بچوں کو رقص نہیں تاریخ سکھائیں

✍🏻 محمد عادل ارریاوی

_____________________

محترم قارئین! آج 26 جنوری یوم جمہوریہ ہے اس موقع پر ملک کے مختلف اسکولوں کالجوں یونیورسٹیوں اکیڈمیوں اور بعض مدارس میں تقاریب منعقد کی جاتی ہیں ان پروگراموں میں سب مل کر خوشی کا اظہار کرتے ہیں قومی گیت پیش کیے جاتے ہیں اور مختلف تعلیمی و ثقافتی سرگرمیاں ہوتی ہیں یہ ایک خوش آئند بات ہے کیونکہ اس دن ہمیں اپنے وطن کی تاریخ اور آئینی اقدار کو یاد کرنے کا موقع ملتا ہے تاہم افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑتا ہے کہ بعض اداروں میں ایسے پروگرام بھی شامل کر دیے جاتے ہیں جو ہماری تہذیب دینی اقدار اور اسلامی شناخت کے خلاف ہیں مثلاً بچوں سے رقص (ڈانس) کروانا یہ عمل نہ صرف غیر ضروری ہے بلکہ ایک مسلمان معاشرے کے لیے شرمناک اور ناپسندیدہ بھی ہے ہمیں بحیثیت مسلمان اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ ہماری تقریبات باوقار ہوں اور ہماری دینی و اخلاقی حدود کے اندر رہیں اس کے بجائے یہ زیادہ مناسب اور بامقصد ہوگا کہ ہم اپنے بچوں کو اپنے اسلاف اکابر علما اور مجاہدین آزادی کے حالات سے روشناس کرائیں انہیں بتایا جائے کہ کس طرح علماۓ کرام نے اپنے خون و جگر کی قربانیاں دے کر اس ملک کی آزادی میں اہم کردار ادا کیا ہماری تاریخ قربانیوں جدوجہد اور عزم سے بھری ہوئی ہے جسے نئی نسل تک پہنچانا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

یہ بھی پڑھیں: جمہوریت کا دن اور فراموش کی گئی قربانیاں

مجھے یاد ہے کہ ایک مرتبہ 26 جنوری کے موقع پر میں اپنے علاقے کے ایک اسکول میں گیا وہاں ہم نے چند مسلم طلبہ سے سوال کیا کہ آج کون سا دن ہے اس کی اہمیت کیا ہے اور ملک کی آزادی میں کن لوگوں نے کردار ادا کیا افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ بیشتر بچوں نے صرف غیر مسلم شخصیات کے نام لیے جبکہ مسلمانوں میں سے صرف ایک دو نام جیسے مولانا ابوالکلام آزاد وہ بھی مکمل معلومات کے بغیر بیان کیے گئے یہ صورتِ حال نہایت افسوسناک ہے کہ مسلمان بچے اپنی ہی تاریخ اور اپنے محسنوں سے ناواقف ہوتے جا رہے ہیں اگر یہی سوال مدارس کے طلبہ سے کیا جائے تو وہ کم از کم چند علماۓ کرام کے نام ضرور بتا دیتے ہیں کیونکہ وہاں انہیں باقاعدہ پروگراموں اور دروس کے ذریعے اپنی تاریخ سے آگاہ کیا جاتا ہے لیکن اسکولوں میں پڑھنے والے مسلم بچوں کو یہ سب کون بتائے گا؟ وہاں تو ان کے ذہنوں میں صرف دوسروں کے نام اور کارنامے بھر دیے گئے ہیں جبکہ مسلمانوں کی قربانیوں کا ذکر نہ ہونے کے برابر ہے ہمیں سنجیدگی سے اس مسئلے پر غور کرنے کی ضرورت ہے اگر ہم نے اپنی تاریخ اپنے اکابر اور اپنی شناخت نئی نسل تک نہ پہنچائی تو وہ دن دور نہیں جب ہماری داستان کو مٹانے کی کوششیں مکمل طور پر کامیاب ہو جائیں گی افسوس کہ اس سمت میں کچھ لوگ پہلے ہی کافی حد تک کامیاب ہو چکے ہیں
لہٰذا ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ ہم اپنے بچوں کو اپنی دینی قومی اور تاریخی وراثت سے آگاہ کریں انہیں اپنی شناخت پر فخر کرنا سکھائیں اور اپنی تقریبات کو باوقار تعمیری اور مقصدی بنائیں یہی ہمارے لیے اور ہماری آنے والی نسلوں کے لیے بہتر اور محفوظ راستہ ہے۔
اللہ ربّ العزت ہمیں صحیح سمجھ عطافرماۓ آمین یارب العالمین ۔

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔