سیل رواں ڈیسک: عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران کے اعلیٰ سطحی وفد، جس کی قیادت پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی کر رہے ہیں، پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد پہنچ چکے ہیں، جبکہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس بھی مذاکرات کے لیے روانہ ہیں۔
جنگ بندی کے بعد مذاکرات
امریکہ اور ایران کے درمیان تقریباً چھ ہفتوں تک جاری رہنے والی کشیدگی کے بعد ایک عارضی جنگ بندی ہوئی ہے، جسے اب مستقل امن معاہدے میں تبدیل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
یہ مذاکرات پاکستان کی ثالثی میں ہو رہے ہیں، جہاں وزیر اعظم شہباز شریف اور دیگر حکام نے دونوں ممالک کو بات چیت کی میز پر لانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
اہم نکات اور اختلافات
مذاکرات میں کئی بڑے مسائل زیر بحث ہیں، جن میں شامل ہیں:
- آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) کی بحالی، جسے ایران نے بند کر رکھا ہے اور جس سے عالمی تیل کی ترسیل متاثر ہوئی ہے
- ایران کا ایٹمی پروگرام اور افزودہ یورینیم کا معاملہ
- ایران پر عائد پابندیاں ختم کرنے کا مطالبہ
- لبنان میں جاری تنازع اور اسرائیلی حملوں پر اختلاف
امریکہ چاہتا ہے کہ ایران یورینیم کی افزودگی بند کرے اور اپنے میزائل پروگرام کو محدود کرے، جبکہ ایران کا مؤقف ہے کہ پابندیاں ہٹائی جائیں اور اس کے اثاثے بحال کیے جائیں۔
ایران کی شرائط
ایران نے مذاکرات سے پہلے کچھ شرائط رکھی ہیں، جن میں شامل ہیں:
- امریکہ ایران کے منجمد اثاثے جاری کرے
- لبنان میں جنگ بندی کو یقینی بنایا جائے
- خطے میں امریکی و اتحادی کارروائیاں روکی جائیں۔
امریکی مؤقف
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ اگر ایران سنجیدگی سے بات چیت کرے تو امریکہ بھی مثبت رویہ اختیار کرے گا، لیکن کسی دھوکے کی صورت میں سخت ردعمل دیا جا سکتا ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کو ہر حال میں کھولا جائے گا، چاہے ایران اس پر رضامند ہو یا نہ ہو۔
مذاکرات کی اہمیت
یہ 1979 کے بعد امریکہ اور ایران کے درمیان سب سے اہم براہ راست سفارتی رابطہ سمجھا جا رہا ہے اور اس کی کامیابی یا ناکامی نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ عالمی معیشت پر بھی گہرے اثرات ڈال سکتی ہے۔
اسلام آباد میں ہونے والے یہ مذاکرات ایک نازک مرحلے پر ہیں۔ اگر دونوں فریق اپنے اختلافات کم کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو خطے میں امن کی راہ ہموار ہو سکتی ہے، ورنہ جنگ دوبارہ بھڑکنے کا خدشہ برقرار ہے۔