اداس موسم: تعارف و تجزیہ

انور آفاقی اردو شعر و ادب کے اس قبیل کی نمائندگی کرتے ہیں جہاں پرورشِ لوح و قلم عبادت سے کم نہیں، سو انہوں نے شاعری کو اس طور پر اپنایا کہ دل کی صدا کا اظہاریہ بنا ڈالا ۔ انہوں نے گذشتہ صدی کی آٹھویں دہائی میں شاعری کی شروعات کی ۔ پہلا شعری مجموعہ” لمسوں کی خوشبو "2011 میں شائع ہوا ۔ اس کا دوسرا ایڈیشن بھی منظر عام پر آیا۔

اداس موسم: تعارف و تجزیہ Read More »

ڈاکٹر ظفرکمالی کا تصنیفی سرمایہ: تعارفی سلسلہ

ایک سو چوالیس صفحات اور تین سو چوراسی رباعیوں پر مشتمل مجموعہ ’رباعیاں‘۲۰۱۰ء میں عرشیہ پبلی کیشنز،نئی دلی سے شایع ہوا۔ ’رباعیاں‘ میں حیات و کائنات کے متنوع اعباد پر مشتمل رباعیاں شامل ہیں۔حمد و نعوت سے شروع ہوکر اس میں تجربی اور نظری،اخروی اور دنیاوی،فکری اور تخیلاتی،حکمت و موعظت، ملک و ملت، عرفان و آگہی،اتحاد و یگانگت،صبر و استقلال، حماست و شجاعت، تعمیریت، انسانی عظمت اور وقار،علم و جہل،فقر و استغنا،مذہبی رواداری اور رفاہِ عامہ، مفلس و نادار اور داخلیت اور روحانیت پر محیط مضامین اور وسیع موضوعات کا شاعرانہ اظہار قابل توجہ ہے۔

ڈاکٹر ظفرکمالی کا تصنیفی سرمایہ: تعارفی سلسلہ Read More »

جامعہ ابی بن کعبؓ بنیاٹول: ایک خوبصورت نغمہ گاہِ قرآنی(پہلی قسط)

جامعہ ابی بن کعبؓ بنیاٹول: ایک خوبصورت نغمہ گاہِ قرآنی (پہلی قسط) از: ظفر امام کھجورڑی دارالعلوم بہادرگنج، کشن گنج، بہار ____________________ انسان اپنے ہی مقدر پر اس وقت رشک کرنے لگتا ہے جب اس کے نصیبے کو اس کی توقع سے زیادہ خدائی عطیہ اور عظیم شخصیات کی توجہ میسر ہوتی ہے،میں نے کبھی

جامعہ ابی بن کعبؓ بنیاٹول: ایک خوبصورت نغمہ گاہِ قرآنی(پہلی قسط) Read More »

کڑمالی انصاری برادری کا تعارف اور تاریخ

کڑمالی انصاری برادری کا تعارف اور تاریخ (تاریخی جائزہ اور شناخت کا سفر) از: ڈاکٹر سلیم انصاری جھاپا، نیپال __________________________ کڑمالی انصاری ایک مسلم کمیونٹی ہے جو بھارت، نیپال اور بنگلادیش کے مختلف علاقوں میں پائی جاتی ہے، خاص طور پر جھارکھنڈ کے گڈا، صاحب گنج اور پاکور میں، مغربی بنگال کے مالدہ، اُتر دیناج

کڑمالی انصاری برادری کا تعارف اور تاریخ Read More »

قانون تحفظ عبادت گاہ:ہر روز نئی ایک الجھن ہے

قانون تحفظ عبادت گاہ:ہر روز نئی ایک الجھن ہے از: سید سرفراز احمد تحفظ عبادت گاہوں کا قانون ایک ایسے وقت میں بنایا گیا تھا جب ہندو توا طاقتوں کی جانب سے بابری مسجد کی جگہ کو متنازعہ بنا کر رام مندر کا دعوی کیا گیا تھا جس کے لیئے ایل کے اڈوانی نے پورے

قانون تحفظ عبادت گاہ:ہر روز نئی ایک الجھن ہے Read More »

اوپر تک سکرول کریں۔