عبادت کی راتیں یا خطابت کی راتیں

از : محمد صادق قاسمی

خطیب مسجد بلال اندور

چیزیں آہستہ آ ہستہ جنم لیتی ہیں ۔ شیطان دھیرے دھیرے نور سے ظلمت کی طرف دھکیلتا ہے ۔ اتباع سنت سے بدعت کی طرف کب خروج ہو جاتا ہے ؟ پتہ ہی نہیں چلتا۔ اچھی نیت سے شروع کیا گیا اچھا عمل کب قبیح بدعت بن جاتا ہے ؟ احساس ہی نہیں ہوتا ۔ علمائے دیوبند کا امتیاز رہا ہے کہ اتباع سنت کے پابند رہے ہیں ،بدعات ورسومات کے سخت مخالف رہے ہیں بلکہ اس کے خاتمے کے لیے ایک بڑا کردار ادا کیا ہے ۔ ہمارے اکابر بدعت بن جانے کے اندیشہ سے بعض دفعہ مباح و مستحسن ، سودمند وفائده مند عمل کو ترک کردیا کرتے تھے لیکن افسوس کہ آج ہم ان کے نام لیوا بدعات کو جنم دے رہے ہیں ضرورت کے مختصر سے خوبی یا نفع کے پہلو کو دیکھ کر بڑے خطرے سے غافل ہیں اور بھول رہے ہیں که جب ایک بدعت جنم لے لیتی ہے تو اس کے خاتمے میں صدی سے زیاده کا وقت لگ جاتا ہے ۔ شب برات ، شب قدر یا رمضان کی راتوں میں بیانات تقریبا رواج بن گیا ہے مستقل درس و خطابت تو اپنی جگہ ہے اس کی نافعیت میں کوئی دو رائے نہیں ہو سکتی لیکن جس طرح راتوں کو کاٹنے کے لیے بیانات کے اہتمام ہو رہے ہیں ، مقررین اس کے لیے خاص دور دراز علاقوں کے سفر کر رہے ہیں ۔ اشتہارات شائع کئے جارہے ہیں اور گھنٹوں بیانات ہوتے ہیں جس کے بعد عوام میں عبادت کی سکت و نشاط باقی نہیں رہتی اور وہ اسی کو رمضان المبارک یا شب قدر کی عبادت سمجھ لیتی ہے ، یہ قابل غور ہے ۔

ہمارے اکابر کا رمضان کس طرح کا تھا ؟ مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ ان کے ہاں درس و تدریس ، وعظ و نصیحت ، ملاقات و صحبت کے بہت سے معمولات رمضان المبارک میں خصوصیت کے ساتھ چھوڑ دیے جاتے تھے یا مختصر کردیئے جاتے تھےکہ بس تلاوت قران یا انفرادی عبادات میں انہماک رہے جیسا کہ حضرت شیخ الحديث رحمه الله نے اس پر لکھا ہے ۔ اگر اس پر غور نہیں کیا گیا روک نہیں لگائی گئی تو کچھ ہی سالوں میں ہر مسجد کے آگے ایک میلہ بھی دیکھنے کو ملے گا اور پھر اس بدعت کو ختم کرنے میں بعد میں صدیاں لگ جائے گی ۔

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔