قومی تقریبات میں رقص و سرود: مسلم اسکولوں میں اخلاقی اقدار کا بحران

از: عارف حسین ایڈیٹر سیل رواں

ــــــــــــــــــــــــــــــ

یومِ آزادی اور یومِ جمہوریہ جیسے عظیم قومی مواقع دراصل قوم کی تاریخ، قربانیوں اور مشترکہ اقدار کو یاد کرنے کے دن ہیں۔ اسکولوں میں منعقد ہونے والی تقریبات ان مواقع پر بچوں کے اندر حب الوطنی، قومی یکجہتی اور ذمہ دار شہری ہونے کا شعور بیدار کرنے کا بہترین ذریعہ بن سکتی ہیں، مگر افسوس کہ متعدد مقامات پر یہ تقریبات ’’کلچرل پروگرام‘‘ کے نام پر اپنی اصل روح سے ہٹ کر محض تفریح اور نمائش کا روپ اختیار کر چکی ہیں، جہاں بچوں اور بچیوں سے فلمی گانوں پر رقص کروایا جاتا ہے۔ یہ طرزِ عمل نہ صرف تعلیمی اداروں کے وقار کے خلاف ہے بلکہ بچوں کی اخلاقی تربیت اور کردار سازی کے لیے بھی نقصان دہ ہے۔

زیادہ تشویش ناک پہلو یہ ہے کہ یہی روش بعض مسلم اسکولوں، مدارس اور کوچنگ سینٹروں میں بھی اختیار کی جا رہی ہے، جہاں ڈائریکٹر، اساتذہ، نگران اور طلبہ و طالبات سب مسلمان ہوتے ہیں۔ قومی تقریبات کے موقع پر مسلم بچوں اور بچیوں کو مجمعِ عام میں رقص کی نمائش کے لیے اسٹیج پر پیش کیا جاتا ہے۔ یہاں یہ سوال فطری طور پر ذہن میں آتا ہے کہ آخر ایسی کیا مجبوری ہے؟ کیا پرچم کشائی، قومی ترانہ، ڈاکٹر محمد اقبال، بہادر شاہ ظفر، علامہ فضلِ حق خیرآبادی اور دیگر مسلم مجاہدینِ آزادی کی قربانیوں پر مبنی تقاریر، قومی شاعری، تاریخی ڈرامے یا اصلاحی ناٹک کافی نہیں؟ کیا رقص و موسیقی کے بغیر قومی شعور اور حب الوطنی کا پیغام نہیں دیا جا سکتا؟

یہ بھی مشاہدے میں آیا ہے کہ بعض مقامات پر مسلم بچیاں اسلامی لباس — حتیٰ کہ کبھی نقاب میں —اسٹیج پر ایسے ڈرامائی مناظر پیش کرتی ہیں جن میں غیر ضروری چٹکلے، پھوہڑ پن یا نامناسب مکالمے شامل ہوتے ہیں۔ یہ مناظر ماضی میں زیادہ تر غیر مسلم اداروں تک محدود سمجھے جاتے تھے، مگر اب افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ یہی رجحان بعض مسلم اداروں میں بھی بڑھ رہا ہے۔ یہاں مسئلہ محض لباس کا نہیں، بلکہ مجمعِ عام میں رقص و سرود اور اس نوع کی سرگرمیوں کی اصولی اور اخلاقی حیثیت کا ہے۔

مسلم تعلیمی اداروں کے ذمہ داران سے ایک سیدھا اور سنجیدہ سوال ہے: کیا وہ اپنی بہنوں اور بیٹیوں کو اس طرح اسٹیج پر نچانا پسند کریں گے؟ اگر جواب نفی میں ہے تو پھر دوسروں کی بچیوں کے ساتھ یہی رویہ کیوں اختیار کیا جاتا ہے؟ اسلام کی بنیادی تعلیم یہی ہے کہ جو چیز انسان اپنے لیے ناپسند کرتا ہے، وہی دوسروں کے لیے بھی ناپسند رکھے۔ ہر مسلمان پر لازم ہے کہ وہ دوسروں کی عزت و حرمت کا وہی خیال رکھے جو اپنی اولاد کے لیے رکھتا ہے۔

مسلم تعلیمی اداروں کا یہ فرض بنتا ہے کہ وہ ہر حال میں شریعت کے اصولوں اور اسلامی اخلاقیات کو مقدم رکھیں۔ قومی تقریبات کو ضروری، بامقصد اور باوقار سرگرمیوں تک محدود رکھا جائے۔ جیسے پرچم کشائی، قومی ترانہ، مجاہدینِ آزادی کی خدمات کا تذکرہ، اخلاقی اقدار کی تلقین اور کردار سازی پر مبنی پروگرام۔ ان تقریبات کو محض تفریح، نمائش یا غیر مناسب سرگرمیوں کا ذریعہ نہ بنایا جائے۔

یقیناً وہ مسلم اسکول، مدارس اور کوچنگ سینٹر قابلِ مبارکباد ہیں جن کے ذمہ داران اس معاملے میں حساسیت اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہیں اور اپنی تقریبات میں اسلامی اقدار اور اخلاقی حدود کو ملحوظ رکھتے ہیں۔ یہی طرزِ عمل نئی نسل کو اخلاقی طور پر مضبوط، باکردار اور حقیقی قومی شعور سے لیس بنانے کی ضمانت ہے۔

آئیے! اس رجحان پر سنجیدگی سے غور کریں اور اپنے تعلیمی اداروں کو واقعی اسلامی اور قومی اقدار کا مرکز بنانے کی کوشش کریں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں حق کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔