روسی تیل کی خریداری میں نمایاں کمی: سفارتی دباؤ کے بیچ بھارت کی معاشی ترجیحات پر سوال

نئی دہلی: مختلف قومی و بین الاقوامی رپورٹس اور تجارتی اعداد و شمار کے مطابق India کی جانب سے Russia سے درآمدات میں جنوری 2026 کے دوران تقریباً 40 فیصد سے زائد کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب روس۔یوکرین تنازع کے بعد بھارت روسی خام تیل کا ایک بڑا خریدار بن کر ابھرا تھا۔ مبصرین اس اچانک کمی کو عالمی پابندیوں، بدلتی ہوئی جغرافیائی سیاست اور خصوصاً United States کے بڑھتے ہوئے سفارتی و معاشی دباؤ کے تناظر میں دیکھ رہے ہیں، جس کے باعث نئی دہلی کی تجارتی حکمتِ عملی پر اثرات مرتب ہونے کی قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں۔

درآمدات میں نمایاں گراوٹ

سرکاری تجارتی اعداد و شمار کے مطابق جنوری 2025 میں بھارت نے روس سے تقریباً 4.81 بلین ڈالر کی اشیاء درآمد کی تھیں، جب کہ جنوری 2026 میں یہ حجم گھٹ کر تقریباً 2.86 بلین ڈالر رہ گیا۔ اس طرح ایک سال کے اندر تجارت میں 40 فیصد سے زیادہ کمی واقع ہوئی۔

خام تیل بنیادی سبب

ماہرین کے مطابق اس کمی کی سب سے بڑی وجہ روسی خام تیل کی خریداری میں کمی ہے۔ یوکرین جنگ کے بعد بھارت نے رعایتی نرخوں پر روسی تیل کی بڑے پیمانے پر خریداری شروع کی تھی، جس سے دونوں ممالک کے تجارتی تعلقات میں غیر معمولی اضافہ ہوا تھا۔ تاہم حالیہ مہینوں میں عالمی دباؤ اور پابندیوں کے خدشات کے باعث درآمدی پالیسی میں محتاط رویہ اختیار کیا گیا ہے۔

سفارتی دباؤ یا معاشی حکمتِ عملی؟

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکہ کی جانب سے روس پر عائد پابندیوں اور عالمی مالیاتی نظام میں دباؤ کے باعث بھارت کو اپنی تجارتی ترجیحات پر نظرِ ثانی کرنا پڑی ہے۔ بعض حلقوں کا ماننا ہے کہ اگر یہی رجحان برقرار رہا تو بھارت کو توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے متبادل ذرائع پر زیادہ انحصار کرنا ہوگا، جس سے لاگت میں اضافہ بھی ممکن ہے۔

مستقبل کا منظرنامہ

حکومتی ذرائع کی جانب سے باضابطہ طور پر اس کمی کی کوئی سیاسی توجیہ پیش نہیں کی گئی، تاہم ماہرین کا خیال ہے کہ آئندہ مہینوں میں عالمی سفارتی حالات اور توانائی کی منڈیوں کا اتار چڑھاؤ اس رجحان کا تعین کرے گا۔

روس اور بھارت کے درمیان توانائی اور دفاعی شعبوں میں گہرے تعلقات رہے ہیں، اس لیے یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ آیا یہ کمی عارضی ہے یا دونوں ممالک کے تجارتی تعلقات میں کسی بڑی تبدیلی کا پیش خیمہ

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔