بھارت امریکہ تجارتی معاہدہ: مودی-ٹرمپ فون کال کے بعد شراکت داری ممکن

بھارت امریکا تجارت

نئی دہلی/واشنگٹن:

بھارت اور امریکہ کے درمیان کئی ماہ سے تعطل کا شکار رہنے والے دوطرفہ تجارتی معاہدے پر ایک اہم پیشرفت سامنے آئی ہے، جس کا اعلان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ حال ہی میں ہوئی فون کال کے بعد کیا۔

صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا بیان میں کہا کہ بھارت اور امریکہ نے ایک تجارتی معاہدے پر اتفاق کیا ہے جس کے تحت امریکی حکومت بھارت سے درآمد ہونے والی مصنوعات پر جواباً عائد ٹیرف کو 25 فیصد سے کم کرکے 18 فیصد کردیا جائے گا۔ اس کے بدلے بھارت نے، ٹرمپ کے مطابق، روسی تیل کی خریداری روکنے پر رضامندی ظاہر کی ہے اور امریکہ سے بڑے پیمانے پر توانائی، ٹیکنالوجی اور دیگر اشیا خریدنے کا وعدہ کیا ہے۔

صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ بھارت اپنے اطلاق کردہ ٹیرف اور غیر ٹیرف رکاوٹوں کو بھی صفر تک لانے کی کوشش کرے گا، جس سے امریکی مصنوعات پر بھی درآمدی رکاوٹیں کم ہوں گی۔

معیشت اور بازاروں پر اثرات

تجارتی معاہدے کے اعلان کے فوری بعد بھارتی روپیہ اور اسٹاک مارکیٹ میں نمایاں بہتری دیکھی گئی، جس سے سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ ہوا ہے۔

سیاسی ردِعمل اور تحفظات

بھارتی سیاسی حلقوں میں بھی اس معاہدے پر مختلف ردِعمل سامنے آئے ہیں۔ سرکاری حکام نے کہا ہے کہ یہ ڈیل کاروباری عدم یقینی صورتحال کو کم کرے گی اور برآمدات کو فروغ دے گی، جبکہ حزبِ اختلاف نے حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ معاہدے کی شرائط کو عوام کے سامنے واضح کرے۔

اہم نکات

  • ٹیرف میں کمی: امریکہ نے بھارت سے درآمدات پر عائد ٹیرف کو 25% سے 18% کیا۔
  • توانائی کی تبدیلی: بھارت نے روسی تیل کی خرید کو ختم کرنے پر اتفاق کیا۔
  • شراکت داری بڑھائی جائے گی: دونوں ممالک نے باہمی تجارتی تعلقات کو مضبوط بنانے کا عزم ظاہر کیا ہے۔

یہ معاہدہ باہمی تجارت اور اقتصادی تعلقات میں نئی سمت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، حالانکہ اس کے طویل مدتی اقتصادی اور تجارتی اثرات پر مباحثہ جاری ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے