فطرت اور تربیت:ایک تمثیلی مطالعہ

از:- سید جمشید احمد ندوی

استاذجامعہ امام شاہ ولی اللہ اسلامیہ ،پھلت

انسانی فکر کی تاریخ میں یہ سوال ہمیشہ مرکزی حیثیت رکھتارہاہے کہ انسان کی شخصیت کی تشکیل میں فطرت کاکردار زیادہ مؤثرہے یاتربیت کا۔کیا انسان اپنے پیدائشی میلان اور جبلّی خصوصیات کا اسیرہوتاہے یا مناسب ماحول،اچھی تربیت اوراعلیٰ اقداراسے بدل سکتی ہیں؟یہ سوال محض فلسفیانہ نہیں بلکہ اخلاقی، سماجی اور تہذیبی بھی ہے، کیونکہ اسی کےجواب پرفرداور معاشرہ کے مستقبل کی سمت متعین ہوتی ہے۔ عربی ادب میں بیان کی گئی ایک نہایت بلیغ تمثیل اس مسئلہ کو نہایت گہرائی،اختصاراوراثرانگیزی کے ساتھ ہمارے سامنے رکھتی ہے، جوفکرونظرکوجھنجھوڑ دینے کی پوری صلاحیت رکھتی ہے۔

يُحكى أن أعرابية وجدت جرو ذئب قد وُلد للتوّ،فحنّت عليه وأخذته و ربّته وكانت تُطعمه من حليب شاةٍ عندها،وكانت الشاة بمثابة الأم لذلك الذئب.
وبعدمرورالوقت كَبُرالذئب الصغير، و عادت الأعرابية يوماًإلى بيتها فوجدت أن الذئب قد هجم على الشاة وأكلها فحزنت الأعرابية على صنيع الذئب اللئيم الذي عرف طبعه بالفطرة،وأنشدت بحزنٍ قائلةً:(الوافر)
بقرْتَ شويهتي وفجعتَ قلبي
وأنتَ لشاتِنا ولدٌ ربيبُ
غُذِيتَ بِدُرّها وربيت فينا
فمن أنباكَ أنّ أباك ذيبُ
إذا كانَ الطباعُ طِباع سوءٍ
فلا أدبٌ يفيدُ ولا أديبُ

کہاجاتاہے کہ ایک دیہاتی عورت کو بھیڑیےکاایک نوزائیدہ بچہ ملا۔اس پراسے ترس آگیا،چنانچہ وہ اسے اپنے گھرلے آئی اور اس کی پرورش کرنے لگی۔اسکے پاس ایک بکری تھی،جس کے دودھ پر اس نے اس بھیڑیے کے بچہ کوپالا،یہاں تک کہ وہ بکری اس کے لیے ماں کے مانند بن گئی۔

وقت گزرا، بھیڑیے کابچہ بڑاہوگیا۔ ایک دن جب وہ عورت گھر لوٹی تو دیکھاکہ بھیڑیے نے اسی بکری پر حملہ کرکے اسے مارڈالااور کھالیا۔یہ دیکھ کرعورت کو شدید صدمہ پہنچا۔اس نے اس بھیڑیےکی کم ظرفی اور فطری درندگی پرغم اور افسوس کےساتھ یہ اشعارکہے:ان اشعارکااردومفہوم کچھ یوں ہے:تم نے میری بکری کوپھاڑڈالااورمیرادل زخمی کردیا،حالانکہ تم ہمارے ہی گھرمیں پلے ہو،اسی بکری کے پروردہ تھے۔
اسی کے دودھ سے تم نے غذا پائی، ہمارے درمیان تمہاری پرورش ہوئی، پھرکس نے تمہیں بتایاکہ تمہاراباپ توبھیڑیاہے؟
جب فطرت ہی بری ہو،تونہ کوئی ادب فائدہ دیتا ہے اورنہ کوئی معلم۔

یہ اشعار محض ایک ذاتی سانحہ کا اظہار نہیں بلکہ انسانی سماج کےلیے ایک ہمہ گیر اصول کی نشان دہی کرتےہیں۔یہاں بھیڑیاصرف ایک جانورنہیں بلکہ اس فطرت کی علامت ہے جواپنی اصل سےفرار نہیں ہو سکتی۔ بکری محض ایک حیوان نہیں بلکہ احسان،تربیت اور ایثار کی تمثیل ہے۔دیہاتی عورت وہ معاشرہ ہے جو حسنِ ظن،رحم اور امید کےسہارے ہر وجود کو سنوارنے کی کوشش کرتاہے،مگر بعض اوقات تلخ حقیقت سے دوچار ہو جاتا ہے۔

یہ تمثیل ہمیں بتاتی ہے کہ تربیت بلاشبہ اہم ہے،مگروہ اس وقت بارآور ہوتی ہے جب فطرت میں قبولیت کی استعداد موجود ہو۔اگرکسی وجود کی بنیاد ہی درندگی،خودغرضی یا فساد پراستوارہوتو محض اچھا ماحول،بہترین تعلیم اور اعلیٰ نصیحتیں بھی اس کی سرشت کو مکمل طور پر بدلنے سے قاصر رہتی ہیں۔

تاریخِ انسانی کاغیرجانب دارمطالعہ اس حقیقت کو پوری وضاحت کے ساتھ آشکارکرتاہے کہ محض اعلیٰ تعلیم،شاندارتربیتی ادارے اور مثالی مواقع کسی فردیا گروہ کےاخلاقی معیارکی ضمانت نہیں بن سکتے،ہمیں بارہا ایسے افراد اور اقوام سے سابقہ پڑتا ہے جنہیں فکر و نظر کی آبیاری کے لیے بہترین نظامِ تعلیم میسر آیا، جن کےسامنےاخلاقی اقدارکے روشن نمونے رکھے گئے اورجنہیں ترقی و کامیابی کےبے شمارمواقع عطاکیے گئے،مگراس کے باوجود ان کے عملی کردارسے ظلم،خیانت اور فساد ہی کی بو آتی رہی۔ان کے رویّوں میں نفرت اورعداوت،حسد اورکینہ، بغض اوردشمنی اس شدت کے ساتھ جلوہ گر ہوئی کہ تمام تر تعلیمی و تہذیبی دعوے بے معنی ہو کر رہ گئے۔

یہ صورتِ حال اس امر کی دلیل ہے کہ جب انسان کی باطنی ساخت کم ظرفی،تنگ نظری اوراخلاقی پستی پرقائم ہوتوخارجی اصلاح کے تمام وسائل اپنی تاثیرکھودیتے ہیں،ایسے لوگ بظاہر شائستگی، علم اور تہذیب کالبادہ اوڑھے رہتے ہیں،مگر موقع ملتے ہی ان کی اصل سرشت آشکار ہوجاتی ہے۔ان کےاعمال میں اعلیٰ اقدارکی پاسداری کے بجائے ذاتی مفاد،انتقام اورخود غرضی کارفرما ہوتی ہے،اوران کاعلم محض ذہنی چالاکی کاذریعہ بن کررہ جاتا ہے، کردارسازی کاوسیلہ نہیں بنتا۔

اسی طرح تاریخ ہمیں یہ بھی بتاتی ہےکہ کم ظرف اوراخلاقی طور پر پست ذہنیت رکھنے والے افراد اور گروہ،خواہ کسی بھی طبقہ یاماحول سے تعلق رکھتے ہوں،بالآخر اپنے اندرونی تعفن کا اظہار کرہی دیتے ہیں۔ان کے یہاں حسد تعاون کو، عداوت اخوَّت کو اور بغض انصاف کو نگل لیتا ہے۔چنانچہ یہ حقیقت ایک مسلمہ اصول کی صورت اختیار کر لیتی ہے کہ اخلاقی پستی کا تعلق مواقع کی کمی یا تعلیم کی قلت سے نہیں، بلکہ انسانی فطرت کی خرابی سے ہوتا ہے۔ جب فطرت ہی آلودہ ہو تو نہ علم کی روشنی دل کو منور کر سکتی ہے اورنہ تہذیب کاخول باطن کی سیاہی کو چھپا سکتا ہے۔

اس حقیقت کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ تربیت بےمعنی ہے یااخلاقی تعلیم لاحاصل ہے۔درحقیقت یہ تمثیل ہمیں توازن کاسبق دیتی ہے۔انسان کو پرکھنے میں محض اس کے ظاہر،اس کےدعووں یااس پرکیےگئے احسانات کومعیارنہیں بناناچاہیے،بلکہ اس کی فطری میلانات،اسکےعملی رویے اور اسکے باطنی رجحانات کو بھی پیشِ نظررکھنا چاہیے۔اندھی امید اور غیر مشروط اعتماداکثراجتماعی نقصان کاسبب بنتاہے،جیسا کہ دیہاتی عورت کے ساتھ ہوا۔

معاشرتی سطح پر یہ حکایت ہمیں اس امر کی طرف متوجہ کرتی ہے کہ ہرفرداصلاح کے یکساں درجہ کااہل نہیں ہوتا۔بعض لوگ نصیحت کو قبول کرتےہیں اوراپنی خامیوں پر قابوپالیتے ہیں،جبکہ بعض اپنی اصل فطرت کے ہاتھوں مجبور رہتے ہیں۔ ایسی صورت میں دانشمندی کاتقاضا یہ ہے کہ اصلاح اور احتیاط دونوں کوساتھ لےکرچلاجائے۔نہ توہرایک کو ناقابلِ اصلاح سمجھ کرترک کر دیا جائے اور نہ ہی ہرایک پراس قدر بھروسا کیا جائے کہ انجام کار نقصان ہی مقدر بنے۔

ادبی اعتبار سے یہ اشعارنہایت جامع ہیں۔صرف تین اشعار میں انسانی نفسیات،اخلاقی فلسفے اور سماجی تجربے کواس طرح سمیٹ دیا گیا ہے کہ صدیاں گزرنے کے باوجود ان کی معنویت کم نہیں ہوئی۔ یہی عظیم ادب کی پہچان ہے کہ وہ زمان و مکان کی قید سے آزاد ہو کر ہر دور کے انسان سے مخاطب ہوتا ہے۔

آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ اس حکایت اوراشعار کا پیغام مایوسی نہیں بلکہ بصیرت ہے۔یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ رحم،محبت اورتربیت کے ساتھ ساتھ حقیقت پسندی،فہمِ فطرت اور دانشمندانہ احتیاط بھی ضروری ہے۔جب ہم انسان اور معاشرہ کو اس متوازن نگاہ سے دیکھیں گے تو نہ صرف انفرادی فیصلے بہتر ہوں گے بلکہ اجتماعی زندگی بھی زیادہ محفوظ،منصفانہ اورپائدار بن سکے گی۔

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔