✍️شان محمد ندوی
ـــــــــــــــــــــــــــ
تمہید
جدید تعلیمی نظام میں "رٹا ماری” یا روایتی طریقہ تدریس کی جگہ اب ایسے طریقوں نے لے لی ہے جو طالب علم کی ذہنی صلاحیتوں کو جلا بخشتے ہیں۔ ان میں سب سے اہم انکوائری پر مبنی سیکھنے کا عمل (Inquiry-based Learning) ہے۔ یہ ایک ایسا طریقہ کار ہے جس میں سیکھنے کا مرکز استاد کے بجائے طالب علم ہوتا ہے۔ اس عمل میں طالب علم محض معلومات کا وصول کنندہ نہیں ہوتا، بلکہ وہ سوالات اٹھا کر اور خود جوابات تلاش کر کے علم تخلیق کرتا ہے۔
انکوائری پر مبنی سیکھنے کے چار درجات
تعلیمی ماہرین نے اس نظام کو چار مختلف سطحوں میں تقسیم کیا ہے:
-
تصدیقی انکوائری (Confirmation Inquiry):
اس میں استاد سوال اور طریقہ کار دونوں فراہم کرتا ہے تاکہ طالب علم کسی پہلے سے معلوم نتیجے کی تصدیق کر سکے۔
-
منظم انکوائری (Structured Inquiry):
استاد سوال اور طریقہ کار بتاتا ہے، لیکن طالب علم خود ڈیٹا جمع کر کے نتیجہ اخذ کرتا ہے۔
-
رہنمائی شدہ انکوائری (Guided Inquiry):
استاد صرف ایک تحقیقی سوال دیتا ہے، جبکہ طریقہ کار اور حل تلاش کرنا طالب علم کی ذمہ داری ہوتی ہے۔
-
آزادانہ انکوائری (Open Inquiry):
یہ سب سے اعلیٰ سطح ہے جہاں طالب علم خود سوال پیدا کرتا ہے اور اپنی تحقیق کا راستہ خود متعین کرتا ہے۔
اس طریقہ کار کے اہم فوائد
تنقیدی سوچ کا فروغ: جب طالب علم خود سوال پوچھتا ہے، تو اس میں چیزوں کی گہرائی تک جانے اور حقائق کو پرکھنے کی صلاحیت پیدا ہوتی ہے۔
دیرپا یادداشت: جو چیز تجربے اور تحقیق سے سیکھی جائے، وہ انسانی ذہن میں رٹے ہوئے سبق کے مقابلے میں زیادہ دیر تک نقش رہتی ہے۔
تخلیقی صلاحیتیں: یہ طریقہ بچوں کو "آؤٹ آف دی باکس” سوچنے پر مجبور کرتا ہے، جس سے ان کی چھپی ہوئی تخلیقی صلاحیتیں سامنے آتی ہیں۔
اعتماد اور ذمہ داری: اپنی تحقیق خود مکمل کرنے سے طالب علموں میں خود اعتمادی پیدا ہوتی ہے اور وہ اپنی تعلیم کی ذمہ داری خود لینا سیکھتے ہیں۔
استاد کا بدلتا ہوا کردار
اس نظام میں استاد کا کردار ایک آمرانہ معلم کا نہیں بلکہ ایک رہنما (Facilitator) کا ہوتا ہے۔ استاد کا کام کلاس میں مکمل خاموشی پیدا کرنا نہیں، بلکہ ایک ایسا ماحول بنانا ہے جہاں بچے سوال پوچھنے سے نہ کترائیں۔ استاد بچوں کو صحیح سمت دکھاتا ہے اور انہیں وسائل (کتب، انٹرنیٹ، لیبارٹری) تک رسائی میں مدد دیتا ہے۔
حاصلِ کلام
انکوائری پر مبنی سیکھنے کا عمل اکیسویں صدی کی ضرورت ہے۔ یہ نہ صرف طلبہ کو امتحان کے لیے تیار کرتا ہے بلکہ انہیں عملی زندگی کے پیچیدہ مسائل حل کرنے کے قابل بھی بناتا ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہماری آنے والی نسلیں صرف "ڈگری یافتہ” نہ ہوں بلکہ "علم یافتہ” ہوں، تو ہمیں اس تعلیمی ماڈل کو اپنے اسکولوں اور مدارس میں اپنانا ہوگا۔