنا مناسب معلوم ہوتا ہے کہ مسلمانوں کی حب الوطنی پر شک یا مذہب کا نفرت کے لیے استعمال ایسے عناصر ہیں جو معاشرے کو اندر سے توڑ رہے ہیں اور اس سے سماج میں ہم آہنگی اور احترام نفس پر قد غن لگ رہی ہے۔ جو لوگ بھی ایسا کررہے ہیں ان کا کردار یقینا معاشرے کے لیے بالکل ٹھیک نہیں ہے ۔ اس نظریہ کا ازالہ محبت ، امن اور رواداری سے ہوسکتا ہے ۔
سماج میں اتحاد و یکجہتی اور مشترکہ اقدار کی ترویج و اشاعت سے نفرت کا بھی خاتمہ ہوگا اور امن و سلامتی کا پیغام بھی جائے گا ۔ اسی طرح نفرت پر مبنی تمام بیانات اور مسلمانوں کی حب الوطنی کو مشکوک کرنے والے نظریات کا بھی سنجیدگی سے تجزیہ کرنا چاہیے تاکہ ملک میں کسی وفاداری اور خلوص پر حرف نہ آئے ۔