ایران-امریکہ جنگ: ٹرمپ کا 15 نکاتی منصوبہ، ایران کی سخت شرائط، بحران کے خاتمے پر سوالات

مشرقِ وسطیٰ میں جاری ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کے خاتمے کے لیے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پیش کردہ 15 نکاتی امن منصوبہ پیچیدگیوں کا شکار ہو گیا ہے، کیونکہ ایران نے اس منصوبے کو مسترد کرتے ہوئے اپنی سخت شرائط پیش کر دی ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکہ نے جنگ کے خاتمے کے لیے ایک جامع 15 نکاتی تجویز ایران کو بالواسطہ ذرائع کے ذریعے ارسال کی، جس میں ایران کے جوہری پروگرام پر سخت پابندیاں، افزودہ یورینیم کے خاتمے، بیلسٹک میزائل پروگرام میں کمی اور خطے میں مسلح گروہوں کی حمایت ترک کرنے جیسے مطالبات شامل تھے۔ اس کے بدلے میں ایران کو پابندیوں میں نرمی اور کچھ اقتصادی مراعات دینے کی پیشکش کی گئی تھی۔

اس منصوبے میں ایک عارضی جنگ بندی اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے جیسے نکات بھی شامل تھے، تاکہ عالمی توانائی کی ترسیل معمول پر آ سکے۔

تاہم ایرانی قیادت نے اس منصوبے کو “یک طرفہ اور حد سے زیادہ مطالبات پر مبنی” قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ جنگ کا خاتمہ صرف ایران کی شرائط اور ٹائم لائن کے مطابق ہی ممکن ہوگا۔

ایران نے اس کے جواب میں اپنی چند اہم شرائط پیش کی ہیں، جن میں امریکی اور اتحادی حملوں کا مکمل خاتمہ، نقصانات کا ازالہ، خطے میں امریکی فوجی موجودگی کا خاتمہ، اور آبنائے ہرمز پر خودمختاری کا مطالبہ شامل بتایا جا رہا ہے۔

دونوں ممالک کے درمیان اس شدید اختلاف نے سفارتی کوششوں کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ اگرچہ پاکستان، مصر اور ترکی جیسے ممالک ثالثی کی کوششوں میں مصروف ہیں، لیکن تاحال کسی حتمی پیش رفت کے آثار واضح نہیں ہیں۔

ادھر وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ مذاکرات ابھی جاری ہیں اور انہیں مکمل طور پر ناکام قرار نہیں دیا جا سکتا، تاہم ماہرین کے مطابق فریقین کے مؤقف میں واضح خلیج کے باعث فوری طور پر کسی سمجھوتے کا امکان کم دکھائی دیتا ہے۔

موجودہ صورتحال میں خطے میں کشیدگی برقرار ہے اور عالمی برادری کی نظریں ان مذاکرات پر جمی ہوئی ہیں کہ آیا یہ بحران کسی پرامن حل کی طرف بڑھتا ہے یا مزید شدت اختیار کرتا ہے۔

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔