عشق حقیقی حیاتِ قلب عشق مجازی موتِ دل

✍🏻 محمد عادل ارریاوی

_______________________

محترم قارئین! دلِ انسانی کی سب سے گہری اور طاقتور کیفیت عشق ہے یہی عشق اگر اپنی اصل پہچان لے لے تو انسان کو عرش تک پہنچا دیتا ہے اور اگر راہ سے بھٹک جائے تو اسے فرش پر بھی رسوا کر دیتا ہے تاریخِ انسانی گواہ ہے کہ عشق نے کبھی بندگی سکھائی ہے اور کبھی بندوں کا غلام بنا دیا ہے اسی لیے اہل علم نے عشق کو دو نام دیے عشق حقیقی اور عشق مجازی عشق حقیقی وہ نور ہے جو دل کو رب سے جوڑ کر زندگی کو مقصد سکون اور نجات عطا کرتا ہے جبکہ عشق مجازی وہ فتنہ ہے جو خواہشات کی زنجیروں میں جکڑ کر انسان کو وقتی لذت اور دائمی حسرت کے سوا کچھ نہیں دیتا ان دونوں کے اثرات نتائج اور انجام ایک دوسرے سے بالکل متضاد ہیں اب عشق مجازی اور عشق حقیقی کسے کہتے ہیں اس مضمون کو مکمل پڑھیں تاکہ آپ پہچان سکے کہ کون سا عشق حیات بخشتا ہے اور کون سا عشق ہلاکت کی طرف لے جاتا ہے۔

  • عشق حقیقی جائز اور عبادت ہے جبکہ عشق مجازی نا جائز اور گناہ ہے
  • عشق حقیقی سے دین اور دنیا آباد جبکہ عشق مجازی سے دین و دنیا بر باد ہوتی ہے۔
  • عشق حقیقی سے ایک نہ ایک دن وصل نصیب ہو گا جبکہ عشق مجازی میں ایک نہ ایک دن محبوب سے جدائی ہوگی۔
  • عشق حقیقی سے دل منور ہوتا ہے جبکہ عشق مجازی سے دل سیاہ ہوتا ہے۔
  • عشق حقیقی سے دل زندہ ہوتا ہے جبکہ عشق مجازی سے دل مردہ ہوتا ہے۔
  • عشق حقیقی سے عزت ملتی ہے جبکہ عشق مجازی سے ذلت ملتی ہے۔
  • عشق حقیقی کا جوش دائمی ہوتا ہے جبکہ عشق مجازی کا اُبال وقتی ہوتا ہے۔
  • عشق حقیقی والوں کا ٹھکانہ جنت ہے جبکہ عشق مجازی والوں کا ٹھکانہ جہنم ہوتا ہے۔
  • عشق حقیقی کی راہ میں ہر پریشانی راحت ہے جبکہ عشق مجازی میں ہر پریشانی عذاب ہے۔
  • عشق حقیقی والوں کے چہروں پر بہار کی تازگی ہوتی ہے جبکہ عشق مجازی والوں کے چہروں پر خزاں کی بے رونقی ہوتی ہے۔
  • عشق مجازی والے موت اور زندگی میں ہوتے ہیں جبکہ عشق حقیقی والے جیتے جاگتے جنت کی زندگی گزارتے ہیں ۔ حضرت شاہ حکیم اختر صاحب رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ عشق مجازی قہر الٰہی ہے ۔

یقین کریں موجودہ دور کے بعض رویّے دل کو رنج و الم پہنچاتے ہیں یہ دیکھ کر ہمیں بےحد افسوس ہوتا ہے کہ معاشرے میں بہت سے لوگ عشقِ مجازی میں اس حد تک مبتلا نظر آتے ہیں کہ ان کی توجہ زندگی کی اصل قدروں سے ہٹ جاتی ہے یہ طریقہ صرف ناسمنھ نا اہل یا کم تعلیمی تک محدود نہیں رہی بلکہ پڑھے لکھے اور بظاہر باشعور افراد بھی اس کا شکار دکھائی دیتے ہیں جب ایسے لوگوں کو خیرخواہی کے جذبے سے سمجھانے کی کوشش کی جائے تو وہ اکثر نصیحت کو قبول کرنے کے بجائے اُلٹا نصیحت کرنے والے ہی کو غلط ٹھہرا دیتے ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ جب انسان عشق مجازی میں گرفتار ہو جاتا ہے تو اس کی سوچ دھندلا جاتی ہے عقل پر پردہ پڑ جاتا ہے اور وہ صحیح و غلط میں امتیاز کھو بیٹھتا ہے اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وہ والدین جیسے عظیم رشتوں کی بات بھی نظر انداز کرنے لگتا ہے جو کہ نہایت افسوسناک اور تشویشناک امر ہے ہمیں اللہ ربّ العزت سے دعا کرنی چاہیے کہ وہ ایسے لوگوں کو ہدایت عطا فرمائے یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ عشق مجازی میں وقتی کشش تو ہو سکتی ہے مگر اس میں نہ حقیقی سکون ہے اور نہ دائمی اطمینان شریعتِ اسلامیہ میں اس کی کوئی گنجائش نہیں بلکہ یہ ایک ایسا رواج ہے جو ہماری دینی اور اخلاقی اقدار سے ہم آہنگ نہیں اسلام نے محبت اور تعلق کے لیے جو پاکیزہ اور حلال راستہ متعین فرمایا ہے وہی انسان کے لیے باعثِ خیر اور ذریعۂ سکون ہے۔ عورت تک پہنچنے کیلئے صرف نکاح کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے لہٰذا ضروری ہے کہ ہم خود کو پہچانیں اپنی اقدار کو سمجھیں اور جذبات کے بجائے عقل و شریعت کی روشنی میں فیصلے کریں اسی میں دنیا و آخرت کی بھلائی اور حقیقی کامیابی پوشیدہ ہے۔

اے اللہ ربّ العزت ہمارے دل کو عشق حقیقی کی پہچان عطا فرما اور عشق مجازی کے فتنوں سے محفوظ رکھ آمین یارب العالمین

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔