✍🏻 بقلم: محمد عادل ارریاوی
_________________
محترم قارئین! انسان کی زندگی میں سب سے قیمتی سرمایہ ایمان ہے اور ایمان کی حفاظت علم فہم اور بصیرت کے بغیر ممکن نہیں عبادت اگرچہ اللہ تعالیٰ کے قرب کا ذریعہ ہے لیکن اگر عبادت علم کے بغیر ہو تو وہ انسان کو شیطان کے مکر و فریب سے محفوظ نہیں رکھ سکتی تاریخ اسلام میں بارہا ایسے واقعات ملتے ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ شیطان کی سب سے آسان شکار اکثر وہی لوگ بنتے ہیں جو نیک تو ہوتے ہیں مگر علم کی روشنی سے محروم ہوتے ہیں شیطان کا سب سے خطرناک ہتھیار یہ نہیں کہ وہ انسان کو کھلے گناہ پر آمادہ کرے بلکہ وہ آہستہ آہستہ دل میں شکوک وسوسے اور غلط فہمیاں ڈال کر ایمان کی بنیادوں کو ہلا دیتا ہے یہی وجہ ہے کہ وہ جاہل عابد کو عالمِ باعمل کے مقابلے میں زیادہ آسانی سے گمراہ کر لیتا ہے۔ ایک مرتبہ شیطان کے چیلوں نے شیطان سے کہا کہ جب کسی عالم کا انتقال ہوتا ہے تو آپ بہت خوش ہوتے ہیں کسی عابد و زاہد کی موت پر اتنا خوش نہیں ہوتے کیا بات ہے؟شیطان نے کہا کہ آؤ میں تم کو اس کی وجہ بتاتا ہوں اس کے بعد شیطان اپنے چیلوں کو لے کر ایک عابد کے پاس گیا جو جاہل تھا اور اسے سلام کیا خیر خیریت پوچھی شیطان نے اس سے کہا کہ آپ بڑے اچھے آدمی لگتے ہیں میرے دل میں ایک وسوسہ ہے میں اس کے بارے میں آپ سے پوچھنا چاہتا ہوں عابد نے کہا کہ پوچھیے شیطان نے کہا کہ میرے دل میں ایک سوال پیدا ہو رہا ہے وہ یہ کہ کیا اللہ تعالیٰ اس بات پر قدرت رکھتا ہے کہ ایک انڈے میں زمین کو آسمان کو چاند کو سورج کو پوری کا ئنات کو داخل کر دے؟ اس حالت میں کہ انڈا جتنا ہے اتنا ہی رہے اس میں اضافہ نہ ہو اور یہ زمین و آسمان اپنی حالت پر رہیں اس میں کوئی کمی نہ ہو یہ ذہن میں ایک سوال آرہا ہے اس کے بارے میں آپ کیا ارشاد فرماتے ہیں؟
اب وہ عابد جاہل تھا صرف نماز روزے کی باتیں تو جانتا تھا باقی اتنا بڑا عالم تو نہیں تھا تو اس نے کچھ دیر سوچا اس کے بعد کہنے لگا کہ انڈا اتنا ہی رہے اور زمین بھی اتنی ہی رہے اور آسمان بھی اتنا رہے پھر انڈے میں یہ سب داخل ہو جائیں؟ یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ یعنی شک کے لہجے میں تعجب کے انداز میں اس نے یہ سوال دہرایا پھر کہنے لگا کہ نہیں ایسا نہیں ہو سکتا شیطان کے چیلے وہیں موجود تھے شیطان نے ان سے کہا کہ میں نے اس کے دل میں شک کا بیج داخل کر دیا ہے جو اسے کفر تک پہنچادے گا دیکھا کہ میں نے ایک منٹ میں اس عابد و زاہد کو کافر بنا دیا یا کفر کی دہلیز پر بیٹھا دیا اس طرح کے لوگ زندہ رہیں یا مرجائیں مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا اس کے بعد شیطان ایک عالم سے ملا اس سے بھی یہی سوال کیا اور کہا کہ جناب آپ عالم ہیں میرے ذہن میں ایک سوال پیدا ہو گیا اس کا جواب دریافت کرنے آیا ہوں؟ انہوں نے کہا کہ کیا سوال؟ کہا کہ کیا ایسا ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ایک انڈے میں زمین و آسمان کو ڈال دیں؟ تو عالم نے کہا کہ اس میں کیا تعجب کی بات ہے کہ انڈا اپنی حالت پر اسی طرح ہو زمین اور آسمان بھی اسی طرح ہوں پھر اللہ تعالی انڈے میں ان کو داخل کر دیں؟ یہ کوئی تعجب کی بات نہیں ہے اللہ کی ذات تو وہ ہے کہ جب ارادہ کرتا ہے کسی چیز کا تو کن فرماتا ہے اور وہ چیز ہو جاتی ہے وَإِذَا قَضَى أَمْرًا فَإِنَّمَا يَقُولُ لَهُ كُنْ فَيَكُونُ اور جب وہ (اللہ ) کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے تو کہتا ہے کہ ہو جا تو وہ ہو جاتی ہے اس لیے مجھے یقین ہے کہ ایسا ہو سکتا ہے اس میں کوئی بات شک و شبہ کی نہیں شیطان نے اپنے چیلوں کو دیکھ کر کہا کہ دیکھو اس کا علم ایسا ہے کہ یہ ہمارے داؤ میں نہیں پھنس سکتا اور اس کو بہکانا ہمارے لیے آسان نہیں اس لیے ان لوگوں کے زندہ رہنے سے مجھے پریشانی ہوتی ہے اور یہ لوگ مرتے ہیں تو میں جشن مناتا ہوں اور عابد کا حال ایسا کہ اسے جب چاہیں ہم ادھر سے اُدھر کر سکتے ہیں اور اس کی جہالت کی وجہ سے جب چاہے اس کو صرف معصیت میں نہیں بلکہ کفر میں بھی مبتلا کر سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: جیفری اپسٹین، ڈونالڈ ٹرمپ، ظہران ممدانی اور ان کی ماں میرا نائر کے تعلق کا معمہ
آج کے فتنوں کے دور میں جہاں شکوک و شبہات سوشل میڈیا فلسفے اور نام نہاد عقل پرستی کے ذریعے عام ہو چکے ہیں ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ وہ عبادت کے ساتھ علمِ دین بھی حاصل کرے علم وہ نور ہے جو دل کو روشن کرتا ہے اور ایمان کو وسوسوں کے اندھیروں سے بچاتا ہے جاہل عابد بظاہر بہت نیک دکھائی دیتا ہے اس کی راتیں عبادت میں اور دن روزے میں گزرتے ہیں مگر چونکہ اس کے پاس دینی بصیرت نہیں ہوتی اس لیے وہ ہر نئے سوال ہر وسوسے اور ہر شبہے کے سامنے کمزور پڑ جاتا ہے شیطان ایسے ہی شخص کے دل میں ایسے سوالات ڈال دیتا ہے جو اس کے علم کی حد سے باہر ہوتے ہیں اور جب وہ ان کا درست جواب نہیں دے پاتا تو آہستہ آہستہ شک پھر انکار اور آخرکار کفر تک پہنچ جاتا ہے۔
بہر حال جو انسان بھی تقوی والی زندگی اختیار کرتا ہے گناہوں سے بچتا ہے اللہ ربّ العزت اس کو شیطان کے مکر فریب اور گمراہی سے محفوظ رکھتا ہے آج کل فتنوں کا دور ہے اس لیے یہ دعا کیا کریں کہ اے اللہ ربّ العزت ہمیں فتنوں سے محفوظ رکھ اور ہمیں تقوی والی زندگی نصیب فرما ہمیں راہ مستقیم پر قائم رکھ اور اسی پر ہمارا خاتمہ فرما آمین یارب العالمین ۔