از: ڈاکٹر محمد اعظم ندوی
استاذ المعہد العالی الاسلامی حیدرآباد
انسانی تعلقات کی اس پیچیدہ دنیا میں، جہاں مفادات کے دھاگے جذبات کے باریک ریشوں سے الجھ کر ایک نادیدہ جال بناتے ہیں، انسان عموماً اپنے گمان کو رہنما بنا لیتا ہے؛ وہی گمان جو کبھی تجربے کی دھوپ میں پگھل جاتا ہے اور کبھی حالات کی آندھی میں بکھر جاتا ہے، آدمی اپنی محدود عقل ودانائی کے ترازو میں لوگوں کو تولتا ہے، اپنے دل کے جھکاؤ کے مطابق کسی کو قریب کر لیتا ہے اور کسی کو دور، اس خیال پر کہ یہی شخص اس کے لیے زیادہ نفع بخش، زیادہ کارآمد اور زیادہ وفادار ثابت ہوگا، مگر زندگی، جو اپنے دامن میں حیرت واستعجاب کے لامتناہی سلسلے سمیٹے ہوتی ہے، بارہا یہ بتاتی ہے کہ انسان کے یہ اندازے ریت کی دیوار ثابت ہوتے ہیں؛ جس پر وہ بھروسہ کرتا ہے وہ کبھی سہارا نہیں بنتا، اور جہاں سے امید نہیں ہوتی وہیں سے در رحمت کھول دیا جاتا ہے، اور ایک اجنبی شخص چارہ ساز اور غمگسار بن جاتا ہے۔
اسلام سے پہلے مختلف معاشروں میں بھی یہی کیفیت تھی کہ لوگ اپنی جائیداد کی تقسیم میں ذاتی اندازوں اور ذاتی مفادات پر مبنی قیاس آرائیوں کو معیار بناتے تھے؛ جس سے فائدہ متوقع ہوتا، اسے زیادہ دیا جاتا، اور جس سے امید کم ہوتی، اسے محروم کر دیا جاتا، اس طرز فکر میں نہ کوئی توازن تھا نہ کوئی عدل، بلکہ یہ انسانی خواہشات اور وقتی مفادات کا کھیل تھا، قرآن مجید نے آ کر اس غیر منضبط نظام کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا، اور میراث کو ایسے اٹل اصولوں سے وابستہ کر دیا جو نہ زمانے کے ساتھ بدلتے ہیں اور نہ انسان کی خواہشات کے تابع ہوتے ہیں؛ یعنی رشتۂ پدریت، نسبت فرزندی، زوجیت اور قرابت کے وہ مضبوط بندھن جو انسانی وجود کا حصہ ہیں، نہ کہ وقتی مفاد کی پیداوار۔
اسی تناظر میں قرآن کی وہ مختصر مگر معنوی لحاظ سے بے انتہا گہری آیت غور وفکر کی دعوت دیتی ہے: ﴿ءَابَاۤؤُكُمۡ وَأَبۡنَاۤؤُكُمۡ لَا تَدۡرُونَ أَیُّهُمۡ أَقۡرَبُ لَكُمۡ نَفۡعࣰاۚ﴾ (النساء:11)۔ یہ الفاظ محض میراث کے ایک قانونی حکم کی توضیح نہیں، بلکہ انسانی شعور کو جھنجھوڑ دینے والا ایک اصول ہے، ایک ایسا اصول جو انسان کو اس کی علمی محدودیت کا آئینہ دکھاتا ہے، تم نہیں جانتے کہ تمہارے لیے زیادہ نفع بخش کون ہے—تمہارے باپ یا تمہاری اولاد—یہ اعلان دراصل اس خام خیالی کے طلسم کو توڑ دیتا ہے جس میں انسان اپنے فیصلوں کو قطعی اور اپنے اندازوں کو یقینی سمجھنے لگتا ہے۔
معاصر مفسرین نے بھی اس حقیقت کو مختلف زاویوں سے واضح کیا ہے، سید قطب شہید اس انسانی کشمکش کو بڑی لطافت سے بیان کرتے ہیں کہ کبھی انسان اپنی فطری کمزوری کے باعث اولاد کو ترجیح دیتا ہے، کیونکہ اس کے اندر ان کے لیے نرم گوشہ زیادہ ہوتا ہے؛ اور کبھی اخلاقی احساس اسے والدین کی طرف جھکا دیتا ہے؛ اور کبھی وہ ان دونوں کے درمیان معلق رہتا ہے، نہ ادھر کا ہوتا ہے نہ ادھر کا، اسی طرح معاشرتی روایات بھی انسان پر دباؤ ڈالتی ہیں اور اسے مخصوص سمت میں لے جاتی ہیں، ایسے میں اللہ تعالیٰ انسان کے دل میں تسلیم ورضا کی وہ کیفیت پیدا کرنا چاہتے ہیں جو اسے اس حقیقت کا ادراک دے کہ علم کامل صرف اللہ کے پاس ہے، اور انسان کے تمام اندازے محض قیاس ہیں۔
ابن عاشور اس آیت کے ذریعے جاہلی معیار کی کمزوری کو بے نقاب کرتے ہیں، وہ واضح کرتے ہیں کہ انسان کو ہمیشہ ایک ہی قسم کی ضرورت پیش نہیں آتی؛ کبھی اسے والدین کی حاجت ہوتی ہے، کبھی اولاد کی، اور کبھی کسی کی نہیں، حالات بدلتے رہتے ہیں، ضروریات کا رخ بدلتا رہتا ہے، اور انسان کی زندگی ایک ہی سانچے میں نہیں ڈھلتی، ایسے میں کسی ایک مفروضے پر اعتماد کر کے فیصلے کرنا گویا اندھیرے میں تیر چلانے کے مترادف ہے، اس لیے شریعت نے میراث کو ایسے اصولوں سے وابستہ کیا جو تغیر سے ماورا ہیں، تاکہ انصاف قائم رہے اور انسانی خواہشات اس میں دخل نہ دے سکیں۔
یہ آیت دراصل ایک ہمہ گیر حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ انسان کو نہ اپنے مستقبل کا پورا علم ہے اور نہ اپنے تعلقات واختلاط کے انجام کا، جس بیٹے کو آج بے کار سمجھا جا رہا ہے، وہی کل بڑھاپے کا سہارا بن سکتا ہے؛ اور جس رشتہ دار سے بڑی امیدیں وابستہ ہیں، وہی وقت آنے پر ساتھ چھوڑ سکتا ہے، نفع کی صورتیں بھی یکساں نہیں ہوتیں؛ کبھی وہ مادی ہوتی ہیں، کبھی جذباتی، کبھی روحانی، اور کبھی محض ایک دعا کی شکل میں انسان کی زندگی بدل دیتی ہیں۔
اسی حقیقت کا عکس ہمیں خاندانی اور سماجی زندگی میں بارہا نظر آتا ہے، انسان کبھی بیوی کو والدین پر ترجیح دیتا ہے یا والدین کو شریک حیات پر، اس خیال میں کہ یہی تعلق زیادہ پائیدار اور فائدہ مند ہے؛ مگر وقت کے ساتھ جب حالات کروٹ لیتے ہیں، تو وہی فیصلے سوال بن جاتے ہیں، کبھی ازدواجی تعلقات میں دراڑ پڑ جاتی ہے، کبھی جدائی کی نوبت آ جاتی ہے، اور تب احساس ہوتا ہے کہ جن رشتوں کو نظر انداز کیا گیا تھا وہی زیادہ مخلص، زیادہ قریب اور زیادہ نفع بخش تھے۔
یہ معاملہ صرف خاندانی دائرے تک محدود نہیں رہتا، بلکہ دوستی اور سماجی روابط تک پھیل جاتا ہے، انسان کبھی کسی دوست کو "رفیق جاں” سمجھ کر اس پر اعتماد کی انتہا کر دیتا ہے اور اپنے قریبی رشتہ داروں کو پس پشت ڈال دیتا ہے؛ اور کبھی اس کے برعکس، محض قرابت کی بنیاد پر کسی کو فوقیت دیتا ہے اور حقیقی مخلص لوگوں کو نظر انداز کر دیتا ہے، لیکن وقت، جو ہر حقیقت کو بے نقاب کرنے کی قدرت رکھتا ہے، بالآخر یہ ثابت کر دیتا ہے کہ یہ ترجیحات اکثر ناقص اندازوں پر مبنی تھیں۔
قرآن کا اسلوب یہاں نہایت حکیمانہ ہے؛ وہ انسان کو یہ نہیں کہتا کہ تعلقات ختم کر دو یا کسی سے توقع نہ رکھو، بلکہ وہ معیار بدل دیتا ہے، وہ کہتا ہے کہ تعلقات کو مفاد کے پیمانے سے نہ ناپو، بلکہ حق اور ذمہ داری کے اصول پر قائم کرو، صلہ رحمی، حسن سلوک اور قرابت سے متعلق حقوق اس لیے ادا کرو کہ یہ تم پر لازم ہیں، نہ کہ اس لیے کہ تمہیں ان سے کوئی فوری فائدہ حاصل ہوگا، یہی وہ زاویۂ نگاہ ہے جو انسان کو تعلقات کی تجارت سے نکال کر اسے عبادت کے درجے تک لے جاتا ہے۔
یہ آیت انسان کے اندر ایک تربیتی انقلاب بھی برپا کرتی ہے، وہ اسے سکھاتی ہے کہ اپنے علم پر غرور نہ کرے، اپنے اندازوں کو حتمی نہ سمجھے، اور اپنی ترجیحات کو مطلق نہ جانے، زندگی کے فیصلے کرتے وقت عاجزی اختیار کرے، اور یہ مان لے کہ حقیقت کے تمام پہلو اس کی نگاہ میں نہیں آ سکتے، بہت سی بھلائیاں ایسی ہوتی ہیں جو ابتدا میں نقصان دہ محسوس ہوتی ہیں، اور بہت سے فائدے ایسے ہوتے ہیں جو بعد میں نقصان میں بدل جاتے ہیں۔
اسی لیے آیت کا اختتام ان الفاظ پر ہوتا ہے: ﴿إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ عَلِیمًا حَكِیمࣰا﴾—گویا یہ اعلان کہ علم کامل بھی اسی کے پاس ہے اور حکمت بالغہ بھی اسی کی صفت ہے، انسان کے لیے اطمینان کا اصل سرچشمہ یہی ہے کہ وہ اپنے رب کے فیصلوں پر اعتماد کرے، اس کے مقرر کردہ نظام کو قبول کرے، اور اپنے محدود علم کے باوجود اس کی حکمت پر یقین رکھے۔
بالآخر یہی حقیقت ابھر کر سامنے آتی ہے کہ انسان کا کام حساب لگانا نہیں، بلکہ حق ادا کرنا ہے؛ اس کا فریضہ یہ نہیں کہ وہ ہر تعلق کو نفع کے ترازو میں تولے، بلکہ یہ ہے کہ وہ ہر رشتے کے ساتھ انصاف کرے؛ کیونکہ جو نفع انسان اپنے ذہن میں تراشتا ہے وہ اکثر سراب ثابت ہوتا ہے، اور جو خیر اللہ اس کے لیے مقدر کرتا ہے وہی حقیقی اور پائیدار ہوتا ہے، چنانچہ دانشمندی اسی میں ہے کہ انسان اپنے گمان کے بجائے اللہ کے علم پر بھروسہ کرے، اپنی ترجیحات کو خواہش کے بجائے شریعت کے تابع کرے، اور یہ یقین رکھے کہ خیر کا اصل منبع وہی انتخاب ہے جو اللہ انسان کے لیے کرتا ہے، نہ کہ وہ راستہ جو انسان اپنی محدود بصیرت سے چن لیتا ہے۔